میں کس کے ہاتھ پراپنا لہو تلاش کروں؟

خود کلامی

30 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عائشہ جہانزیب
ہر   روز میں بازاروں میں گھسیٹاجاتاہوں۔ ہر شام شامِ غریباں ہوتی ہے۔ ہر صبح نئی صف ِماتم بچھتی  ہے۔ زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔
ایک دنیا میری لاش پر افسوس منانے آتی ہے۔ کچھ  لوگ تصویر بنا کرچلے جاتے اورکچھ لوگ چشمے پہن کر افسوس کر کے چلتے بنتے ہیں۔ کچھ روز میرا نام ہر سَمت گونج اٹھتا ہے اور پھر ایک دم سب ہی بھول جاتے ہیں۔ کیا میں اس قوم کی بچہ نہیں؟ کیا میں اس مٹی سے جُڑا ہوا نہیں؟ کیا ہے میری شناخت؟ کیا تمہیں میرے لہو کی بو نہیں آتی؟ کیا میری چیخیں ایوانوں کے ستون نہیں ہلاتیں؟ کیا تم کو میرے ادھورے خواب نہیں ستاتے؟ 
ہر روپ میں مَرا ہوں میں۔ کبھی لڑکی بن کر تو کبھی لڑکے کےروپ میں۔ہر گلی سے اٹھایا گیا ہوں میں۔ ہر نالی سے ملی ہے میری لاش۔ اس سَر زمین میں کوئی ایسا کونہ نہیں ہے جس میں چھپ جاؤں میں، جہاں بچ جاؤں میں۔ 
یوں لگتا ہے کہ سارا جہاں مل کر میری ہی تاک میں لگ گیا ہو، مجھے ہی مٹانے کے لیے کوشاں ہو۔ کبھی اندھیروں تو کبھی اُجالوں میں جلا ہوں میں، مجھے  ہر ہاتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ کوئی چہر ہ مسکراتا نظر آتا ہے تو کوئی غصّہ دکھاتا ہے۔ کوئی تلوار سے کاٹ ڈالتا ہے تو کوئی آگ میں جلاتا ہے۔ ہمارے حق کی بات کوئی نہیں کرتا۔
زینب قتل کیس میں بھی انتظامیہ اس وقت متحرک ہوئی تھی جب قصور میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔
ہر طرح میرا استحصال ہی ہورہا ہے، کیا میرا یہی انجام ہے؟ میں ہر بار برے لوگوں کے ہاتھ ہی کیوں لگتا ہوں؟ کبھی جنسی ہراساں کیا جاتا ہوں، کبھی ماسٹر کے ڈنڈے کھا کر اپاہج ہوا ہوں، کبھی ماں باپ سے دوری پر درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ کبھی خاندان کی عزت میرے لہو نے بچائی ہے اور اُس پر ظلم یہ کہ اس معصوم کی زبان سے ڈر گئے تھے، ڈر گئے کہ یہ  سچ بول دے گا، اس لیے مار ڈالا تھا۔  
کسی کے ماں باپ حج پر گئے اور واپسی پر میں نہ تھا کوئی ہمسایے سے پیسے لینے گیا تو نہ لوٹا، کوئی عزت سے روٹی کما کر گناہ گار ہوا تو کوئی مالک کی پلیٹ سے نوالہ اُٹھانے پر موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ کبھی خوب صورتی اور پُر کشش شکل میرے قتل کی وجہ بنی اور کبھی خاندانی جھگڑوں نے ڈائن بن کر مجھے ہی کھا لیا۔  
مجھے ہمیشہ ہی قربانی کا بکرا بنایا گیا، کیا میں تمہاراجزولاینفک نہیں؟ تم ہر دن میری موت کی خبریں سنتے ہو اور خاموش ہو جاتے ہو۔
تم ہر دن میری درگت ہونےکا واقعہ سن کر بھی خاموش ہو جاتے ہو۔
میں انصاف کےترازو سے بھی مل کر آیا ہوں، میں نے انصاف سے بھی پوچھا کہ بھائی کیا میرے لیے کوئی قانون نہیں ہے؟ کیا مجھے مارنے اور زندہ نوچ کھانے والوں کا سراغ کوئی نہیں لگائے گا؟ کیا ان انسانی بھیڑیوں کو کوئی کیفرے کردار تک نہیں پہنچائے گا؟ انصاف کا ترازو  پہلے تو خاموش رہا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کہ میں پشیماں ہوں اے بنی آدم! میں تمہیں انصاف کے سائے تلے پناہ نہ دلا پایا ہوں ،ان درندوں نے مجھے بھی خرید رکھا ہے ،قانون لونڈی ہے ان کے  ہاتھ کی، جسے یہ جب چاہیں اپنی رکھیل بنا لیں۔انصاف کا ملنا قریب قریب نا ممکن ہے اور اگر قانون موجود بھی ہے تو کوئی پاسداری  کروانے والا نہیں۔ اگر میں توازن رکھوں بھی تو کیسے رکھوں؟
کبھی جاننے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ سال کا بچہ / بچی کتنے فحش کپڑے پہن سکتے ہیں کہ جنسی درندوں کی ہوس کا شکار ہوں، کوئی بھی کمسن عمر کا بچہ / بچی کتنا اُکسا سکتا ہے کسی کے جذبات کو کہ وہ آگے بڑھ کر انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنالے اور بعد میں جلا کر یا کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے؟ 
کیسے لوگ ہو تم؟ بچوں کے روز روزمر مٹنے سے بے حس ہو چکے ہو!!! تم ان معصوموں کی آہ و پکار،اُن کی فریاد نہیں سنتے اور خود کو دھوکے میں رکھے ہو کہ تم اب بھی اک زندہ قوم ہو مگر افسوس کہ تم لوگ تو کب کے مر مٹ چکے ہو۔ ان مرے ہوؤں کی بستی میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟؟؟ 

تازہ ترین