شوپیان میں مسلح تصادم ،2جنگجو جاں بحق

سوپور میں جھڑپ ،انٹرنیٹ بند،دوطرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک+ غلام محمد
 شوپیان+سوپور// آونیرہ شوپیان میںمنگل کی صبح شروع ہوئی مسلح جھڑپ میں دو مقامی جنگجو جان بحق ہوئے جن کا تعلق انصار الغزوۃ الہند سے بتایا جارہا ہے ۔اس دوران شمالی کشمیر کے واڈورہ علاقے میں بھی فورسز اور جنگجوئوں کے مابین شام دیر گئے جھڑپ ہوئی۔ معلوم ہوا کہ فوج کی 1آر آر، سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ مشترکہ پارٹی نے جنگجوئوں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد آونیرہ گائوں کا سخت محاصرہ عمل میں لایا۔فورسز کو گائوں میں 2سے 3جنگجوئوں کے چھپے ہونے کی اطلاع موصول ہوچکی تھی جس کے بعد یہاںوسیع پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا گیا۔ پولیس نے انکائونٹر سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے دوران جونہی تلاشی پارٹی نے مشتبہ مقام کی طرف پیش قدمی شروع کی تو یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی گائوں میںجھڑپ شروع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کی ابتدائی کارروائی کے دوران دو جنگجو جان بحق ہوئے۔ اس ددران پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پے بتایا کہ مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت سیار احمد بٹ ولد ثناء اللہ ساکن مانچھواہ کولگام اور شاکر احمد وگے ساکن آونیرہ شوپیان کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس افسر کے بقول مارے گئے دونوں جنگجوئوں کا تعلق انصار غزوۃ الہند سے ہے ، جو پولیس و فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ دریں اثنا جموں وکشمیر پولیس نے مارے گئے جنگجوئوں سے متعلق باضابطہ جاری بیان میں کہا کہ دونوں جنگجو دولت اسلامیہ کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوئے تھے۔
پولیس کے بقول آونیرہ شوپیان میں مارے گئے دونوں جنگجو دولت اسلامیہ کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں جنگجو آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھے جو کئی جرائم میں پولیس و فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں پر ظلم و جبر روا رکھنے میں ملوث رہے ہیں۔ ادھر پولیس ریکارڈ میں مارے گئے دونوں جنگجوئوں سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ جنگجوئوں کے اُس گروپ سے منسلک رہے ہیں جنہوں نے فورسز اور عام شہریوں پر حملوں کی سازش رچی اور ان کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔پولیس ترجمان کے بقول شاکر وگے نامی جنگجو زینہ پورہ شوپیان کے عرفان حمید شیخ کی ہلاکت میں ملوث رہا ہیں جس کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 25/2019درج ہے۔ترجمان کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں کے قبضے سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا ہے۔
ادھر گائوں میں جھڑپ شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل کردیا ۔ ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کے آبائی علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔دریں اثناء شمالی کشمیر کے واڈورہ پائین سوپور میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین منگل کی شام کو شروع ہوئی جھڑپ میں اب تک ایک جنگجو کے جان بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔تفصیلات کے مطابقسوپور کے واڈورہ گائوں کے کئی گھنٹوں کے محاصرے کے بعد فورسزاور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔اطلاعات کے مطابق فوج کی22رازٹریہ رائفلز،سی آر پی ایف اور سپیشل آپریشن گروپ کے مشترکہ ٹیم نے واڈورہ گائوں کامنگلوارصبح محاصرہ کیا۔دن بھر کے محاصرے کے بعد فورسزکی مشرکہ ٹیم نے تلاشی مہم میں تیزی لائی اور مشتبہ مکان کی طرف کچھ گولیاں داغیں ،وہاں چھپے جنگجوئوں نے جواب میں فورسزپر گولیاں چلائیں جس کے بعد طرفین میں جھڑپ شروع ہوئی ۔ ایس ایس پی سوپور نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ جنگجوئوں کے ساتھ رابطہ قائم کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کچھ جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد محاصرہ اورگھرگھرتلاشی مہم شروع کی گئی ۔آخری اطلاع ملنے تک طرفین کے درمیان گولیوں کاتبادلہ جاری تھا۔
 

تازہ ترین