تازہ ترین

مزید خبرں

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

تعلیمی اداروں میں نشیلی ادویات کا بڑھتا ہوا رحجان 

مینڈھر کی پولیس اور سیول انتظامیہ سے مثبت رول ادا کرنے کا مطالبہ

جاوید اقبال 
 
مینڈھر//مینڈھر کی عوام نے پولیس اور سیول انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہاکہ مینڈھر کے تعلیمی اداروں میں نشیلی ادویات کے استعمال کا رحجان لگا تار بڑھتا جارہا ہے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ خطہ پیر پنچال میں اس وقت منیات کی جانب نوجوانوں کا رحجان پڑھتا ہی جارہا ہے جوکہ انتظامیہ بالخصوص پولیس کیلئے سنجیدہ نوعیت کا معاملہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ خطہ پیر پنجال علاقہ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو تحصیل مینڈھر نشہ میں سب سے آگے نظر آرہی ہے اور نشیلی ادویات آہستہ آہستہ اسکولوں اور کالجوں کے اند رپہنچ چکی ہیں لیکن پولیس بے بس نظر آرہی ہے ۔کئی ذی شعور لوگوںنے پولیس اور سیول انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اس وقت تک کوئی ایسی ٹیم تشکیل نہیں دی ہے جو نشیلی ادویات پر روک لگائے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اب نشیلی ادویات کالج او راسکولوں کے اندر بھی دستک دی چکی ہے جس سے نوجوان طبقہ تباہی کے دہانے کی طرف جارہاہے ۔انکا کہنا تھاکہ مینڈھر تحصیل کے کئی گائوں جن میں چک بنولہ (نکر )چھونگاں ،کالابن ،نڑول ،بنولہ ،ڈھرانہ ،بھیرہ ،گوہلد اور اڑی کے علاوہ کئی گائوں تک نشیلی ادویات پھیل چکی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل پڑھائی اور کھیل کود کو چھوڑکر نشیلی ادویات کی طرف اپنی توجہ مرکوز کررہی ہے جس پر انتظامیہ کے علاوہ ماں باپ کا بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے مقامی پولیس انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مینڈھر میں منشیات او ر نشیلی ادویات کے استعمال کیخلاف ایک بڑہ کارروائی شروع کی جائے تاکہ نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہو نے سے بچایا جاسکے ۔ ایس ایس پی پونچھ نے کہاکہ انتظامیہ نے کئی جگہوں پر کیمپ لگا کر بچوں کو نشیلی ادویات سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہیں جبکہ اس سلسلہ میںنشیلی ادویات پر کنٹرول کرنے کیلئے ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں ۔

 

رسانہ کیس کاعدالتی فیصلہ چشم کشاء

 فیصلے نے اقلیتی طبقہ کو احساس تحفظ فراہم کیا :افتخار علی بزمی 

حسین محتشم 
 
پونچھ// کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں عدالتی فیصلے کوچشم کشاقرار د یتے ہوئے بار ایسوسی ایشن پونچھ کے صدر ایڈووکیٹ محمد زمان نے کہا کہ اگر چہ اس کیس کے سلسلے میں عدالت پر مختلف قوتوں اور عناصر کی طرف سے کافی دباؤ تھا تاہم عدالت نے کسی کی ایک بھی نہیں سنی اور تحقیقاتی عمل میں کوئی مداخلت ہونے نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تحقیقات کرنے والے دیگر اداروں نے بھی اس عمل کو احسن طریقہ سے انجام دیتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستانی قانون سب کے لئے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے بھی ہمیشہ کی طرح انصا ف کا ساتھ دیکر اقلیتی فرقے کو احساس تحفظ فراہم کیا۔موصوف نے کہا کہ اس فیصلہ کے بعد بھارت میں اقلیتی طبقوں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ان میں یہ یقین پیدا ہو گیا کہ اقلیتوں کے خلاف کسی بھی جبر وزیا دتیوں کوبرداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کا انجام بھی اس کیس کے ملزمان کی طرح ہوگا۔ سابق جنرل سیکرٹری بار ایسوسی ایشن پونچھ ایڈوکیٹ افتخار علی بزمی نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد اقلیتوں میں احساس تحفظ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کے حالیہ حالات کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی تھی کچھ لوگ بھارت کی جمہوریت اور عدلیہ پر سوال اٹھانے لگے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب رسانہ کیس کا فیصلہ عدالت عالیہ نے سنایا ہے تو یہاں کے اقلیتی طبقہ کو اب یقین آئے گا کہ بھار ت ایک جمہور ی ملک ہے جہاں رنگ،نسل اور مہذ بی بنیادوں پر کام نہیں کیا جاتابلکہ یہاں انصا ف کے تقاضوں کو پوار کرنا ایک قدیم روایت ہے۔
 

رسانہ کیس پر آئے عدالتی فیصلے کی ستائش 

محمد بشارات  
 
کوٹرنکہ //جموں و کشمیر پنچ سرپنچ ڈیمو کریٹک فورم نے گزشتہ روز پٹھا ن کورٹ کی خصوصی عدالت ی جانب سے کٹھوعہ میں پیش آء ے رسانہ کیس پر کئے گئے فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی قانون نے حیوانی سوچ رکھنے والوں کے نا پاک عزم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں ڈیمو کریٹک فورم کے چیئر مین محمد فاروق انقلابی نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کر تے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کرائم برنچ نے ایمانداری اور بہادری سے کام کر تے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ۔انہوں نے کہاکہ پٹھان کورٹ عدالت نے چھ افراد کو سزا سنا کر ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے جبکہ اس عمل سے عدالتوں کی عظمت کی بحالی کیساتھ ساتھ غریبوں کا عدالتوں پر اعتماد بھی بڑھ گیا ہے ۔موصوف نے کہاکہ حالیہ کچھ عرصہ میں ملک بھر میں چھوٹی بچیوں کی عصمت ریزی اور قتل جیسے واقعات میں اضافہ ہو ا ہے تاہم ملکی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔انہوں نے مذکورہ معاملہ میں غریبوں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے وکلاء کی جانب سے کی گئی محنت کی بھی تعریف کی ۔
 

رسانہ عصمت ریزی و قتل کیس کا فیصلہ  قابل سراہنا :مشتاق بخاری 

بختیار حسین
سرنکوٹ// نیشنل کانفرنس سنیئر لیڈر اور ریاستی سیکر یٹری سید مشتاق بخاری نے پٹھان کوٹ عدالت کی جانب سے کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس کے سنائے گئے فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ فیصلے سے ملکی عوام کو عدالیہ کے تئیں سنجیدگی اور اعتماد میں اضافہ ہو ا ہے ۔یہاں جاری ایک بیان میں این سی لیڈر نے کہاکہ معصوم بچی کیساتھ پیش آیا واقعات انتہائی افسوناک تھا تاہم اس کے بعد جس طرح سے عدالیہ نے غریب خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں دلچسپی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے جبکہ اس عمل سے ریاستی و ملکی عوام کا عدالیہ پر اعتماد اور بی زیادہ ہو ا ہے ۔انہوں نے کہاکہ واقعہ میں ملوث تمام افراد کو سخت سے سخت سزا دی جانی چائیے تاکہ آئندہ اس طرح سے معصوم بچیوں کیساتھ معاملات پیش نہ آئیں ۔
 
 

بارودی سرنگ ناکارہ  بنانے کے بعد ٹریفک بحال

پونچھ //سرحدی ضلع پونچھ کے کرشناگھاٹی علاقہ میں آئی ای ڈی ناکارہ بنانے کے بعد ٹریفک بحال کردی گئی ۔ذرائع کے مطابق منگل کی صبح کرشنا گھاٹی روڑ کو بم ناکارہ بنانے والے سکارڈ کی طرف سے آئی ای ڈی جیسی ایک شئی کو ناکارہ بنانے کے بعد ٹریفک کی آمد رفت کے لئے دوبارہ بحال کیا۔بتادیں کہ پیر کی شام کو گشت کے دوران سیکورٹی فورسز نے کرشنا گھاٹی روڑ پر ایک پل کے نزدیک ایک مشکوک سٹیل کے ڈبے کو پایا تھا جس کے بعد روڑ پر ٹریفک کی نقل وحمل کو بند کیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا منگل کی صبح بم ناکارہ بنانے والے ایک اسکارڈ نے بغیر کوئی نقصان پہنچائے اس مشکوک شئی کو ناکارہ بنایا اور بعد ازاں روڑ پر ٹریفک کی نقل وحمل کو بحال کیا گیا۔
 
 

منڈی کالج میں کشمیری زبان کو  لازمی مضمون قرار دینے کا مطالبہ 

حسین محتشم
 
پونچھ// تحصیل منڈی کے صدر مقام پر گورنمنٹ ڈگری کالج میں داخلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔جس کو لے کر اس علاقہ کے لوگ مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔سر پنچ حلقہ پنچایت منڈی مبشر حسین بانڈے نے ڈگری کالج منڈی میں بچوں کے داخلہ جاتی مراحل شروع ہونے کو ایک خوش آئند بات قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کالج میں پنجابی زبان کا مضمون لازمی مضامین میں شامل کر کے کشمیری زبان کے ساتھ اور بالخصوص یہاں کے کلچر کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا چونکہ منڈی کا بیشتر طبقہ کشمیری زبان بولتا ہے اور پنجابی زبان کے ساتھ مقامی لوگوں کا کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر جموں یونیورسٹی اور نوڈل پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اولین فرصت میں کشمیری مضمون کو لازمی مضامین کی فہرست میں شامل کیا جائے تا کہ اس مقامی زبان کوفروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجابی زبان کے مخالف نہیں ہے لیکن اس علاقہ میں اکثر لوگ کشمیر ی زبان بولتے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے مذکورہ کا لج میں کشمیر شعبہ کا ہونا لازمی ہے ۔ انہوں نے منڈی کے تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف سوسائٹی اور انجمنوں کے سربراہان سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آگے آئیں اور اس ضروری کام کو بروقت انجام دے کر اپنا تشخص بچا ئیں۔
 
 

شبیر خان کی خورشید گنائی سے ملاقات 

منجاکوٹ میں ڈگری کالج اور راجوری میں کالج برائے خواتین کے قیام کی مانگ 

سرینگر //کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر شبیر احمد خان نے ریاستی گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی سے ملاقات کرکے منجاکوٹ میں ڈگری کالج اور راجوری میں کالج برائے خواتین کے قیام کی مانگ کی ۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق شبیر خان نے گنائی سے ان کے سیول سیکریٹریٹ دفتر سرینگر میں ملاقات کرکے منجاکوٹ، راجوری اور تھنہ منڈی کے تعلیمی نظام پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔ شبیر خان نے گنائی کو بتایاکہ جہاں کئی ہائی سکولوں کا اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے وہیں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو بھی بہتر بنایاجاناچاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ تحصیل منجاکوٹ واحد ایسی تحصیل ہے جس میں کوئی ڈگری کالج نہیں جبکہ سب سے زیادہ تعلیمی ادارے اسی تحصیل میں ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ منجاکوٹ میں ستر سے اسی ہزار آبادی ہے اور اس تحصیل کا بیشتر حصہ سرحد پر واقع ہے جہاں کے طلباء کو تعلیم کے حصول میں سخت مشکلات کاسامناہے ۔انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقے کے طلباء اور طالبات کو کئی گھنٹوں کاسفر طے کرکے راجوری جاناپڑتاہے جو ہر ایک کیلئے ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بیشترطالبات اور غریب گھرانوں کے طلباء ترک تعلیم پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس روزانہ آنے جانے کا کرایہ نہیںہوتا۔شبیر خان نے کہاکہ منجاکوٹ ڈگری کالج کا مستحق ہے اور نئے ڈگری کالجوں میں منجاکوٹ کو ترجیح دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ منجاکوٹ کے لوگ کئی عرصہ سے کالج کی مانگ کررہے ہیں اور کئی مرتبہ انہوں نے احتجاج بھی کیاہے لیکن ابھی تک کالج کی منظوری نہیں ملی ۔انہوں نے کہاکہ نئے کالجوں میں منجاکوٹ کو ترجیح دی جائے اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جائیں ۔ شبیر خان نے گنائی سے یہ مانگ بھی کی کہ ضلع صدر مقام راجوری میں خواتین کا کالج قائم کیاجائے جہاں ایک بھی ایسا کالج نہیں ہے جہاں خالص خواتین پڑھائی کرسکیں ۔ انہوںنے کہاکہ کبھی راجوری کالج میں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہونے پر طالبات کو متاثر ہوناپڑتاہے اور انہیں علیحدہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ ملناچاہئے ۔ انہوں نے حلقہ انتخاب راجوری کے کچھ ہائی سکولوں کا درجہ بھی بڑھانے پر زور دیا ۔تمام باتیں سننے کے بعد ان مطالبات پر غور کرنے پر یقین دلایا۔بعد میں سابق وزیر نے کمشنر سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم سے بھی ملاقات کرکے ان کے سامنے بھی یہ مسائل اجاگر کئے ۔
 

راجوری میں عازمین حج کیلئے تربیتی پروگرام منعقد

سمت بھارگو 
 
راجوری//ضلع انتظامیہ راجوری کی جانب سے عازمین حج کیلئے تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا ۔ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری محمود اعجاز اسد کی موجودگی میں منعقد کئے گئے مذکورہ تربیتی پروگرام کے دوران عازمین کو مختلف معاملات کے بارے میں تفصیلی تربیتی فراہم کی گئی جبکہ اس تربیتی پروگرام میں مجموعی طور پر 220عازمین نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے کہا کہ عازمین حج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا ۔انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ تربیتی پروگرام عازمین کیلئے مدد گار ثابت ہو گا ۔انہوں نے عازمین سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس مقدس موقعہ پر ملکی وریاستی فلاح و بہبود اور تعمیر وترقی کیلئے دعاکریں ۔اس موقعہ پر اسسٹنٹ کمشنر محکمہ مال و دیگر آفیسران بھی موجود تھے ۔