تازہ ترین

سماجی خدمات رفاہی امور

خواتین کا کلیدی رول

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق۔۔۔ کانہامہ ،بیروہ
 یہ  اسلام کا مابہ الامتیاز ہے کہ اس نے نہ صرف فرد کو بلکہ ریاست کو بھی عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے اور حکمرانوں کو مسئول بنایا ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں۔اسلام ابتدا ہی سے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشا رہا ہے ۔اس کی کاوشیں انفرادی ، اجتماعی اور ریاستی و حکومتی سطح تک پھلی ہوئی ہیں۔اسلام میں رفاہِ عامہ اور معاشرتی فلاح و بہبود کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا یہ مذہب خود قدیم ہے یعنی یہاں رفاہی عامہ کا تصور ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور مسلمان مادی منفعتوں سے بالا تر ہوکر ہر دور میں سماجی ومعاشرتی بہبود انسانی کی خاطر مسلسل مصروف عمل رہے ہیں۔ مسلمانوں کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ۔ اس تصور نے ان کی عملی زندگی ہر معاملے مین متحر ک بنا دی تھی ۔ رفاہی کاموں اور انسانی خدمات کے سلسلے میں ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کا عملی نمونہ موجود ہے ۔آپ ﷺ انسانی خدمت کے لیے متحرک رہتے تھے ۔ جہالت کے اس دور میںبھی آپ ﷺ ہی تھے جو دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے تھے اور نوع انسانیت کی بے لوث خدمات انجام دیتے تھے ۔ حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ کا تعارف ان سنہرے اور جامع الفاظ میںکرایا :  
خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی رنج نہ دے گا ، آپﷺتو صلہ رحمی کرتے ہیں ، آپ ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، آپ ناداروں کے لیے کماتے ہیں ، آپ مہمان نوازی کرتے ہیں ، آپ حوادث کے زمانے میں متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔
  یہی ایثاراور خدمت کا جذبہ آپﷺ نے صحابہ کرام میں پیداکرکے ایک مثالی ٹیم بنا دی ۔اس عظیم کارواں اور ٹیم میں مرد اور عورت دونوں شامل تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے تربیت پاکروہ ہر معاملے میں دوسروں کو ترجیح دیتے تھے ، وہ خود بھوکے رہتے اور دوسروں کو کھانا کھلاتے ، خود تکلیف برداشت کرتے اور دوسروں کو آرام پہنچاتے تھے ۔خدمت خلق اور جذبہ ایثار صحابہ ؓ کی زندگی کا مقصد بن گیا ۔ ہر کمزور اور مظلوم کو ان سے امید پیدا ہوگئی کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم و جابر ہمارا استحصال نہیں کر سکے گا ۔ صحابہ کرام ؓ نہ صرف عدل اجتماعی کے عظیم پیکر بنے بلکہ انھوں نے اسلام کے عادلانہ نظام کو عملی طور پرقائم کیا۔اسلا م کی اشاعت اور تبلیغ میں جس طرح مردوں نے کلیدی کردار ادا کیا اسی طرح خواتین نے بھی اہم رول ادا کیا ہے ۔دور نبوت میں خواتین نے ہر سرگرمی میں حصہ لیا کرتی تھیں۔کوئی مجاہدہ تھیں تو کوئی عالمہ ، کوئی فصیح اللسان تھیں تو کوئی خطیبہ اور داعیہ ،کوئی متعدد علوم و فنون کی ماہر تھیں تو کوئی انفاق فی سبیل اللہ میںممتاز۔ آج بھی خواتین گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مختلف علم و فنون ،معیشت ،تجارت ،طب ،سیاست اور سماجی نوعیت کی سرگرمیوں میں شرعی حدود کے اندرفعال کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ 
خواتین کا مسجد سے تعلق :
       دور نبوت میں خواتین اکثر مساجد میں نماز ادا کیا کرتی تھیں ۔ان پر کوئی قدغن اور قید نہیں لگائی گئی تھیں ۔اس معاملے میں وہ بالکل آزاد تھیں اور مردوں کی طرح خواتین نے بھی مساجد کو عبادات سے آباد کیا ۔مسجد نبوی میںجس طرح مردہوتے تھے اسی طرح عورتیں بھی ہوتی تھی ۔ مرودوں اللہ کے رسول ﷺ نے واضح طور پر فرمایاکہ: لاتمنعو اماء اللہ مساجدللہ (بخاری ،کتاب الجمعہ ) یعنی اللہ کی باندیوں یعنی عورتوں کو مسجد جانے سے منع نہ کرو۔  بعد کے ادوار میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا اور مساجد کے ساتھ ان کا تعلق برقرار رہا لیکن دور جدید میں خواتین کو مساجد تعلق ایسا نہیں رہا جو پہلے تھا ،اس معاملے میں خواتین کو مسجد آنے سے نہ صرف منع کیا گیا بلکہ ان کو عملاََ روکا بھی گیا ۔خواتین کو مسجد آنامذموم عمل سمجھا جاتا ہے ۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ مغربی دانشوروں اور متجددین کو اعتراض کرنے کا موقع مل گیا، وہ برملا اس بات پر مسلمانوں پر چوٹ کرتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کے حقوق کی حق تلفی ہو رہی ہیں ۔ آج بھی اگر مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو اور پردے کا خاص اہتمام ہو تو خواتین کو مسجدمیں آنے سے نہیں روکنا چاہیے ۔دور حاضر میں خواتین کو بے شمار مصائب ،مشکلات اور مسائل درپیش ہیں ۔ ایک دوسرے کا دکھ درد باٹنا تو دور کی بات، بلکہ اب تو ایک دوسرے کے ناگفتہ بہ حالات سے بھی لوگ لا علم رہتے ہیں ۔اسی لئے سماجی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لئے بنیادی سطح پر کوششیں نہیں ہو رہی ہیں ۔ایک دوسر ے کے ساتھ اب سماجی تعلقات ختم ہوتے جارہے ہیں ۔مساجد اس تعلق سے اہم رول ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کیا جاسکیں ۔مسائل کے حل کے لئے خواتین کو مساجد سے ہی اقدامات اٹھانے چائیں ۔
خواتین کی رفاہی سرگرمیاں کار گاہِ حیات میں :
  دور نبوتؐ میںصرف مال خرچ کرنے میں،اخلاق و کردار میں ، علم و فقہ میں ، حفاظت  وتلاوت قرآن ہی میں ہی میں بلکہ شجاعت و بہادری میں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ہوا کرتی تھیں۔ خواتین نے جہادی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جہاد فی سبیل اللہ کے میدانوں میں بھی کلیدی رول ادا کیا۔ساز و سامان کی فراہمی ،زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا اور ان کو پانی پلانے کا کام خواتین ہی انجام دیتی تھیں ۔ حضرت ربیع بن معوزذ ؓ فرماتی ہیں  :
ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ جہادں شریک ہوتی تھیں اور ہم مجاہدین کو پانی پلاتیں ،ان کی خدمت کرتیں اور شہید اور زخمی ہونے والوں کو مدینہ لٹاتی تھیں ۔(بخاری ،کتاب الجہاد)
یہی صحابیہ ؓمرہم پٹی کے بارے میں فرماتی ہیں :
 ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں ۔(بخاری ،کتاب الجہاد ) 
  صحابیاتؓ میں سے ایک بے باک اور جرات مند خاتون حضرت صفیہ ؓ ہیں ۔وہ جہاں شعر وادب کے میدان میں ممتاز درجہ رکھتی تھیں، وہیں ان میں بہادری کے جوہر بھی پائے جاتے تھے۔ انہوں نے غزوۂ خندق میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ خندق میں خواتین بنی قریظ کی آبادی سے متصل ایک قلعہ میں رکھی گئی تھیں او ر ان کی حفاظت کے لئے حضرت حسان  بن ثابتؓ متعین کئے گئے تھے ۔ اس قلعہ کا نام ’’فاع ‘‘ تھا اور یہ سب سے مضبوط قلعہ تھا ۔ یہود نے جب دیکھا کہ تمام لشکر نبی کریم ﷺکے ساتھ ہے ، انہوں نے موقعے کا فائدہ اٹھا کر قلعہ پر حملہ کردیا ، ایک یہودی قلعہ پر پھاٹک تک پہنچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا ،حضرت صفیہ ؓ  نے دیکھ لیا ، اور حضرت حسان ؓسے کہا کہ اُتر کر اس کو قتل کردو ، ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو بتا دے گا لیکن حضرت حسان ؓنے بوجوہ معذرت کر لی اور کہا کہ میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا ؟ حضرت صفیہ ؓنے خیمہ کی ایک چوب اُکھاڑ لی اور اُتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا ،حضرت صفیہؓ ؓچلی آئیں اور حضرت حسان سے ؓکہا کہ ہتھیار اور کپڑے چھین لاؤ ، حسانؓ نے کہا جانے دیجئے ،مجھ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ،حضرت صفیہ ؓنے کہا اچھا جاؤ اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو تاکہ یہودی مرعوب ہوجائیں لیکن یہ خدمت حضرت صفیہ ؓہی کو انجام دینا پڑی ، یہودیوں کو یقین ہوا کہ قلعہ میں بھی کچھ فوج متعین ہے ، اس خیال سے پھر انہوں نے حملے کی جرأت نہ کی ۔(طبقات الکبریٰ لابن سعد ۔جلد۸) حضرت ام ایمنؓ ایک اور درخشندہ ستارہ تھیں ۔ انھوں نے متعد د غزوات میں شرکت کی ، جہاں وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو تیمار داری کرتی تھیں ۔جنگ عہد میں جب منکرین حق نے مسلمانﷺں پر شدید حملہ کیا تو مسلمان میدان کازار چھوڑنے لگے اس وقت ام ایمن ؓنے قابل فخر کارنامہ انجام دیا ۔ انھوں نے مسلمانوں کو اسلامی غیرت ،قبائلی حمیت نبی رحمت کی جان حفاظت کا واسطہ دیا دے کر کہا کہ تم موت سے بھاگ کر کدھر جارہے ہو ؟کیا موت میدان جنگ سے باہر نہیں آئے گی ؟میدان کارزار سے باہر کی موت ذلت اور بزدلی کی موت ہے اور میدان کارزار کی موت شہادت اور عزت کی موت ہوگی ۔کیا تمہارے اندر یہ احساس نہیں ہے کہ نبی رحمت ﷺ میدان کارزار میں کافروں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور تم انہیں چھوڑ کر بھاگے جارہے ہو ؟ (طبقات الکبریٰ لابن سعد ۔جلد۸) ۔ایک اور روشن ستارہ حضرت سمیہؓ ہیں ۔ انھوں ابتدا ہی میں ابتدا ہی میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر تھا ۔ اسی کی بدولت انھوں بے شمار صعوبتیں جھیلی تھیں ۔ ان کے صبر و استقامت کا حال یہ ہے کہ بڑے بڑے انسانی درندون اور ظالموں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔مشرکین مکہ نے ان کو مکہ کی جلتی تپتی ریت پر پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں میں زرا بھر بھی فرق نہیں پڑتا تھا ۔انہیں جلتی تپتی ریت پر دن بھر رکھا جاتا تھا ۔ ایک دن شام کے وقت گھر آئیں تو ابو جہل نے انہیں گالیاں دینی شروع کیں اور پھر ان کی ثابت قدمی کو دیکھ کر اس کا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ کہ اٹھ کران کے دل میں ایسی برچھی ماری کہ حضرت سمیہ ؓ  شہادت کے درجہ پر پہنچ گیں ۔ حضرت سمیہ ؓ  کو تاریخ اسلام میں پہلی شہیدہ کا درجہ حاصل ہے ۔اُم المومنین حضرت عائشہؓ  تمام صحابیاتؓ میں سب سے زیادہ عالمہ تھیں ۔ بڑے بڑے اکابر اور عظیم المرتبت صحابی ؓ ان ان سے دقیق مسائل پوچھا کرتے تھے ۔غزوۂ عہد میں وہ ہاتھ سے مشک بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں ۔ حضرت ام عمارہ ؓبھی ایک معروف صحابیہؓ ہیں ۔وہ انتہائی عالمہ ،مجاہدہ اور باکمال خاتون تھیں ۔ انھوں نے غزوہ احد، حدیبیہ ،حنین ، اور جنگ یمامہ میں شرکت کر کے نہایت حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیئے ۔ جب تک مسلمان فتح یاب تھے ، وہ مشک میں پانی بھر کر پلا رہی تھیں ۔ حضرت ام سلیم ؓ  صبر و استقامت کی ایک اعلیٰ مثال تھیں ۔وہ بھی غزوات میں میں زخمیوں کے علا ج و معالجے اور انہیں پانی پلانی کی خدمات سر انجام دیتی تھیں۔ حضرت انس ؓ ان کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ عہد کے دوران جب مجاہدین کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہؓ  اور حضرت ام سلیم ؓ اپنی پیٹھ پر مشکیزے اٹھائے ہوئے زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں ۔ حضرت ام فضل ؓ بھی وہ خوش بخت خاتون تھیں جنھوں نے ابتدا ہی میں ااسلام کو گلے لگایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کا قبول اسلام نمبر دوسراہے ۔ قبول اسلام کے بعد انہیں انتہائی مشکلات اور و مصائب کا سامنا کرنا پڑا ۔ حضرت خنسا ء ؓ  عرب کی مشہور مرثیہ گو شاعرہ اور عظیم المرتبت خاتون تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ عرب میں ان کے برابر کوئی عورت شاعر ہ پیدا نہ ہوئی ۔ جنگ قادسیہ میں وہ اپنے چاروں نوجوان بیٹوں کے ساتھ شریک تھیں اور ان کو مخاطب کر کے یوں جوش دلایا : ’’پیارے بیٹو۱ ہم نے اسلام اور ہجرت اپنی مرضی سے اختیار کی ہے ۔ خدا کی قسم تم ایک ماں اور باب کی اولاد ہو ، میں نے نہ تمہارے باب سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا ، تم جانتے ہو کہ دنیا فانی ہے اور اور کفار سے جہاد کرنے کا بڑا ثواب ہے۔اس بنا پر صبح اٹھ کر لڑنے کی تیاری کرواور آخروقت تک لڑو۔‘‘جب ان کے چاروں بیٹے شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا ۔انہیں فہم فراست میں بھی ممتاز مقام حاصل تھا ۔ 
(بقیہ جمعہ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
