تازہ ترین

رسانہ کیس کا عدالتی فیصلہ

کرا ئم برا نچ مبا رک باد کی مستحق

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

۔ 10جون 2019؁ء ریا ست کی تا ریخ میں ہمیشہ ایک یا د گار دن اس لیے بھی رہے گا کیو نکہ اس دن پٹھا ن کوٹ کی ایک عدا لت نے 8 سا لہ معصوم گجر بکروال طبقے سے تعلق رکھنے وا لی رسانہ گائوں کی  اس لڑ کی کے قاتلوں کو سزا سنا ئی جسے ِان درندو ں نے 10جنو ری 2018؁ء کو اپنی ہو س کا نشا نہ بنا کر اسے ابدی نیند بھی سلا دیا ۔ ان ہوس پر ستو ں میں سا نجی را م نام کا وہ پجا ری بھی شا مل تھا جو رسا نہ گا ئوں کے ایک متبرک مندر کی دیکھ ریکھ کر تا تھا اور جس کی دیکھ ریکھ میں ہی مندر کی چار دیوا ری میں 8سا لہ آ صفہ کی اجتما عی عصمت دری بھی ہو ئی اور بے رحما نہ قتل بھی ۔ جب اس وا قعہ کو ریا ست کے چند اہم اخبا رات نے عوا م کے سا منے اُجاگر کر کے ملز مان کو سزا دینے کا مطا لبہ کیا تو ریا ست کی کرا ئم برا نچ حر کت میں آ گئی اور تحقیقات کے چند دنو ں کے بعد ملز م سلا خو ں کے پیچھے چلے گئے ۔ آ ناََ فا ناََ ان درند وں کو بچا نے کے لئے چند فر قہ پر ستو ں نے ہند و ایکتا منچ کا قیام عمل میںلا یا۔ جس کی حما یت پی ڈی پی بھا جپا سر کار میں شا مل دو وزیروں چندر پر شادگنگا اور لال سنگھ نے تن من اور دھن سے کی اوریوں  پو ری ریا ست کو مذ ہب کے نام پر دو حصو ں میں تقسیم کر دیا ۔در اصل سا نجی رام رسا نہ گا ئو ں کے اقلیتو ں میں خوف پیدا کر کے اُ نہیں وہا ں سے بھگا نا چا ہتا تھا ۔اسلئے فر قہ پر ست ذ ہن رکھنے وا لے بعض سما جی اور سیا سی رہنما ئو ں کی وجہ سے یہ سا زش رچی گئی اور اس سا زش کا شکار معصوم آ صفہ بنی ۔ ملز مان جب کرا ئم برا نچ کے شکنجے میں آ ئے تو ہندو ایکتا منچ نے ہندو ستان کے جھنڈ ے کی دھجیا ں اُ ڑا کر جلسے اور جلوس نکا لے اور معا ملے کو سی ۔ بی ۔ آ ئی کے حوا لے کر نے کی پُر زور ما نگ کر نے لگے ۔ متعدد ریلیا ں نکا لی گئیں ۔ بار ایسوسی ایشن جمو ں نے جمو ں بند کال دے کر اپنے فر قہ پر ست چہر ے کو ریا ستی عوا م کے سا منے ننگا کر کے جلتی پر آ گ کا کام کیا ۔ملکی اور ریا ستی میڈ یا نے بھی غلط بیا نی سے کام لے کر ما حول کو اور زیا دہ خراب کر دیا ۔ غر ض آ صفہ قتل اور عصمت ریز ی کیس کی وجہ سے نہ صرف ریا ست دو حصو ں میں تقسیم ہو کر رہ گئی بلکہ جمو ں میں دو فر قو ں کے درمیان جو کشیدگی دو ماہ رہی اس سے جموں کی شبیہ عا لمی سطح پر بے حد خراب بھی ہوئی ۔ آ صفہ کا کو ئی مذ ہب نہیں تھا ۔ آ ٹھ سال کی یہ دو شیز ہ ابھی ان جھگڑ و ں سے نا آ شنا تھی۔ لیکن سا نجی رام اور اس کے حوا ریو ں نے اسے ایک مذ ہب سے جوڑ کر فر قہ پر ستی کی آ گ کو بڑ ھا وا دینے میں جو کر دار ادا کیا وہ کسی سے پو شید ہ نہیں ہے ۔ حا لات ایسے پیداکردیئے گئے کہ آ صفہ کے وا لد کوریا ست میں بیٹی کے لئے انصا ف ملنے کی کو ئی اُ مید ہی نہ رہی ۔ چنا نچہ اس نے سپریم کو رٹ سے ریا ست سے با ہر کیس کی شنوا ئی کر نے کی اپیل کی ۔ چنا نچہ سپریم کو رٹ نے کیس کو پٹھان کو ٹ منتقل کر دیا اور فا سٹ ٹر یک بنیاد پر بند کمرے میں ہا ئی کو رٹ کی نگر انی میں کیس کی شنوا ئی کر نے کا حکم صا در کیا ۔
جس وقت آ صفہ کے سا تھ سا نجی رام اور اس کے حوا ریو ں نے یہ وحشیانہ حرکت کی اس وقت ریا ستی کرا ئم برا نچ کے سر بر اہ الوک پو ری تھے پہلے ان کی ہی سر بر اہی میں کچھ گر فتا ریاںعمل میں لا ئی گئیں ۔ اتنے میں الوک پو ری نو کر ی سے ریٹا ئر ہو گئے اور ان کی جگہ احفاد المجتبیٰ کرا ئم برا نچ کے نئے سر برا ہ تعینا ت ہو کر آ ئے ۔ مجتبیٰ صا حب اپنے ایما ندار انہ کام اور محنت کے لئے پو ری ریا ستی پو لیس میںاپنی الگ پہچا ن بنا چکے ہیں ۔ ز مینی سطح کے پو لیس افیسر اس بات سے وا قف ہیںکہ جرا ئم کی تفتیش کیسے کی جا تی ہے ۔ چنا نچہ احفاد المجتبیٰ اور ان کی ٹیم کی محنت نے جلد رنگ لا یا اور اس وحشیا نہ کیس کے مختلف پہلو سا منے آ تے گئے ۔ادھر پٹھان کو رٹ کی عدا لت میں بند کمرے میں کیس کی شنو ائی شرو ع ہو ئی ۔ تقر یباََ ڈیڑھ سال کیس کی شنو ائی ہو تی رہی ۔ اس دو ران کرا ئم برا نچ نے کیس سے متعلق 114 گوا ہ عدا لت میں پیش کئے ۔ کئی دفعہ کرا ئم برا نچ کے سر برا ہ احفاد المجتبیٰ خود بھی عدا لت میںپیش ہو ئے ۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کی ٹیم نے جو تحقیق کی ہے اس کی وجہ سے ملزم قا نون سے بچ نہیں سکیں گے ۔ اس لئے انہوں نے اس پو رے کیس کی نگرا نی خود کی۔ وہ اپنی ٹیم کو حو صلہ بھی دے رہے تھے اور بالآ خر اُ ن کی یہ تمام کو ششیں ۱۰ جون کو اس وقت رنگ لائیں جب کو رٹ نے تین ملز مو ں کو مختلف دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنا ئیں اور تین دو سرے ملز مین کو ثبو ت غا ئب کر نے کے سلسلے میں پا نچ پا نچ سال کی سزا سنا ئی ۔ پا نچ سال کی سزا پا نے وا لو ں میں تینو ں کا تعلق ریا ستی پو لیس کے محکمہ سے ہے ۔ یہا ں احفاد المجتبیٰ کی ایماند اری ایک بار پھر اُ بھر کر سا منے آ تی ہے جنھوں نے اپنے محکمے سے تعلق رکھنے وا لے اہلکا رو ں کو بھی نہیں بخشا۔ اس سے زیا دہ شفافیت کم سے کم میں نے کسی کیس میں نہیں دیکھی ہے۔ اس شفا فیت کے لئے کر ائم برا نچ کی پو ری ٹیم مبا رک باد کی مستحق ہے کہ اُ نہو ں نے بغیر کسی دبا ئو کے پو ری حقیقت کو عوا م کے سا منے ننگا کر کے رکھ دیا ۔
فیصلہ آ نے کے بعد سو شل میڈ یا پر بعض فر قہ پر ست اس فیصلے کی تنقید طر ح طر ح سے کر نے لگے ۔ ان فر قہ پر ستو ں کی یہ تنقید اس لئے بھی بے بنیاد ہے کیو ں کہ سب کچھ تو سپریم کو رٹ اور ہا ئی کو رٹ کی زیر ِ نگرا نی میں ہوا۔ یہ فر قہ پر ست ایک دفعہ پھرجمو ں کا نام خراب کر نے پر تلے ہو ئے ہیں ۔ بعض لو گو ں نے آ صفہ قتل کیس کا سہر ااپنے سر با ند ھنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ ان میں سے ایک نام دپیکا سنگھ رجا وت کا ہے جو اپنے آ پ کوتجر بہ کار وکیل سمجھتی ہیں اور جس نے ابتدا میں اس کیس کی ایک یا دو شنوا ئیو ں میں حصہ بھی لیا ۔ لیکن بعد میں یہ وکیل صا حبہ فر قہ پر ستوں کے ڈر سے میدان چھوڑ کر چلی گئیں ۔ آ ج اچا نک وہ سو شل میڈ یا پر اس طر ح نمو دار ہو گئیں ہیں گو یا سب کچھ اسی کا کرا کرا یا ہو ۔ جھو ٹی شہرت حا صل کر نے وا لے ان وکلا ء سے ہمیں خبر دار رہنے کی ضرو رت ہے ۔ شا با شی کے مستحق کرا ئم برا نچ کے وہ غیر مسلم دوسر کا ری وکلاء ہیں جنھو ں نے رو زا نہ پٹھان کو ٹ جا کر لا کھ طر ح کے دبا ئو کے با وجود کیس کی اصل شنو ائی کی ۔ کر یم برا نچ کے ان دو نوں غیر مسلم وکلا ء کو دل کی گہرا ئیو ں سے سلام ۔سا نجی رام اور اس کے سا تھی اصل میں پھانسی کی سزاکے مستحق تھے ۔اگرانہیں یہ عبرت ناک سزادی گئی ہوتی تو آئندہ کوئی بھی اس طرح کی مجرمانہ حرکت کرنے سے پہلے لاکھ دفعہ سوچتالیکن اس کے باوجود ہم عدالت کے فیصلے کی عزت کرتے ہیں اورہمیں عزت کرنی بھی چاہیئے کیوں کہ ا نصاف دلانے والا متبرک ادارہ عدالتوں کوہی کہاجاتاہے ۔
پروفیسرشہاب عنایت ملک 
94191-81351
 

حضرت مجد د الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃاللہ علیہ

مختصر حالات و ارشادات 

اللہ تعالیٰ نے مخلوقِ خداوندی کی رشدو ہدایت کیلئے پیغمبر وں نبیوں رسولوں فرستادوں کو مبعوث فرمایا حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم پر نبوت تکمیل ہو ئی اسکے بعد رشدوہدایت کیلئے خلفائے راشدین کا دور تیس سال تک رہا بعد ازاں دین اسلام کے مسائل سلجھانے کی غرض سے مجدد کی ضرورت پڑی دنیائے اسلام میں سب سے پہلے مجدد حضرت عمر بن عبدالعزیز ہوئے اسکے بعد ہر صدی کے آغاز میں ایک مجدد ہوا جو دین متین میں تصفیہ طلب مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں بحسن و خوبی سرانجام دیتا رہا حتیٰ کہ گیارھویں صدی ہجری میں اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کو پیدا فرمایا جو امت مسلمہ میں ایک نعمت غیر مترقبہ ہے جس کا ثانی بسیار تلاش کے باوجود بھی نہیں مل پائے گا اس ضمن میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضرت مجدد الف ثانی کی ذات مقدس امت پہ بڑا احسان ہے اس احسان کو بدلہ نہیں ہو سکتا ہر زمانہ میں کئی نبی قریہ قریہ نگر نگر قصبہ قصبہ شہر شہر پہنچ کر توحید باری تعالیٰ کی دعوت دیتے تھے اور اپنے نور باطن اور دلائل حقہ سے دلوں کو منور کرتے اور جو خرابی شریعت میں لوگوں نے پید ا کردی اس کو دور کرتے ۔اب چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کوئی بنی نہیں آنے والا کیونکہ آپ اللہ عزوجل کے آخری نبی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں شریعت و سنت کو جاری  اور قائم رکھنے کیلئے ولی اکمل مجد د اور علماء کو یہ ذمہ داری سونپی امت مسلمہ میںہر صدی میں ایک مجدد اور اولیاء کرام بہت سے ہوں گے ۔حضرت مجدد الف ثانی  شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ کے مکتوبات امت کے واسطے رہبر و مشعل کا کام علم شریعت اور طریقت میں دیتے ہیں ۔جو خربیاں علم تصوف میں اور جو برتائو بدعات  کے خلاف اکبر بادشاہ کے دور میں پید ا ہو گئیں تھیں وہ آپ کی جدوجہد اور حکمت عملی سے دور ہو گئیں ۔حضرت مجدد الف ثانی کی ذات وہ مبارک ذات ہے کہ خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ نے اپنے مرشد سے سنا کہ اس اس الف ثانی میں ایک بزرگ بندہ خاص ہونے والا ہے کہ س کی بزرگی کی خبر بزرگ اولیاء اللہ دینے والے ہیں زہے قسمت اس پیر ومرشد کہ جس کو ایسا مرید ملے ۔حضرت مجددالف ثانی اس زمانے میں سرہند شریف سے حج  بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے جب آپ دلی شریف پذیر ہوئے اور آپ نے خواجہ باقی بااللہ رحمۃاللہ علیہکی شہرت سن کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے  آپ حضرت سے بیعت ہو کر سلسلہ نقشبندیہ میں داخل ہوئے کچھ عرصہ آپ حضرت باقی باللہ علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہے حضرت باقی باللہ نے زہد کمالات دیکھ کر لوگوں کو بیعت کرنے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا  اور تمام خلفاء  اور مریدوں کو ہدایت فرمائی کہ اب شیخ احمد فاروقی سرہندی  علیہ الرحمہ  کے پاس جائو اور ان کی صحبت میںرہو ۔اب میرا ایسے شخص کے ساتھ بیعت کرنا مناسب نہیں  ہندوستان میں میرا آنے کا مقصد ان کی ہی تربیت تھی حضرت خواجہ کے چند خدام اور خلفاء نے انکار کیا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر ان کی خدمت میں جانا مناسب  نہیں سمجھتے تو ان کے جواب میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ نے یہ فرمایا ’’ حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی آفتاب است و ما ہمچو ستارگاں دروے گم اند ‘‘ یعنی شیخ احمد فاروقی سرہندی سورج ہیں اور ہم مثل ستاروں کے اس کی روشنی میں گم ہیں ۔حضرت خواجہ باقی بااللہ علیہ الرحمہ کا فرمانا کہ شیخ احمد سرہندی آفتاب ہیں اور ہم جیسے ستارے ہیں جیسے آفتاب کی روشنی میں دن کو ستارے چھپ جاتے ہیں  اسی طرح شیخ احمد سرہندی کے آفتاب ہدایت و فیضان میںہم چھپ گئے ہیں سبحان اللہ شیخ ہون تو ایسے ہوں اس ارشاد سے حضرت مجددالف ثانی علیہ الرحمہ کے مرتبہ و فضیلت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نہایت ہی بلند درجہ کے متبع سنت اور عالم متبحر تھے اور تمام فضائل  حمیدہ و صفات پسندیدہ سے مرصع تھے ۔حضرت مجددالف ثانی کوخلعت 1009؁ھ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ۔مجدد کے معنی ہیں شروع کرنے والا ۔الف یعنی ہزار ثانی یعنی دوسرا  یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کے ایک ہزار سال  بعد یعنی دوسرے ہزار کے شروع میں حضرت مجددالف ثانی علیہ الرحمہ کا ظہور ہوا ۔اس لئے آپ کو مجدد الف ثانی کا لقب حاصل ہوا حضرت مجدد الف ثانی نے دین محمد ی کو از سر نو تروتازگی بخشی  اور شریعت محمدی میں بہار لائی اس لئے آپ کوپوری دنیا الف ثانی کے نام سے پکارتی ہے آپ چند ارشادات یہ ہیں ’’ تمام سعادتوں کا سرمایہ سنت کی تابعداری ہے اور تما م فسادوں کی جڑ شریعت کی مخالفت ہے فقراء کی خاکروبی دولت مندوں کی مسند نشینی سے افضل ہے فقراء کی محبت اور صحبت ضروری ہے جس نے اولیاء اللہ کو پہچانا اس نے خدا کو پالیا ۔منازل سلوک صرف اس لئے ہیں کہ ایمان حقیقی نصیب ہو جائے ۔توبہ اور سکوت کو لازم پکڑ ۔موت اور قبر کو روبرو رکھ ۔نیک بات دوستوں کو پہنچا دے اور مخالفوں سے بحث مت کر۔کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ دل آزاری ہے۔خواہ مومن کی ہو یا غیر مسلم کی۔اولیاء اللہ کی نظر دوا ہے اور کلام شفا ہے۔جس شخص کو حرص کی بیماری ہو اس کو چاہئے کی قبرستان میں چلا جائے اور قبروں پر غور کرے۔ان سے معلوم ہو گا کہ دنیا کی کوششوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے کبھی اس مکان بھی وہاں ہوگا۔تھوڑی سی مٹی چادر کاکام دے گی اور تھوڑی مٹی اس کا تکیہ بنے گی۔ہر سال کی طرح اس سال بھی حضرت کا سالانہ عرس پاک 25صفرالمظفر کو سر زمین سرہند میں قل شریف کی آخری دعائیہ محفل 28صفرالمظفر 1437؁ھ کومنعقد ہو ئی جس میں ہزاروں فرزندان توحیدورسالت نے شرکت کی  واضح ہو کہ بر صغیر ہند وپاک میں یہ عرس پاک مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے معتقدین نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ مناتے ہیں ریاست جموں و کشمیر میں کئی مقامات پر آج جمعہ کے روز اجتماعی دعائیہ مٖحافل کا انعقاد کیا گیا اور جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے دین متین کی تجدید میں مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی بے لوث دینی خدمات پر روشنی ڈالی اور سامعین کو بزرگان ِدین کے نقش راہ پر گامزن رہنے کی تلقین کی ۔ 
ایم ایم ایچ قادری پونچھ درباشریف گونتریاں