تازہ ترین

مجالسِ نکاح تقاریبِ شا دی

سادگی کا جنازہ اٹھانے والے!

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ماریہ فرحت منظور ۔۔۔۔ ٹھاٹھری ڈوڈہ
 یہ  اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم ہے کہ سخت جان اُمت مسلمہ میں ایسے ائمہ کرام ، واعظین عظام اور اصلاح ِ معاشرہ چاہنے والے حضرات ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اُمت مسلمہ میں پھیلی ہوئی رسومات اور بدعاتِ قبیحہ، او دیگر خرافاتِ سُغلہ کے خلاف کسی نہ کسی انداز سے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں گوکہ اس طوفانِ بدتمیزی کے خلاف ان کی ایک بھی نہیں چلتی ہے۔ سماج میں رائج بدعات و خرافات کے خلاف بارہا محلہ کمیٹیاں، سدھار انجمنیں ، رضاکار ادارے بھی بنائے گئے مگر بے سود ،کہیں کہیں غیر اسلامی تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے بھی لئے گئے لیکن یہ فیصلے گفتند نشستند و برخواستند تک محدود ثابت ہوتے رہے ،ان پر عمل کرنے کے لئے ماحول سازگار بنا نہ وموافقانہ عوامی رائے کی موافقت منظم ہوئی۔
 ہمارے سماج کئی افراد جو شادی غمی کے مواقع پر نمود و نمائش کے مرضِ لادوا میں مبتلا ہوتے ہیں ،بدعات و خرافات سے اجتناب کر نے کے درس سن سن کر بھی خاص طور نکاح و شادی کی تقریبات کا انعقادبڑی فضولیات( جسے بعض لوگ شان وشوکت کانام دیتے ہیں ) سے کر تے ہیں کہ مہمان شاہانہ دعوتیں کھا کر عش عش کر تے ہیں اور ہفتوں نجی محفلوں میں لذت کام و دہن کے تذکرے بخوبی کرتے رہتے ہیں، اُدھر میزبان صاحب ایسے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتاہے کہ پھر اُٹھ نہیں سکتا۔ جن دوست و احباب اوردوکانداروں سے قرض لیا ہوتا ان کے شب و روز کے تقاضوں سے اس کی زمین تنگ ہوجاتی ہے کہ پہلے بازاروں میں منہ چھپاتے پھرتا ہے ، پھر گھر سے باہر نکلنے میں بھی بڑے احتیاط سے کام لیتا ہے ۔
 ایک مثال عرض کئے دیتی ہوں۔ہمارے محلے میں ایک کلاس فورتھ ملازم نے اپنی شادی کے لئے دُوکاندار سے کپڑا وغیرہ اُدھار لیا پھر تین سال تک قرضہ ادا نہ کرسکا اور چلتے چلتے بات دست و گریباں تک پہنچی، جب اس کی نئی نویلی بیوی نے ماجرا سنا تو اُس نے چپکے سے اپنا  گہنہ مولی کے بھاؤ سُنار کو بیچ ڈالا اور رقم د وکاندار کے ہاتھ میں تھما دی تاکہ دولہا میاں کی عزت مٹی میں ملنے سے بچ جائے۔ ایسے جگر سوز واقعات ہمارے یہاںاکثر ہوتے رہتے ہیںجن میںکچھ طشت اِزبام ہو جاتے ہیں کچھ صیغۂ راز میں رہ جاتے ہیں۔ زیادہ تر تنگ دستی اور غربت اس راز کو فاش کرکے رکھ دیتی ہے۔ راقمہ نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ علمائے دین مبین اور واعظینِ عظام منبر محراب پر منگنی اور شادی بیاہ کی تقریبات کو نہایت سادگی سے منانے پر سارا زورِ خطابت خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ حضرت فاطمۃ الزھرا ؓ کے نکاح مبارک اور رُخصتی کا حوالہ دیتے دیتے آبدیدہ ہوجاتے ہیں کہ سامعین پر خداترسی کی وہ کیفیت چھا جاتی ہے کہ سبحان اللہ مگر عمل کے وقت ان کے ہاتھ پاؤں شل ہوجاتے ہیں ۔
راقمہ کو نکاح کی چند مجلسوں میں شریک ہونے کا زریںموقع ملا ۔نمازِ جمعہ پر اعلان کیا گیا کہ اب نکاح کی بابرکت و سعادت مجلس ہوگی۔تمام حاضرین شریکِ مجلس رہیں، چند سالوں سے یہ رواج عام چلا ہے کہ اکثر نکاح مسجد میں پڑھا جاتا ہے۔ نکاح خواں مولانا نکاح کی عظمت اور اس سلسلے میں سماج میں رائج خرافات پر بلیغ انداز سے گرم گفتاری سے کام لیتے ہیں لیکن جب شادی یا رُخصتی کا مسئلہ آن پہنچتا ہے تو اس سلسلہ میں لڑکی والے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہی نکاح خواں، مصلح حضرات اور واعظین دسترخواں پر بڑے پندار سے تشریف فرما ہوتے ہیں اور ضیافتوں کو گن گن کر تناول فرماتے ہیں۔ ان کا انداز بسیار خوری اس وقت یوں ہوتا ہے    ع
        بابر عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیت
ایک مجلس طعام ایسی تھی کہ منگنی کی رسم تھی جس میں فضلو خراچی کی حدیں پار کی گئیں۔ ہمارے یہاں رشتہ مانگنے یا منگنی کی جب بات ہوتی ہے تو خانوادے کے کسی معزز و معتبر شخص کو رشتہ مانگنے کے لئے لڑکی والے کے یہاں پیغام رشتہ لئے بھیجا جاتا ہے تاکہ اگر انہیں رشتہ قبول ہو تو ٹھیک ور نہ بات صیغۂ راز میں رہے اور تلخیاں اور غلط فہمیاں سر نہ اُٹھائیں۔ اَحسن طریقہ اور مہذ ب طرز عمل معاشرہ ہی ہوتا ہے۔ ایک دن شام ہونے سے پہلے اپنے قریبی رشتہ دار نے کہا لڑکی والوں سے کہا نما ز مغرب کے بعد رشتہ مانگنے آئیں گے۔ حسب ِر وایت خیال یہ تھا کہ معزز شخص رشتہ طلب کرنے کے لئے آئے گا اور جب وہ وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر ششدر ہو کے رہ گیا کہ اس کے استقبال کے لئے باضابطہ طوروازوان کا اہتمام ہورہاتھا ، دیگیں پک رہی تھیں ، لذیز پکوانوں کی خوشبو ئیں بھبھا کے اُٹھ رہے ہیں، یوں لگتا تھا کہ شادی خانہ آبادی شاندار تقریب ہورہی ہے ۔مذکورہ شخص کو محسوس ہوا یا تو پیغام رشتہ کے بارے میں غلط کہا گیا ہے یا غلط سمجھا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ جس لڑکی کا رشتہ مطلوب تھا وہ یتیم تھی، والدہ ، بچاری دائمی مریض تھی اور ایک ماہ میں تین ہفتے اسپتال کے ICUمیں گزارتی، کمانے والا اکلوتا یتیم بیٹا، وہ بھی کلاس فورتھ عارضی ملازم۔ میں نے اپنی جگہ سوچا کہ رشتہ مانگنے والوں کو حسبِ رواج عصر کے وقت آنا چاہئے تھا، نمکین چائے نوشی پر بات طے ہوتی لیکن یہاں تو حال ہی عجیب وغریب تھا ،نماز عشاء کے قریب قریب پندرہ نفوسِ ذیشان کا قافلہ خراماں خراماں لڑکی والوں کے گھر پہنچا ۔راقمہ نے ایک شخص سے راز دارانہ انداز میں دریافت کیا کہ کہا یہ گیا تھا کوئی صرف رشتہ مانگنے کے لئے آئے گا لیکن یہاں تو لگتا ہے کہ نکاح کی بابرکت مجلس ہونے جارہی ہے۔ جو اب ملا کہ تشریف رکھئے اور تماشہ دیکھئے    ؎
اگر گویم زباں سوزد
نہ گویم مغز استخواں سوزد
سب سے بڑا المیہ اس تقریب کا یہ تھا کہ ایک عالم ِدین اس قافلہ ٔ جرار کی قیادت فرمارہے تھے، ان کا علمی قدوقامت دیدنی ہے، ان کے اندر’’ اقامت ِ دین‘‘ کی جو نمائشی تڑپ ہے شاید وہ کسی ولی اللہ کے دل میں بھی نہ رہی ہوگی۔ امت مسلمہ کے ایسے ہی علمائے سُ ہماری بربادی کے پیام بر ہیں ۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ اکثر شکم پرست دورکعتی ائمہ حضرات اور و اعظین عظام اس قدر نازک مزاج ہوتے ہیں کہ وہ حق بات سننایا کہنا اپنی کسر شان سمجھتے ہین اور کسی عام انسان کے منہ سے سچ سننا انہیں سیخ پا کرکے رکھ دیتا ہے کیونکہ حق ان کے مزاج شریف سے میل نہیں کھاتا  چاہے وہ کلام پاک اور حدیث مبارکہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس وجہ سے اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عوام بھی ا ور خواص بھی سماج کو بگاڑنے میں ، علی الخصوص نکاح کی مجالس اور شادی کی تقاریب کا تقدس پامال کر نے کے ذمہ دار ہیں ۔   
