تازہ ترین

ترال اور بجبہاڑہ میں 2جنگجو جاں بحق

ترال میں مکمل ہڑتال،فورسزو نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں،انٹرنیٹ سروس معطل

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سید اعجاز
 ترال //برن پتھری کہلیل ترال میںمسلح تصادم آرائی کے دوران انصار غزوۃ الہند کا ایک جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ ممکنہ طور پر 2نگجو فرار ہوئے۔اس دوران ترال کے کئی مقامات پر پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 3 نوجوان پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے لگنے سے معمولی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک پیلٹ زخمی کو سرینگر منتقل کردیا گیا ۔جنگجو کی ہلاکت کے خلاف ترال میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔

مسلح تصادم آرائی

 قصبہ ترال سے 9 کلو میٹر دور ناگہ بل برن پتھری کہلیل کے جنگلات میں 44آر آر نے جنگجوئوں کی موجود گی کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کی شام سے ہی محاصرے کرلیا ۔ بدھ علی الصبح فورسز نے6بجے کے قریب تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا جس دوران فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کامختصر تبادلہ ہوا جو تقریباً45منٹ تک جا ری رہا جس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ممکنہ طور فرار ہوئے جنگجوئوں کی تلاش تیز کر دی گئی جس دوران فورسز نے علاقے میں ایک کمین گاہ کو تباہ کیا جبکہ ایک جنگجو کا اسلحہ بھی برآمدکیا۔ بعد میں22سالہ جنگجو شبیر احمد ملک ولد عبدلا احد ملک ساکن ناگہ بل ترال کی لاش جھڑپ کی جگہ سے چند میٹر کی دوری پر برآمد کر لی گئی جو ممکنہ طورفرار ہونے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہوا ۔شبیر احمد ملک نے ستمبر2018میں لشکر طیبہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی تھی اور کچھ ماہ تک اسی کے ساتھ سرگرم رہاجس کے بعدانصار غزوۃ الہندکے کمانڈر ذاکر موسیٰ کی ہلاکت سے چند روز قبل انکی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔شبیر احمدکے والد اس وقت فوت ہوئے تھے ،جب وہ محض چندماہ کا تھا۔ ان کے گھر میں 3بھائی اور ایک بہن ہے۔شبیر گھر کا گذارہ چلانے کے لئے نانوائی کام کرتا تھا جس دوران انہیں 2018ء میں پولیس نے جموںسے گرفتار کر نے کے بعد جیل بھیج دیا تاہم بعد میں انہیں رہا کیا گیا۔ لاپتہ ہونے کے ایک ماہ بعد ان کی بندوق والی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔  

پولیس بیان

پولیس نے بتایا کہ فورسز کو برن پتھری ناگہ بل جنگلات میں تین جنگجوئوں کی موجود گی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد انہوں نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا جس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدد تبادلہ ہوا جس میں انصار غزوت الہند سے وابستہ ایک مقامی جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ مذکورہ جنگجو کی کمین گاہ کو بھی تباہ کیا گیا ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ابتدائی طور پر مذکورہ شدت پسند کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ وابستہ رہا اور پھر بعد میں اُس نے ذاکر موسیٰ گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مہلوک سیکورٹی فورسز پر حملوں، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلو ب تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق شبیر احمد ملک  کے خلاف متعدد مقدمات بھی درج ہیں۔ ترکوٹا نگر جموں میں بھی اُس کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے سلسلے میں ایک کیس زیر ایف آئی آر زیر نمبر 43/2015کے تحت درج ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ واقعے میں ممکنہ طور2جنگجوفرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس دوران لاش کو قانونی و طبی لوازمات پورے کرنے کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئی۔

پتھرائو

 فائرنگ کے ساتھ ہی جب علاقے کی طرف فورسز کی اضافی نفری جا رہی تھی تو بس اسٹینڈ ترال میں کچھ نوجوانوں نے فورسز گاڑیوں پر شدید پتھرائو کیا جس دوران علاقے میں تمام دکانیں بند ہوئیں اور ٹرانسپورٹ سڑکوں سے آناً فاناً غائب ہوا ۔نوجوانوں نے مقام جھڑپ کی طرف جانے والی سڑک پربھاری پتھر اور رکاٹیں کھڑا کیں۔ آپریشن کے بعدواپس آرہے فورسز پر ماحچھامہ،ناگہ بل اور کہلیل کے مقامات پر شدید پتھرائو کیا گیاجس دوران فورسز نے پیلٹ اور آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے ۔پیلٹ سے 3نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے ایک زخمی، جسکی آنکھ میں پیلٹ لگا تھا، کو سرینگر منتقل کردیا گیا۔

بجباڑہ

سرہامہ (کھرم)بجبہاڑہ میں بدھ کی شام سیکورٹی فورسز نے گھات لگایا تھا، جس کے دوران وہاں سے جنگجوئوں کا گذر ہوا۔ اس موقعے پر طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک جنگجو کی ہلاکت کا دعویٰ کیاگیا ہے۔ مذکورہ جنگجو کی شناخت عادل احمد داس ولد عبدالرحمن ساکن واگہ ہامہ بجبہاڑہ کے بطور کی گئی۔ جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ انصار الغوۃ ہند سے تعلق رکھتا تھا۔