تازہ ترین

بنت ِ حوا آج بھی تشدد کا شکار

گول کی خاتون کو شوہر نے ہیٹر سے جلایا ، کمسن بچے کے ہمراہ بھاگ کر جان بچائی

28 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

زاہد بشیر
گول//حکومت کی طرف سے خواتین کی بااختیاری کیلئے متعدد سکیمیں چلائی جارہی ہیں لیکن سماج میں ابھی بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو صنف نازک کو تشدد کا شکا ربنانے سے خوف نہیں کھاتے۔ اس طرح کا ایک واقعہ گول میں اُس وقت دیکھنے کو ملا جب زونہ بیگم دختر گلزار احمد خان ساکنہ پرتمولہ جس کی چھ سال قبل ضلع ریاسی کے ایک گائوں میں شادی ہوئی ،کو ایک ہفتہ قبل شوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور ہیٹر سے جلا کر اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تا ہم زونہ کی نند نے اسے بچایا اور زونہ نے کمسن بیٹے کو لے کر گول مائیکے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔ زونہ بیگم کا کہنا ہے کہ اُس کا والد غریب ہے اور وہ عدالتوں اور پولیس تھانوں میں میرے لئے کیس نہیں لڑ سکتا ہے جس وجہ سے میں نے پولیس میں رجوع نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سماجی یا سیاسی شخصیت میری مدد کے لئے ابھی تک آگے نہیں آئی ۔ زونہ کی چچی نے بتایا کہ چھ سال قبل اس کی شادی ضلع ریاسی کے خیرل علاقے میں اعجاز احمد ولد عبدالغنی حجام کے ساتھ ہوئی اورچند سال گزرنے کے بعد زونہ کو تشدد کا نشانہ بناناشروع کیا گیااور زونہ یہ تمام کچھ برداشت کرتی رہی لیکن ایک ہفتہ قبل زونہ کو پھانسی دے کر قتل کرنے کی سازش بھی رچائی گئی لیکن وہ اُس میں ناکام رہے اور بالآخر شوہر نے ہیٹر سے زونہ کو اس طرح سے تشدد کانشانہ بنایا کہ اُس کے چہرے کو بھی جلایا اور جسم کے کچھ ایسے حصوں کو بھی جلادیا جو دیکھنے کے قابل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زونہ کا والد ایک غریب شخص ہے اور وہ پولیس و عدالتوں کا چکر کاٹنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرشید نامی ایک شخص جو زونہ کے شوہر اعجاز احمد کی دوسری شادی کروانا چاہتا ہے ،کی وجہ سے اعجاز احمد زونہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عبدالرشید نے ہم پر دبائو ڈالا اور ہمیں پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرنی دی اور عبدالرشید جو سیاسی اثر و رسوخ آدمی ہے اس لئے ہم نے پہل نہیں کی کیوں کہ غریبوں کا اس دنیا میں کوئی نہیں ، غریب لوگ گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہے ہیں اور اسی طرح سے مر جاتے ہیں ۔زونہ نے آنسو پونچھ پونچھ کر یہ درد سنایا اور کہا کہ اُس کے حمل میںبچہ ہے اور تقریباً دو سال کا قریب ایک اوربچہ ہے ،وہ یہ نہیں چاہتی کہ گھر میں کوئی بگاڑ آ جائے اور اپنے خاوند کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کرنے چاہتی تھی جس وجہ سے اس سے قبل بھی جو بھی تشدد اُس پر ہوا ،و ہ اُسے برداشت کرتی رہی لیکن اب حد ہو گئی ،شوہر ایک بھی نہیں مانتا وہ دوسری شادی کے ساتھ ساتھ مجھے گھر سے نکالنے کی کوشش میں لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص یا سماجی تنظیمیں ابھی تک ان کی مدد کرنے کے لئے آگے نہیں آئیں ۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ و سماجی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ۔سول سوسائٹی گول کے صدر شمس الدین وانی نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس واقعہ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، اب ہمیں اس بارے میں معلوم ہوا ہے اورہم اُس لڑکی کے گھر جائیں گے اور اُس کی ہر طرح کی مدد کریں گے ،اگر پولیس کے پاس بھی جانا پڑے گا ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر تشدد یہ انسانیت نہیں کوئی بھی مذہب خواتین پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔