تازہ ترین

جموں وکشمیر میں مزید 6ماہ کیلئے صدر راج کو منظوری

اسمبلی انتخابات امسال اخیر میں

29 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک

دفعہ 370 کوئی مستقل ضرورت نہیں

 ریاست کا ایک تہائی حصہ بھارت کے پاس نہیں، ذمہ دار کون؟

جنگجوئوں کیخلاف سخت گیر پالیسی پر کاربند،افراتفری پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائیگا

 
نئی دہلی //لوک سبھانے جموں وکشمیر میں صدر راج کی مدت چھ ماہ مزید بڑھانے اور جموں وکشمیر ریزرویشن (ترمیمی) بل 2019 صوتی ووٹ سے پاس کر دیا۔اس موقعہ پرمرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاستی اسمبلی کو برخواست کیا جاچکا ہے اور الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ روان سال کے آخیر میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے، لہٰذا یہ ضروری بنتا ہے کہ ریاست میں صدر راج کے نفاذ میں 3جولائی سے 6ماہ کی توسیع کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جنگجویت اور انکے حمایتوں کیخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور ملک مخالف قوتوں کے خلاف سخت گیر پالیسی اپنائی جائیگی۔

انتخابات

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں اور حکومت وہاں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہے لہٰذا الیکشن کمیشن جب چاہے اسمبلی انتخابات کروا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو جموں و کشمیر میں صدر راج کی مدت چھ ماہ بڑھانے کے لیے لوک سبھا میں پیش قانونی قرارداد اور جموں وکشمیر ریزرویشن ایکٹ کو ترمیم کرنے والے بل پر ایک ساتھ ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں دہشت گردی آخری دور میں ہے اور سکیورٹی کے حالات معمول پر ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن جب چاہے جموں وکشمیر میں اسمبلی کے غیرجانب دارانہ الیکشن کے لیے تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے )کی حکومت نے ریاست میں پنچوں اور سرپنچوں کے 40 ہزار عہدوں کے لیے چار ہزار سے زیادہ گاؤں میں پرامن الیکشن کروائے اور کہیں کوئی تشدد نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہے کہ وہاں نظم و نسق چست درست ہے اور اسی نظم ونسق میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات پرامن طریقے سے کرائے جاسکتے ہیں۔لوک سبھا کے ساتھ اسمبلی الیکشن نہ کرائے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی صرف چھ سیٹیں ہیں اور اس کے مقابلے میں اسمبلی کی سیٹیں زیادہ ہیں اس لیے سکیورٹی انتظام کو دھیان  میںرکھتے ہوئے وہاں ایک ساتھ الیکشن نہیں کروائے گئے ۔

دفعہ 370

جموں وکشمیر کی ترقی میں دفعہ 370 کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک آزاد ہوا تھا تو تمام ریاستوں کا انضمام ہندوستان میں کیا گیا لیکن جموں و کشمیر کے لئے الگ وزیر اعظم اور علیحدہ آئین کا انتظام کیا گیا۔ اسی سلسلے میں وہاں کچھ افراد کو خوش رکھنے کے لیے دفعہ 370 نافذ کیا گیا جبکہ دیگر ریاستوں کے ساتھ اس طرح کا طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھیان میں رکھنے کی بات ہے کہ دفعہ 370 کوئی مسققل التزام نہیں ہے ۔ یہ پوری طرح غیر مستقل التزام ہے ۔ یہ آئین کے انتظام کے تحت نافذ غیر مستقل مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سوچ میں جموں وکشمیر کے سلسلے میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی ہے اور جموں وکشمیر میں جمہوریت کو بحال کرنا ان کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور یہ قائم رہے گی۔

تشدد نا قابل برداشت

 شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انارکی پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد ریاست میں تشدد پھیلانا چاہتے ہیں،وہاں بد امنی بحال رکھنا چاہتے ہیں ان کے اندر خوف کا ماحول ہے اور آنے والے وقت میں یہ خوف مزید بڑھے گا۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی حکومت کا عزم جموں و کشمیر سے جنگجوئیت کو ختم کرنا ہے ۔ ریاست میں ملیٹنسی کا صفایااور امن وامان کی بحالی ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انھیں پورا بھروسہ ہے کہ ایوان کے تمام اراکین پارٹی سیاست سے اٹھ کر اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے 23 ہزار 700 کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے ۔ اس رقم سے سکیورٹی ایجنسیوں کے تمام مطالبات کو پورا کیا جارہاہے ۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز وہاں امن بحالی کے لیے جو بھی مطالبہ رکھتے ہیں ان کی حکومت اس مطالبے کو پہلی ترجیح کے تحت پورا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور اسے روکنے کے لیے جو بھی قدم اٹھانے پڑیں گے حکومت اٹھائے گی اور وہاں امن قائم کرے گی۔ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے ، جدید ترین بندوقیں اور دیگر جو بھی ضرورت ہوگی اور جس کا بھی سکیورٹی فورسز اور سکیورٹی ایجنسیاں کریں گی ، اس مطالبے کو پہلی ترجیح کے ساتھ پورا کیا جائے گا۔ شاہ نے کہا کہ جنگجوئیت کی حمایت کرنے والوں کو کسی بھی سطح پر بخشا نہیں جائے گا۔جنگجوئیت پھیلانے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ ملک مخالف بات کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور جو ٹکڑے ٹکڑے گینگ ملک کو تقسیم کرنے کی بات کر رہی ہے اس کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے اس لیے اس طرح کے لوگوں کو سنبھل جانا چاہیے اور ملک مخالف بات کرنے سے ڈرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ علاحدگی پسندی پھیلانے اور جموں و کشمیر میں آگ لگانے والوں کو مستقبل میں اس طرح کاکوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ جموں وکشمیر کے حق میں یہی ہوگا کہ وہاں کشمیریت بنی رہنی چاہیے ،تشدد پھیلانے اور اسے ہوادینے والے عناصر کو اپنی کرتوت بندکردینی چاہیے ۔

دفعہ 356کا استعمال

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس سوال پر کہ’’ بٹوارے کا ذمہ دار کون تھا‘‘، پارلیمنٹ میں ریاست میں صدر راج کے نفاذ میں 6ماہ کی توسیع کیلئے پیش کئے گئے بل پر بحث کے دوران ہنگامہ ہوا۔بل کو لوک سبھا میں تو آسانی کیساتھ منظور کیا گیا، لیکن اس پر ریمارکس زبردست بحث کا موجب بنے، خاص کر آئین کا وہ حصہ ،جس میں دفعہ 356 کے تحت کسی ریاست میں صدر راج کا نفاذ عمل میں لایا جاسکتا ہے۔امت شاہ نے کانگریس پر وار کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا نے نہیں بلکہ کانگریس نے منتخب حکومتوں کو برخواست کرنے کیلئے سیاسی ہتھیار کے طور پر دفعہ 356کا استعمال کیا۔امت شاہ نے کہا’’ بھاجپا نے مخصوص حالات میں صدر راج کو ریاست تک بڑھایا، لیکن آج سے پہلے، دفعہ 356کو ملک میں 132بار استعمال کیا گیا اور اس میں سے کانگریس نے اسے 90بار استعمال کیا،اور اب ہمیں یہ لوگ بتائیں گے کہ دفعہ 356کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے‘‘۔

پرانے چنائو مسخرہ پن تھے

کشمیریوں اور نئی دہلی کے درمیان تقسیم اور بھروسہ میں فقدان پر امت شاہ نے کہا کہ کشمیر اور بھارت میں دوری ہے، البتہ کانگریس لیڈروں نے دونوں کے درمیان بدگمانی کے بیج بویئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ پہلی کانگریس سرکاروں نے کشمیر میں جھوٹے انتخابات عمل میں لاے،اس سے بدگمانی کے بیج بوئے گئے، مرار جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی سرکاروںنے وادی میںآزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرائے،اس سے قبل جتنے بھی چنائو کرائے گئے، وہ جمہوریت کے نام پر مسخرہ پن تھا‘‘۔امت شاہ کا اشارہ 1987کے انتخابات کی طرف تھا، جس میں بڑے پیمانے پر فراڑ کیا گیا جس کے نتیجے میں ملی ٹینسی پیدا ہوئی۔شاہ نے وادی میں خاندانی راج پر بھی کڑی تنقید کی۔انہوں نے کہا’’ عام لوگ عبداللہ خانوادے اور دیگر خاندانوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں، جنہوں نے جمہوریت کے عمل کے پر کاٹنے کیلئے پنچایتیوں سے لیکر اسمبلی انتخابات تک ہر ایک عمل پر مضبوط تسلط قائم کیا ہوا ہے،’’ یہ  اب ممکن ہوا ہے کہ ایک غیر خاندانی پارٹی نے ریاست کی باگ دوڑ سنبھالی جس سے لوگ زیادہ خوش ہیں‘‘۔امت شاہ نے کہا کہ کانگریس حکومتوں نے ریاست کی منتخب سرکاروں کو برخواست کیا اور شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے قائم کی گئی مسلم کانفرنس کا ساتھ دیا، بجائے اسکے کہ کانگریس پارٹی کے یونٹ قائم کئے جاتے۔ امت شاہ کا کہنا تھا’’ کانگریس نے عبداللہ کی ٹوکری میں سارے انڈے رکھے، اور وہ انڈے لیکر بھاگ گیا، جس کے نتیجے میں وہ وزیر اعظم بن گئے‘‘۔

کانگریس بٹوارے کی ذمہ دار

امت شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ریاست کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہے،انکا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے فیصلوں کی وجہ سے ریاست کے ایک تہائی حصے پر پاکستان قابض ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ریاست کا ایک تہائی حصہ ہمارے پاس نہیں ہے، اسکا ذمہ دار کون ہے،؟، کس نے فائر بندی کا اعلان کیا، جب آزادی کے بعد پاکستان نے کشمیر کو ہتھیا لینے کی کوشش کی،اور اسکے ایک تہائی حصے کو لیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ پنڈت نہرو نے اس وقت کے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم سردار پٹیل کو فائر بندی معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا،اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو پاکستانی زیر انتظام کشمیر نہ بنتا اور کشمیر میں دہشت گردی کہیں موجود نہ ہوتی‘۔انہوں نے کہا کہ انکی حکومت نے ملی ٹینسی کی کمر توڑ دی ہے، انکے حمایتیوں کے خلاف بھر پور ایکشن لی جارہی ہے،919افراد کی سیکورتٰ واپس لی گئی، پہلے کانگریس دور میں انہیں سیکورٹی دی گئی تھی جو ملک کے خلاف کام کرتے تھے، ہم نے ملک دشمن افراد سے سیکورٹی چھین لی،جبکہ بھارت کے حمایتوں کو کشمیر میں ہلاک کیا گیا۔