تازہ ترین

پانی کی لڑکی

افسانہ

7 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق مہدی
ریت کے اونچے ٹیلے پربیٹھ کے حد نظر تک پھیلے نیلے سمندر کی لہروں کو تکتے ہوئے سوچ کی وادی میںدور نکل جانا ،سنہری سبزسرخ مچھلیوں کا سطح آب پہ آکے اُچھلنا ناچنا اُسے اچھا لگتا تھا۔فرصت کے لمحات میںاکثر یہاں آتا تھا ۔لیکن ایک بات ہے پہلے وہ خود کو جوش سے بھرا ہوا پاتا تھا ۔اب اُس جوش میںکچھ کمی سی آگئی تھی ۔جیسے انتظار تھک چکا تھا ۔امید بھری آنکھ میں کوئی دھند سماگئی تھی۔آج چھٹی ہونے کے سبب وہ سویرے ہی چلاآیا تھا۔دھوپ میں زیادہ تمازت نہ تھی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔سمندر کی لہریں شانت تھیں۔وہ اپنی کسی سوچ میں کھویاہوا تھا کہ یکایک اسکے چہرے پر ایک چمک سی پیدا ہوئی ۔اس نے دور سمندر میں ایک جواں سال لڑکی کے اوپری دھڑکو  لہروں پرناچتے لہراتے ہوئے دیکھا  ۔پہلے اس نے سوچا فریب نظر ہے لیکن دوسرے ہی لمحے لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے پایا۔وہ اُسے اپنی جانب بلا رہی تھی۔اُس نے آس پاس دیکھا۔کسی اور کو نہ پاکر اسے یقین ہوگیا کہ وہ ہی اشارے کا مرکزہے۔اسکے دل میں ایک سرور کی لہر دوڑی۔ریت کے ٹیلے سے نیچے اتر کر لمبے ڈگ بھرتا ہوا سمندرکے نزدیک پہنچا۔اور جلدی سے پانی میں چھلانگ لگادی ۔تیرتے ہوئے لڑکی پرنظریں جمائے رکھیں ۔وہ والہانہ انداز میں ناچ رہی تھی مسکرا رہی تھی۔
جب وہ اُس کے قریب پہنچ گیا تو لڑکی رک گئی اور ایک لمبی سانس لے کر بولی ۔
’’ تو آپ آ ہی گئے ۔۔۔۔‘‘ آواز بڑی ہی مترنم تھی ۔وہ اسکے سنگیت میں کھونے سے پہلے ہی سنبھل  گیا۔ ’’ آپ بلاتیں۔۔۔ میں نہ آتا ۔کتاب یہ نہیں ہے  ‘‘
’’ کتاب ۔۔۔کیا ہے  ۔۔۔‘‘
’’ تیری میری دھڑکنوں کی ایک کہانی  ۔‘‘
لڑکی مسکرائی۔اسکے بھرے بھرے ہونٹوں پرپانی کی ننھی بوندیں چمکنے لگیں ۔
وہ اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھتا رہ گیا ۔پھر یک لحت چونک گیا۔اُسے لگا۔۔۔یہ چہرہ میرے لئے اجنبی نہیں ہے ۔یہ چہرہ میں کہیں دیکھ چکا ہوں ۔ مگر کہاں۔۔۔۔اُسے یاد نہیں آرہا تھا ۔
لڑکی نے خاموشی توڑی ۔
’’ آپ کے سارے کپڑے بھیگ گئے ہیں ‘‘
’’ اور تم ۔۔۔۔۔! ‘‘
’’میں کپڑے نہیں پہنتی ۔جب پانی میں میرا سفر ہو ۔‘‘
’’ تو پھر سامنے آئو سراپا۔۔۔پانی میں پردہ کیسا  ۔یہاں کوئی اور تو ہے نہیں ۔‘‘
’’ وہ تو ہے سر پہ کھڑا  ۔۔۔‘‘
’’ وہ کون  ؟ ‘‘
اُس نے جواب نہیں دیا ۔شر ماکر آنکھیں جھکالیں ۔کچھ دیر خاموشی کے بعد بولی ۔
’’ میرے کئی روپ ہیں۔‘‘
’’ میں جانتا ہوں ۔۔۔‘‘
’’نہیں جانتے ہو۔ میں پھول بھی ہوں۔۔۔ اور پتھر بھی ۔۔۔پانی بھی ہوں۔۔۔اور مچھلی بھی۔۔۔کہ بہت مشکل سے ہاتھ میں آتی ہوں۔‘‘
’’ تم نے پکارا ۔میں چلا آیا۔۔۔اب تم نہیں بھاگ سکتی ہو کہیں۔‘‘
’’ اتنا یقین ہے تمہیں ۔۔۔۔‘‘
’’ ہاں۔۔۔۔! ‘‘
’’ کس پر۔۔۔؟ ‘‘
وہ  چپ رہا ۔دیر تک سوچنے لگا کہ کیا جواب دے۔۔یہی کہ اپنے آپ پریقین ہے۔۔ تم پربھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں کے بیچ کی ایک آس بھری دھڑکن پربھی۔۔۔
لڑکی نے چپ ہوئے لمحے کو ایک کاری ضرب سے جگادیا ۔
’’ خاموشی کا مطلب ہے تمہارے پاس جواب نہیں ۔تم نے خوابوں کی دنیا  میں خود کو کہیں کھو ڈالاہے ۔ ‘‘
اقرار میں سر ہلائے بنا نہ رہ سکا وہ  ۔ ساتھ ہی اُسکے ہونٹ ہلے۔
’’ لیکن ا بھی لاش نہیں ہوں۔وجود میں ایک منور احساس  روشن ہے ۔پیاس ابھی زندہ ہے ۔حقیقت ہوں ۔تمہارے سامنے۔۔۔۔۔‘‘
لڑکی مسکرا دی۔ایک خاص ادا سے لہراکر بولی ۔
’’ ہوتو۔۔۔پھر دکھائو ۔ ۔!‘‘ اُس نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کے اُسے چھونا چاہا ۔لیکن لڑکی سرعت کے ساتھ نیچے چلی گئی ۔جیسے پانی کے نیچے سے کسی نے اُسے کھینچ لیا ہو ۔
وہ ہذیانی انداز میں چلایا ۔   ’’اے ۔۔۔اے لڑکی ۔۔۔‘‘
اسے نام نہ پوچھنے کا گہرا  ملال ہوا۔جہاں  لڑکی ابھی غائب ہوئی تھی۔ وہاں بنے گول دائرے اب سمٹنے لگے تھے ۔کچھ ہی دیر بعد وہاں دائروں کا کوئی نشان نہ تھا۔سب کچھ پہلے جیسا تھا۔ لہریں شانت تھیں ۔لیکن اسکے اندر ایک طوفان بپا تھا۔
رنج بھری کیفیت لئے وہ  واپسی کے لئے مڑگیا۔ کچھ ہی میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اسے اپنے بازوں اور ٹانگوں میں تھکن سی محسوس ہوئی ۔ذہن خیالات سے بوجھل تھا۔ پریشان تھا۔آگے تیرنامشکل ہو رہا تھا ۔اُس نے ایک اچٹتی سی نظردور ساحل کی طرف دوڑائی کہ اندازہ کرے فاصلہ کتنا ہے۔ آتے سمے اس طرف دھیان نہیں دیا تھا ۔دوسرے ہی لمحے آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔حیرت زا  وادیوں میں لے جاکر رُلانے کے لئے اُسکے سامنے ریت کے ٹیلے پر گلابی لباس میں ملبوس  پانی کی لڑکی ہاتھ ہلا ہلا کر مسکرا رہی تھی ۔ 
���
مدینہ کالونی۔ملہ باغ ۔سرینگر  190006
موبائل نمبر؛9419072053