تازہ ترین

صدر اسپتال میں خاتون کی موت کا معاملہ | میڈیکل کالج پرنسپل نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی

11 جولائی 2019 (42 : 10 PM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر//پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے  30جون 2019کو صدر اسپتال سرینگر میں قائم ٹرائیج میں مبینہ لاپرواہی کے نتیجے میں مرنے والی خاتون انیزا وانی کے کیس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پرنسپل گورنمٹ میڈیکل کالج سرینگر نے صدر اسپتال میں 37سالہ انجینئر کے ساتھ پیش آئے واقعات کی تحقیق کیلئے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کو سات دنوں کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر ڈاکٹر پرویز احمد شاہ نے بتایا ’’صدر اسپتال سرینگر میں مذکورہ خاتون کو 30جون کو دن کے 3بجے داخل کیا گیاتھا‘‘۔ڈاکٹر پرویز احمد شاہ نے بتایا ’’ بظاہر انکی موت میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نظر نہیں آرہی ہے مگر لواحقین کی تسلی اور30جون 2019کو ٹرائج میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں حقائق کا پتہ لگانے کیلئے رسمی طور پر واقع کی تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ لاپرواہی کے واقع کی تحقیقات کیلئے ڈاکٹر تنویر مسعود کی قیادت میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کو سات دنوں کے اندر اندر رپوٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ  37سال خاتون انجینئر انیزا وانی کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سیر و تفریح کیلئے گئی تھی جہاں پیر پھسلنے کی وجہ سے وہ زخمی ہوگئی تھی۔ زخمی انیزا کو ایک ڈاکٹر  کے نجی کلنک پہنچایا گیا جہاں گھٹنے کی نقل و حرکت کیلئے مصنوعی آلہ نصب کرنے کے علاوہ ایم آئی آر کرائی گئی اور مریضہ کو ادویات کے ساتھ ساتھ مکمل آرام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ 37سالہ خاتون انیزا کے قریبی رشتہ داروں نے بتایا’’ کچھ دنوں کے بعد  یعنی 27جون کومریضہ نے بے قراری اور چھاتی میں درد کی شکایت کی جس کا ملاحظہ کرنے کیلئے ایک نجی اسپتال پہنچایا گیا جہاں وادی کے معروف ماہر امراض قلب  نے مریضہ کو داخل کیا۔ مریضہ کے اہلخانہ نے بتایا ’’ ایکوکارڈیوگرافی کے بعد ڈاکٹروں نے انیزا پلمونری امبولزم کا شکار قرار دیا۔ لوحقین نے بتایا ’’ خون کی تشخیص، یو ایس جی اور سی ٹی اینجمو گرافی کرائی گئی مگر سی ٹی اینجیو گرافی میں ایک بڑا سیڈل تھومبس پھیپھڑوں کی نلی میں موجود تھا۔ انیزا کے لواحقینمذکورہ نجی  اسپتال میں تیسرے دن ڈاکٹر سے ملنے کی کوشش کررہے تھے مگر ڈاکٹر صاحب تیسرے دن کسی اور کلنک میں مصروف تھے۔ لواحقین نے بتایا ’’ ہم نے ایک اور ڈاکٹر کا دروازہ کھٹکھٹایا تھاجنہوں نے مریضہ کو thrombolysis کیلئے فوراً نذدیکی اسپتال پہنچانے کی ہدایت دی۔ انجینئر انیزاہ کو 30جون کو دن کے 3بجے  triage ward میں داخل کیا گیا ۔لواحقین نے بتایا ’’ اسپتال ریکارڈ کے مطابق مریضہ بالکل ٹھیک تھی ۔لواحقین نے بتایا کہ مریضہ 30جون کو رات 9بجکر 30منٹ تک thrombolysis کا انتظار کرتے رہے اور تب تک کچھ بھی نہیں کیا گیا جب تک مریضہ کے دل نے کام کرنا چھوڑ دیا ‘‘۔لواحقین نے بتایا کہ حرکت قلب بند ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے thrombolysis اور cardiopulmonary resuscitation کا عمل شروع کیامگر صرف ڈھیڑگھنٹے یعنی رات 11 بجے وہ موت کی آغوش میں چلی گئی اور ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا ۔ صدر اسپتال سرینگر کے شعبہ امراض قلب کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’ مریضہ کا علاج و معالجہ کرنے میں تینوں ڈاکٹروں سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور تینوں ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے ایک غریب مریضہ کی جانب گئی ہے‘‘۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ کے موٹاپے اورSplintاور مکمل آرام پر ہونے کے بائوجود بھی ڈاکٹر  نے مریضہ کو anticoagulants نہیں دئے تھے۔ ۔ لواحقین نے بتایا ’’ متعلقہ ڈاکٹر ازخود مریضہ کا علاج اس دن نہیں کرپائے اور صرف WhatsApp. پر ڈاکٹروں اور عملہ کو ہدایت دے رہے تھے۔ عبدالقیوم وانی نے بتایا ’’ کھیبر اسپتال میںڈاکٹر وںنے مریضہ کو صدر اسپتال سرینگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا اور مذکورہ ڈاکٹر کے مشورے پر ہی مریضہ کو صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دوپہر 3بجے  thrombolysis کرانے کا مشورہ دیا مگر اس مشورے پر خود ہی عمل کرنے میں تاخیر کردی۔لواحقین نے بتایا کہ مریضہ کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہی ڈاکٹروں نے رات 9بجکر 30منٹ پر مریضہ کا thrombolysis کرایا مگر تب تک اسکی موت واقع ہوگئی ۔