تازہ ترین

کرناہ اورگریز ٹنلوں کی تعمیر،سہ روزہ دھرنا اور بھوک ہڑتال ختم

انجینئر رشید کاننگے پاو ں سکریٹریٹ مارچ

11 جولائی 2019 (42 : 10 PM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

اشفاق سعید
سرینگر // کرناہ ۔کپوارہ اور بانڈی پورہ گریز شاہراہوں پرٹنلوں کی تعمیرکے مطالبہ کے حق میں تین روز سے جار ی احتجاجی دھرنے کے اختتام پرعوامی اتحاد پارٹی کے چیف انجینئر رشید نے ننگے پائوں تپتی دھوپ کے بیچ سول سیکریٹریٹ تک پہنچ کر ایک مفصل یاداشت چیف سیکریٹری کو پیش کی۔ ٹنلوں کی تعمیر کے حق میں تین دن قبل انجینئر رشید نے 72روزہ دھرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وہ سیول سکریٹریٹ کے نزدیک دھرنے پر بیٹھے تھے، جمعرات کو دن کے قریب اڑھائی بجے سہ روزہ دھرنا اختتام پذیر ہوا جس کے بعد انجینئر رشید ننگے پائوں سکریٹریٹ تک پہنچے ۔انجینئر رشید نے کہا کہ انکا ننگے پائوں چلنا سرکارکے ساتھ ساتھ عام لوگوں کیلئے بھی یہ پیغام ہے کہ سرحدی عوام انتہائی مشکل حالات میں جی رہے ہیں حالانکہ انہیں اوروں کی طرح ہی انسانوں کی طرح رہنے کا حق ہے ۔عوامی اتحاد پارٹی کے صدر اورپیپلز یونائٹڈ فرنٹ کے لیڈرانجینئر رشید نے اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ننگے پائو ں مارچ گریز اور کرناہ کی مصیبت زدہ عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ایک کوشش ہے جنہیں وقت وقت پر برسر اقتداررہنے والی جماعتوں نے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں علاقوں کے لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیںاور سرما کے دوران یہ لوگ انتہائی کٹھن زندگی گذارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں علاقوں کی سرحدی عوام کو ایسے روابط فراہم کئے جائیں جو پورا سال قابل عبور ومرور رہے اور یہ تب ہی ممکن بن سکتا ہے جب کرناہ کپوارہ شاہراہ اور گریز بانڈی پورہ شاہراہ پر ٹنل تعمیر کئے جائیں گے ۔سہ روزہ دھرنا میں شریک ہونے والوں اور اظہار یکجہتی کیلئے دھرنا کی جگہ کا دورہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا’’ریاستی اور مرکزی سرکار کو سہ روزہ دھرنا سے جاگ جانا چاہئے اور دونوں علاقوں کیلئے انتہائی ناگزیر ٹنلوں کی تعمیر کا کام جلد ہاتھ میں لیا جانا چاہئے تاکہ ان علاقوں کے لاکھوں لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔ان لوگوں نے آج تک فقط آرپار شیلنگ اور اس سے خود کو معذور ہوتے اور مرتے دیکھا ہے حالانکہ ہندوپاک کوکوئی حق نہیں بنتا ہے کہ ان علاقوں کو وہ میدان جنگ بنائیں۔انجینئر رشید نے کہا کہ کوئی بھی سرحدی علاقہ ہو مگر وہاں کے لوگوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جانا چاہئے اور انہیں وہ سب سہولیات فراہم ہونی چاہئے جو دیگر لوگوں کو ملی ہیں تاکہ انکی زندگی بھی اور لوگوں کی طر ح آسان ہوجائے‘‘۔انجینئر رشید کے ہمراہ کرناہ کی سیول سوسائٹی کی طرف سے ہی کرناہ ہی کے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ غلام نبی نے بھی ننگے پائوں سکریٹریٹ تک مارچ کیا اور وہاں چیف سکریٹری کے ذریعہ سرکار کو کرناہ اور گریز کے لوگوں کے حالات اور انکی ضروریات سے متعلق یاداشت پیش کی۔انجینئر رشید نے چیف سکریٹری کو ایک مفصل یاداشت سونپی جس میں ریاستی اور مرکزی سرکار سے گریز اور کرناہ کیلئے فوری طور ٹنلوں کی تعمیر کا منصوبہ ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ علیحدہ سے زمینی ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو بھی لکھیں گے۔انہوں نے کہا’’اگر سرکار کوئی مثبت جواب دینے میں ناکام رہی،ہم سرینگر سے نئی دلی تک پر امن دھرنا اور احتجاجی پروگراموں سے حکمرانوں کی نیند حرام کردینگے‘‘۔انہوں نے کہا’’جہاں ریاست کے باقی علاقوں کے لوگوں کو کسی نہ کسی حد تک میکڈم والی اچھی سڑکیں دستیاب ہیں وہیں یہ شرم کی بات ہے کہ کرناہ اور گریز کے لوگوں کو بعض اوقات اپنے پیاروں کی نعشوں تک کو گھر پہنچانے میں ہفتے لگ جاتے ہیں۔‘‘ اُدھر نستہ چھن گلی (سادھنا ٹاپ ) پر ٹنل کی تعمیر کے حق میں جاری کرناہ ٹنل کورڈی نیشن کمیٹی کی سہ روزہ بھوک ہڑتال جمعرات کی شام کو انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔بھوک ہڑتال کے دوران آخری روز سیول سوسائٹی کرناہ ، بیوپار منڈل ، ٹرانسپورٹ یونین ، سیاسی لیڈران کے علاوہ دیگر طبقہ فکر ہائے کے لوگوں نے شرکت کی اور اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ سرکار علاقے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔کمیٹی کے چیئرمین ولی احمد قریشی نے کہا احتجاج کے دوران اپنے خطاب میں کہا لوگوں کا یہ مطالبہ برسوں سے رہا ہے کہ شاہراہ پر ٹنل تعمیر کیا جائے تاکہ سرما کے دوران یہاں کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن سرکار اس جانب کوئی دھیان نہیں دیتی بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں کو پہلے بیکن حکام اور بعد میں اسٹنٹ ڈولپمنٹ کمشنر کپوارہ نے یقین دلایا کہ انتظامیہ اُن کے ساتھ ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف ریاستی گورنر بلکہ مشیر وں تک بھی لوگوں کے مطالبات پہنچائے جائیں گے ۔اسٹنٹ ڈولیمنٹ کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ اگلے کچھ روز میں اس سلسلے میں ایک مفصل رپورٹ تیار کر کے انتظامیہ کو بھیجے گی۔اس موقعہ پر ایس ڈی ایم کرناہ ڈاکٹر الیاس ، ایس ایچ او کرناہ وسیم احمد بڈو بھی وہاں موجود تھے ۔ٹنل کوارڈی نیشن ممبر عبدالرحیم میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انتظامیہ نے 10دن کی مہلت مانگی ہے اور یقین دلایا ہے کہ معاملہ ریاستی سرکار کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ فی الحال آج سے بھوک ہڑتال ختم کی گئی ہے ۔