تازہ ترین

ریلوے کی نجکاری کا کوئی سوال ہی نہیں:گوئل

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی//ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے ہندوستانی ریلوے کی نجکاری کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کی نجکاری کوئی نہیں کرسکتا لیکن سیمی ہائی اسپیڈ گاڑیوں کی آمدورفت اور بہتر مسافر سہولیات کے لئے اگر باہر سے سرمایہ آتا ہے تو اس کا استقبال کیا جانا چاہئے ۔مسٹر گوئل نے عام بجٹ میں ریلوے کے گرانٹ کے مطالبوں پر 12گھنٹے تک چلی بحث کا جواب دیتے ہوئے جمعہ کو یہ بات کہی۔انہوں نے کہا،‘‘ریلوے کی نجکاری کوئی کر ہی نہیں سکتا اور اس کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے ۔لیکن کوئی نئی ٹیکنولوجی لے کر آتا ہے ریلوے کی تجدید کاری کے لئے ،کوئی سیمی ہائی اسپیڈ ٹرین چلاتا ہے اور مسافروں کی سہولت کو بڑھانے میں تعاون کرتا ہے تو ایسی سرمایہ کاری کا سب کو استقبال کرنا چاہئے ۔’’ریلوے کے وزیر نے 50لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے بارے میں اراکین کے سوالوں کے بارے میں کہا کہ ریلوے چھ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور ‘ڈیڈیکیٹڈ فرائٹ کوریڈور(ڈی ایف سی)’بنائے گی جس پر 4.5لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے ۔گولڈن فور لین اور تھری لین ٹریکس پر گاڑیوں کی رفتار بڑھانے کے لئے ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے ۔مسٹر گوئل نے کہا ریلوے کے ایک ایک مسئلے کو جڑ سے پہچاننے اور اسی جگہ سے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی ہے اور کس طرح سے سیاست سے دور رہ کر ملک اور عوام کی بھلائی کو ریلوے میں آگے بڑھایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی نجکاری کی بات کہی جارہی ہے لیکن ہمیں سہولیات بڑھانی ہیں۔بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو،اچھا بہتر سفر ہو، مال ڈھلائی بڑھے ۔اس کے لئے نجی سرکاری ساجھے داری(پی پی پی)ماڈل پر کام ہوگا۔کچھ اکائیاں کارپوریشن کے حوالے کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ریلوے میں 50لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کریں گے ،یہ ہمت بھرا فیصلہ ہے ۔ہم نئی سوچ سے نئی سمت میں کام کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سال 10-2009میں تحفظ پر 2107کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے لیکن اس سال ہم نے 5690کروڑ روپے اس کے لئے مختص کئے ہیں۔تحفظ پر توجہ دینے سے گزشتہ سال میں حادٹوں کی تعداد میں 95.5کی سطح پر آگئی ہے اور اموات کی تعداد 50سے کم رہ گئی ہے ۔ایسی بہتری ریلوے میں پہلی کبھی شاید ہی دیکھی گئی ہو۔انہوں نے کہا کہ آمدورفت کی لاگت پر ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کا دباأ ہونے کی وجہ سے کارکردگی میں بہتری اور خرچوں میں کمی لائی گئی۔اس سے ریلوے منافع میں برقرار رہی۔بھارتیہ جیون بیمہ کارپوریشن سے سرمایہ لانے کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ریلوے کے وزیر نے کہا کہ ایل آئی سی سے اب تک تقریباً 18000کروڑ روپے کی رقم لی گئی ہے اور جب بھی ضرورت ہوگی تو اور لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے سرمایہ کاری کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس جگہ سے پیسہ لینا چاہے گی جہاں کم سود دینا پڑے ۔ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ملانے کی تنقید کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کرنے کے لئے ملک میں اور دنیا میں ستائش ہوئی ہے ۔ریلوے بجٹ ایک سیاسی بجٹ ہوا کرتا تھا اور ووٹ بینک کو توجہ میں رکھ کر صرف خیالی پلاؤ بن کر رہ گیاتھا۔ایسا بٹ ملک کو اور عوام کو گمراہ کرنے والا ہوتا تھا۔منصوبے اور،اعلان بہت ہوتے تھے لیکن پیسہ مختص نہیں ہوتا تھا۔مسٹر گوئل نے کہا کہ ریلوے نے رولنگ اسٹاک کی تجدید کاری کے لئے کام کرتے ہوئے پرانے آئی سی ایف کوچوں کی تعمیر پوری طرح بند کردی ہے اور اب صرف ایل ایچ بی کوچوں کی تعمیر کی جارہی ہے ۔انہوں نے کا کہ آئی سی ایف کوچوں کو اوورہالنگ کرکے نہیں بھیجیں گے ۔ان کی جگہ ایل ایچ بی کوچوں کو ہی لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ممبئی میں آٹومیٹک سگنکل سسٹم لگا ہوا ہے اور اس سے دو تین منٹ میں ایک گاڑی چل سکتی ہے اسی طرح سے پورے ملک میں اسی نظام کو لایا جائے گا اور اس کے لئے بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی ۔ریلوے کے وزیر نے کہا کہ ٹریکوں کی تجدید کاری کا کام چلا رہا ہے ۔اگلے کچھ برسوں میں پورے ملک میں براڈ گیج لائنوں کی صد فیصد بجلی کاری کردی جائے گی جس سے ہزاروں کروڑ روپے کا ڈیزل بچے گا،غیر ملکی کرنسی بچے گی اور ماحول میں بہتری ہوگی۔ بایو ٹوائلٹ سے منسلک ایک سوال کے پر مسٹر گوئل نے کہا کہ کل 58،400کوچوں میں دو لاکھ 58ہزار بایوٹوائلٹ میں سے دو لاکھ دس ہزار بایوٹوائلٹ لگائے جاچکے ہیں۔باقی 12 ماہ کے اندر لگائے جائیں گے ۔مسٹر گوئل نے کہا کہ اس بحث میں 99افراد نے حصہ لیا ہے اور انہوں نے اراکین کے مشوروں اور مطالبوں کو تقریباً 140پیجون میں سمیت کرلکھاہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی ارکان کو انفرادی طورپر خط لکھ کر مانگی گئی معلومات دیں گے ۔بعد میں ایوان نے اپوزیشن کی کٹوتی سے متعلق تجویزوں کو ثوتی ووٹوں سے خارج کیا اور الاٹمنٹ سے متعلق مطالبوں کو منظور کردیا۔یواین آئی