تازہ ترین

۔1957میں قائم کیا گیا سکول ہنوزدرجہ بڑھانے کا منتظر

ڈوڈہ کے مرمت علاقہ کے لوگوں میں شدید ناراضگی

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نصیر احمد کھوڑا
 ڈوڈہ// علاقہ مرمت ضلع ڈوڈہ کا ایک وسیع اور دور افتادہ علاقہ ہے جہاں چند تعلیمی ادارے 40 سال سے قبل قائم کئے گئے مگر ابھی تک ارباب اقتدار نے ان کی درجہ بندی عمل میں نہیں لائی ۔گورنر انتظامیہ نے ریاست میں کئی قدیمی تعلیمی اداروں کا درجہ ہائی سکول سے ہائر سکنڈری سکول تک بڑھایا ہے مگر منگونہ مرمت ہائی سکول کو نظر انداز کیا گیا ۔ اس کادرجہ نہ بڑھانے اور اس کو مسلسل نظر انداز کرنے پر یہاں کی عوام ، سرپنچوں، پنچوں نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیاگیا اور بتایا کہ سال 1957ء میں قائم کئے گئے اس کا پرائمری سکول سے ہائی سکول تک درجہ بڑھایا دیا گیا مگر اس کی پیش رفت نہ ہوسکی۔ انہوں نے بتایاکہ اس سکول میں جگہ کی کوئی کمی نہیں ہے ،یہاں 16 سے زائد کمرے موجود ہیں فیدنگ سکول ، مڈل سکول لابی، مڈل سکول سڑک ۔مڈل سکول کنٹھی۔ مڈل سکول سمدان پور اور مڈل سکول گدھوری۔ مڈل سکول منڈول ، مڈل سکول راہی ، پبلک سکول منگوتہ اور 10 دیگر پرائمری سکول جن میں GPSمنگوتہ ، پرائمری سکول تھرو وغیرہ شامل ہیں،اس کے اردگرد ہیں۔ ہائی سکول منگوتہ میں اس وقت بچوں کی تعداد307 ہے جبکہ دیگر قریبی سکولوں میں بچوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔تاہم ستم ظریفی کی بات ہے کہ منگوتہ سے ہائر اسکنڈری سکول گوہا تک بچوں کو شدید سردی اورگرمی میں بارہ کلو میٹر مسافت طے کرنی پڑتی ہے جبکہ اپ گریڈکیاگیابہوٹہ سکول آٹھ کلو میٹر کی دوری پر ہے ۔ مقامی آبادی کا الزام ہے کہ 33سال بطور ہائی سکول کام کرنے کے باوجود ارباب اقتدار نے ابھی تک اس کو ہائر سکنڈری سکول کادرجہ نہیں دیا گیا جبکہ دیگر کئی سکولوں کی درجہ بندی کی گئی مگر منگوتہ کی عوام کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیاگیا ۔انہوں نے کہاکہ سابقہ حکمران اور موجودہ گورنر انتظامیہ کے حکام بالا کیایہ بتاسکتے ہیں کہ منگوٹہ مرمت علاقہ کے تعلیم حاصل کرنے والے بچے ہمارے سماج کاحصہ نہیں اور ان کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکول یا دیگر سہولیات پہنچانا حکمرانوں وتعلیم کے اعلیٰ حکام کی ترجیحات میں شامل نہیں۔