تازہ ترین

قطر میں امریکہ ۔طالبان مذاکرات

عدل کے فلک سے اگر امن برسے

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
پچھلے  دنوں میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں۔دوحہ میں طالبان کا ایک سیاسی و سفارتی دفتر واقع ہے۔ اس دفتر نے پچھلے کئی سال سے امریکہ کے لئے طالبان کے ساتھ سفارتی رابطہ ممکن بنایا ہے۔قطر کے شاہی خاندان نے طالبان کے سیاسی دفتر کیلئے امکانات فراہم کر کے مذاکراتی عمل کیلئے زمین ہموار کی ہے۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ رابطہ قائم کر کے کئی عالمی طاقتیں افغان مسائل سے روشناس ہونے اور اپنے تحفظات کی رکھوالی کیلئے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف رہیں ہیں ۔ اِن عالمی طاقتوں میں امریکہ پیش پیش رہا ہے چونکہ امریکی فورسز افغانستان میں کئی دَہائیوں سے اپنے مملکتی تحفظات کیلئے مصروف عمل ہیں۔افغانستان میں امریکی افواج کے علاوہ امریکہ کے مغربی حلیفوں کی افواج بھی مختلف اوقات میں مختلف تعداد میں رہیں ہیں۔ اپنے نیٹو حلیفوں کی افواج کو امریکی افواج کے شانہ بہ شانہ کھڑا کر کے امریکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مشغول رہا ہے کہ عالمی رائے عامہ خارجی افواج کی موجودگی کو افغانستان میں امنیت قائم کرنے کیلئے الزامی مانتی ہے۔ امریکہ اور اُسکے مغربی حلیفوں نے افغانستان کو اپنے منصوبوں کے مطابق تشکیل دینے کی سالہا سال تلاش کی لیکن یہ منصوبے افغانی مزاحمت کے سامنے ہیچ ثابت ہوئے۔ انجام کار آج امریکہ اُس مقام پہ کھڑا ہے جہاں وہ افغانستان سے واپسی کی راہوں کی تلاش میں ہے البتہ ہزیمت اٹھانے کے بعد وہ سفارتی بازی میں مات کھانے کیلئے تیار نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح افغانی مسائل پہ حاوی رہنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی یہ تلاش دیرینہ ہے۔
افغانستان کی ماضی قریب کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ 1979ء میں سوؤیت یونین نے فوجی تہاجم سے اِس ملک کو زیر کرنے کی کوشش کی۔مدعا و مقصد در اصل یہ تھا کہ خلیج کے گرم پانی کے قریب پہنچا جائے ۔۔روس انتہائی سرد ملک ہے جس کے ساحل یخ زدہ ہیں۔اپنی اسٹرٹیجک (Strategic) کمزوری پہ قابو پانے کیلئے سوؤیت یونین نے افغانستان کی راہ لی تاکہ وہاں سے پاکستان کی زمینی راہرو کے ذریعے خلیج کے گرم پانی تک رسائی حاصل ہو سکے۔امریکہ سوؤیت اردوں کے آڑے آیا اور ایسا اسلامی فورسز کی ایک عالمی کولیشن سے ممکن ہو سکا۔ اسلامی جہادی جتھے سوؤیت یونین کا فوجی مارچ روکنے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ سوؤیت یونین کی عالمی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان بھی پہنچا گئے۔سنٹرل ایشیا کی اسلامی ریاستیں برسہا برس کے استبداد سے آزاد ہوئیں۔ مشرقی یورپ پہ سوؤیت یونین کی بالادستی ختم ہوئی اور یہ عالمی سپر پاور صرف روس میں سمٹ کے رہ گیا۔ سوؤیت یونین کی پسپائی کے بعد افغانستان کی حکومت اسلامی فورسز کے ہاتھوں میں آئی لیکن اِن فورسز کی صف بندی میں رخنے کے سبب آپسی تضاد قائم رہا۔ یہ تضاد طالبان کی مکمل بالا دستی پہ منتج ہوا لیکن نائن الیون (9/11) کے بعد امریکی تہاجم نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا ، زمام اقتدار اپنے مہروں کے سپرد کی اور خود نظارت کی مسند پہ براجمان رہا۔ طالبان نے کچھ ہی سالوں میں دم سنبھالا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج افغانستان کے نشیبی علاقوں پہ قابض ہو گئے تا اینکہ کم و بیش 50فیصدی افغان اراضی پہ طالبان کا کنٹرول قائم ہواجبکہ امریکہ کی حامی حکومت کابل و کچھ مرکزی شہروں تک محدود رہی۔طالبان اپنی پیشرفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ نے پہلے پہل 2014ء تک اپنی منجملہ افواج کی واپسی کا عندیہ دیا تھا لیکن یہ عملی نہیں ہو سکا ۔ بارک اوباما بحثیت صدر واپسی پہ آمادہ نظر آ رہے تھے لیکن امریکہ کی عالمی اسٹرٹیجی Strategy)) میں یہ فیصلہ سما نہ سکا ۔امریکہ کی خارجی حکمت عملی میں جہاں فوگی بوٹم (Foggy Bottom) کا اثر ہے وہی پنٹاگون (Pentagon) بھی اِس پالیسی کو متاثر کرتا ہے ۔  فوگی بوٹم میں امریکہ کی وزارت خارجہ کا دفتر ہے جبکہ وزارت دفاع کا مرکزی دفتر پنٹاگون میں واقع ہوا ہے۔ اِن دو دفاتر میں اکثر خارجی امور کے بارے میں تضاد رہتا ہے اورپھر کاخ سفید  (White House)کیلئے یہ فیصلہ مشکل بن جاتا ہے کہ فوگی بوٹم کی بات کا مان رکھا جائے یا  پنٹاگون کی رائے کو فوقیت دی جائی۔کاخ سفید میں امریکی صدر کے ویسے اپنے بھی صلا ح کار ہوتے ہیں جو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر (National Security Advisor) کے دفتر سے منسلک ہوتے ہیں۔یہ دفتر کاخ سفید میں ہی واقع ہوا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کئی دفاتر کے اشتراک سے بنتی ہے جو ہمیشہ ہمرکاب نہیں ہوتے۔  
امریکہ کے سابق صدربارک اوباما اپنے 2014ء میں امریکی فوجوں کی واپسی کے وعداے پہ قائم نہیں رہ سکے البتہ اُنکے جانشین ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوراں ہی فوجی انخلا کا اعلان کرتے رہے لیکن کاخ سفید میں صدارت کی کرسی پہ براجمان ہونے کے بعد وہ اپنے وعدے پہ قائم نہیں رہ سکے ۔ اپنے وعدے کے برعکس اُنہوں نے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ۔اُنہوں نے پاکستان کو تند و ترش لہجے میں حدف تنقید بنایا ۔الزم یہ رہا کہ امریکی امداد کے باوجود پاکستان نے امریکی احداف کی تکمیل میں ہاتھ نہیں بٹایا۔ پاکستان پہ طالبان اور حقانی گروپ کی اعانت کا الزام لگا جس کی پاداش میں امریکی امداد بند کر دی گئی اور پاک امریکی تعلقات ایک بد ترین دور سے گذرے حتّی کہ افغانستان میں وسیع تر بھارتی رول کی حمایت میں کاخ سفید کی آواز بلند ہوئی۔ بھارت اپنے اسٹرٹیجک (Strategic)  مقاصد کی بر آوری میں افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھر پور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بھارت کے اسٹرٹیجک مقاصد میں پاکستان کو دفاع میں گہرائی سے محروم رکھنا ہے۔یہ گہرائی افغانستان کی اراضی ہی پاکستان کو میسر کر سکتی ہے اور طالبان کے دور حکومت میں پاکستان کو یہ سکوں میسر رہا ۔امریکی کی سر پرستی میں جو حکومتیں بر سر اقتدار رہیںاُن کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا البتہ پاکستان اور افغانستان کا جغرافیائی صحنہ اور اِس سے جڑے سیاسی،سفارتی اور اقتصادی امور نہ صرف امریکی منصوبے کے آڑے آ رہے ہیں بلکہ افغان حکومت کے موجودہ رہبر چاہے وہ پختون ہوں یا شمالی تاجک ہوں اُن کو بھی اپنے سیاسی احداف پہ نظر ثانی کرنے پہ مجبور کر رہے ہیں۔
پاکستان سے جڑے جغرافیائی حقائق اور سیاسی،سفارتی و فوجی پیرائے جو منجملہ اسٹرٹیجک امور سے تعلق رکھتے ہیں حالات و واقعات پہ اپنی چھاپ ڈالے بغیر نہ رہ سکے ۔ انجام کار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغانستان میں امنیت قائم کرنے میں مدد مانگی۔پچھلے مہینے جون کے آواخر میں افغان صدر اشرف غنی بھی پاکستان کے اپنے دورے میں سیاسی اور فوجی حکمرانوں سے صلاح مشورہ کرتے رہے۔ماضی کی مانند اُن کا لہجہ پاکستان کی نسبت تلخ نہیں تھا بلکہ اُنہوں نے مذاکرات کی سمت میں پاکستانی اعانت کی تعریف کی۔
امریکہ یقینناََ افغانستان سے فوجی انخلا چاہتا ہے لیکن وہ اِس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جو بھی حکومت افغانستان میں بنے وہ امریکی مفادات اور تحفظات کا خیال رکھے۔ امریکی کی مشکل اساسی یہ ہے کہ طالبان افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ ایک ہی نشست میں بیٹھنے کے لئے حاضر نہیں۔ طالبان اپنے موقف پہ قائم ہے کہ افغان حکومت امریکہ کی در پروردہ ہے لہذا قابل اعتنا نہیں۔ امریکی فوجی انخلا کی صورت میں طالبان یہ قول و قرار دینے پہ آمادہ ہے کہ افغانستان کی سر زمین کو دہشت گردی کیلئے کسی بھی صورت میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور کوئی بھی ایسی کاروائی نہیں ہوگی جس سے امریکی مفادات کو زک پہنچنے کا امکاں ہو۔اس قول و قرار کے باوجود امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جس کے کل پرزے طالبان کے کنٹرول میں رہیں۔امریکہ ایسا لگتا ہے کہ ایک کو لیشن سرکار کا حامی ہے جس میں اُس کے گماشتے بھی شامل رہیں ۔طالبان اگر چہ ایک وسیع سرکار کی حامی ہے جس میں طالبان کے علاوہ کچھ ہمنوا سیاسی قوتیں شامل رہیں لیکن ایسا نظر نہیں آتا کہ طالبان اور امریکہ کے گماشتے ایک ہی صفحے پہ نظر آئیںچونکہ اختلافات کی خلیج وسیع ہے۔ حالیہ مہینوں میں روس نے بھی افغان سیاسی گرہوں کو ایک ہی میز پہ لانے کی کوشش کی ۔طالبان اور کئی افغانی احزاب اِس میں شامل رہیں لیکن افغان حکومت کے نمائندے اِس میں شامل نہیں ہوئے۔ پاکستان نے بھی حال ہی میں افغان حکومت، دیگر سیاسی احزاب اور طالبان کو ایک ہی میز پہ لانے کی کوشش کی لیکن طالبان نے ہاتھ کھنچ لیا حالانکہ طالبان پر پاکستان کا مثبت اثر ایک مانی ہوئی بات ہے۔
حالیہ برسوں میں روس اور ایران نے بھی طالبان کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی کی زمیںہموار کر نے کی سعی کی ہے حالانکہ ماضی میں طالبان اور ایران کے مابین کافی مسائل تھے۔ طالبان کی روس کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی امریکی احداف سے میل نہیں کھاتی۔ امریکہ کے احداف میں روس و ایران کو افغان امور سے ممکنہ حدوں تک دور رکھنا اور افغانستان میں بھارت کے وسیع تر رول کیلئے زمین ہموا رکرنا بھی شامل ہے ۔امریکہ کی سیاسی و سفارتی شطرنج میں کئی مہریں ہیں جن کو وہ آگے پیچھے کر کے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ بہ اسراع وقت افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے ۔طالبان یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہ وہ امریکہ کی مانند جلدی میں ہیں۔افغانستان کی نصف سے بیشتر اراضی طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور دوحہ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوراں بھی اُنہوں نے اپنے حملے جاری رکھے ہیں۔طالبان کی مکمل فوجی فتح امریکی اردوں پہ بھاری پڑ سکتی ہے اسلئے امریکہ ایک سیاسی تصفیے کا طالب ہے۔امریکہ کی عجلت میں اگر کوئی فارمولہ سامنے آتا بھی ہے تو اُس میں کئی چھید پڑنے کے امکاں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاجس سے یہ پارہ پارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بیشتر مبصرین کا ماننا ہے کہ طالبان بیٹھے رہو اور انتظار کرو کی گیم کھیل رہا ہے جس میں لگتا ہے کہ چت بھی اُسی کی ہے اور پٹ بھی چونکہ طالبان کے برعکس امریکہ کی بازی کے پتے سب کو صاف نظر آ رہے ہیں۔ 
امریکی صدر ٹرمپ نے سال رواں کے پہلے ہی دن ایک ٹویٹ میں پاکستان کو کھری کھری سنا دی لیکن اِسی سال کے وسطی مہینوں میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو کاخ سفید میں ملاقات کیلئے بھی بلایا گیا ہے تاکہ افغان مذاکراتی عمل میں تیزی لانے کیلئے پاکستان کی بھر پور امداد حاصل کی جائے۔ امریکہ ستمبر میں افغان صدارتی انتخابات سے پہلے ہی ایک ہمہ گیر معاہدے کا خواہاں ہے اور یہ رواں مہینہ جولائی کے تیسرے ہفتے میں ٹرمپ:عمران متوقع ملاقات کا سب سے بڑا سبب ہے۔جولائی کے پہلے ہفتے کے دوراں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کا ایک چھ روزہ دور چلا ۔اِس مذاکراتی دور کے بارے میں امریکی ڈپلومیٹ زلمی خلیل زاد کا کہنا ہے کہ یہ دور سب سے زیادہ نتیجہ بخش ثابت ہوا ہے۔خلیل زاد جو کہ افغان نژاد امریکی ہیں کا مزید یہ کہنا رہا کہ جنگ بندی، فوجی انخلا، دہشت گردی اور افغانوں کے مابین ڈائیلاگ کے معاملات پہ بحث و مباحثہ ہوا ہے اور ہم کافی آگے بڑھے ہیں۔سہیل شاہین جو کہ افغان وفد کے مطبوعاتی ترجمان ہیں کا یہ کہنا رہا کہ مذاکرات میں ابھی تک کسی قسم کی دقت پیش نہیں آئی ہے۔ امریکہ:طالبان چھ روزہ مذاکراتی دور کے بعد جرمنی اور قطر کی مشترکہ میزبانی میں مختلف افغان وفود کے مابین ایک مذاکراتی دور ہوا جس میں گر چہ افغان حکومت کا کوئی وفد رسماََ شامل نہیں تھا البتہ اپنی ذاتی حثیت میں کچھ سرکاری عناصر رہے۔افغان خواتین میں سول رائٹس کارکن لیلا جعفری ، افغان اسمبلی کی فوزیہ کوفی بھی افغان وفود کے مابین ڈائیلاگ میں شامل رہیں۔اِن وفود کا آمنا سامنا ایک نیم دائرے کی نشست میں ہوا۔ اِس انٹرا افغان ڈائیلاگ میں 70 ڈیلی گیٹ شامل تھے۔ افغان مسائل پہ بات ہوئی اور جنگ بندی پہ اصرار رہا۔اِن مذاکرات کے بیچوں بیچ مشرقی افغانستان میں طالبان کے ایک کار بمب حملے میں 12 افراد کی موت واقع ہوئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے جس سے یہ عندیہ ملا کہ مذاکراتی عمل ایک حقیقت ہی سہی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان جن کو فوجی بالا دستی حاصل ہے جنگ بندی کی نسبت کوئی بھی قول و قرار دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔انٹرا افغان ڈائیلاگ میں البتہ طالبان نے یہ قول دیا کہ اسلامی کلچر اور اقدار کی بنیاد پہ خواتین کو حصول تعلیم اور کام کرنے کی آزادی ہو گی ۔انٹرا افغان ڈائیلاگ کے بعد طالبان اور امریکہ کے مابین ایک اور مذاکراتی دور ہو گا۔
دوحہ کے حالیہ مذاکراتی عمل میں ایسا لگتا ہے کہ خارجی افواج کے انخلا پہ بات چیت آگے بڑھنے کا امکان ہے اور اِس امر پر بھی کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی چونکہ یہی سبب بنا کہ نائن الیون (9/11)کے بعد امریکہ افغانستا ن پہ حملہ آور ہوا۔اِس کے باوجود ابھی کئی امور پہ لگتا ہے کہ اختلافات ابھی باقی ہیں جس میں طالبان کے ساتھ اقتدار میں حصہ داری،خواتین کے حقوق، اشرف غنی انتظامیہ کا مستقبل اور ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقائی طاقتوں کا رول شامل ہے۔یہ مذاکراتی عمل آگے کیا رنگ لائے گا اِس کا انتظار رہے گا۔اللہ نگہباں!
Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com