تازہ ترین

یوم شہدائے کشمیر: امن و ترقی کیلئے اتحاد لازمی

اجتماعی کوششوں سے ہی ریاست کی ترقی کو ممکن بنایا جاسکتا ہیـ: گورنر

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

 ڈاکٹر فاروق، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، سجاد لون اور شاہ فیصل کا خراج عقیدت

 
سرینگر // 13جولائی یوم شہداء کے موقعہ پر ریاستی گورنر نے اپنے پیغام میں سماج کے سبھی طبقوں کی جانب سے اجتماعی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے ہی ریاست کے ہر محاذ پر تیز تر ترقی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا’’ جموں و کشمیر ہمیشہ آپسی بھائی چارہ اور باہمی یگانگت کے لئے جانا جاتا رہا ہے، لہٰذا ریاست کو امن اور خوشحالی کی جانب لیجانے کیلئے بھائی چارہ کی مشعل فروزاں رکھنے کی اشد ضرورت ہے‘‘۔بی جے پی کے بغیر ریاست کی سبھی سیاسی جماعتیں یوم شہداء مناتی ہیں۔یاد رہے 1931میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج نے 22کشمیریوں کو سرینگر سینٹرل جیل کے باہرشہید کیا تھا، اسی واقعہ کی مناسبت سے یہ دن منایا جاتا ہے۔یہ سبھی جاں بحق کشمیری بعد میں خانقاہ نقشبند صاحب نوہٹہ کے صحن میں ’ مزار شہداء‘ میں دفن کئے گئے۔تاہم علیحدگی پسند جماعتوں کو مزار شہداء کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ادھر ڈاکٹر فاروق اور عمر عبداللہ نے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی دی ہوئی قربانیوں کی روشنی میں ہمیں اپنے مستقبل کیلئے عزم ایثار اور بے لوث خدمت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آزادی سے قبل شخصی راج کے خلاف جدجہد میں عوام نے بے پناہ ہمت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا تھا اور یہ قربانیاں اُسی جذبے کی علامت ہیں۔ اور یہ تاریخ حریت کشمیر کا ایک عظیم ورثہ ہیں۔ اُن کے خون کا ایک ایک قطرہ ہماری خودداری ، آزادی اور آبرو کا ضامن ہے،یہ خون ہم پر ایک قرض ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 22شہداء کے مقدس لہو نے ریاست کی ایک سنہری تاریخ رقم کی، لہٰذا انہیں خراج عقیدت ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ریاست کے جمہوری اداروں،انصاف اور منصفانہ سوچ کی آبیاری کی کوششیں جاری رکھی جا ئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آج عہد کرنا چاہیے کہ انفرادیت سے اٹھ کر عدم برداشت کا معاشرہ  قائم کیا جائے، جہاں ہر ایک آزادجمہوری ماحول میں سامن لے سکے، ہمیں ایک دوسرے کیساتھ آگے آنا چاہیے، ایک بہتر سماج کی نشونما کو ممکن بنائیں جو کہ جمہوری ماحول کے سماج کیلئے ضروری ہے۔پیپلزکانفرنس چیئرمین سجادغنی لون نے شہداء کوخراج عقیدت ادا کرتے ہوئے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ وہ ان کے مشن کوآگے لیجاکر روایتی طور بے اختیار کشمیریوں کو بااختیار اوراُنہیں اُن کی تقدیر کامالک بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شخصی راج کے خلاف تحریک کشمیر کولوگوں نے شروع کرکے جانی قربانیاں دے کر لازوال بنادی ۔1931میں ان کی جدوجہد تبدیلی کیلئے تھی،شخصی راج،ظلم وجبر ورجاگیردارانہ نظام کے خلاف۔ہماری آج کی جدوجہد بھی خاندانی راج ،جس نے شخصی راج کو بھی مات دی ،کیخلاف تبدیلی کیلئے ہے۔جموں کشمیر پیپلز مومنٹ کے سربراہ شاہ فیصل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہداء نے مطلق العنان حکمرانوں اور شخصی نظام کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں۔انکا کہنا تھا کہ انکی قربانی یہاں کے لوگوں کے لئے نئی راہیں متعین کرنے میں مشعل راہ کا کام کریں گی، خاس طور پر نوجوانوں کیلئے تاکہ وہ اپنے حقوق  کیلئے عزت اور انصاف سے لڑ سکیں۔