تازہ ترین

افیون کی ترسیل روکنے میں پولیس ناکام کیوں؟: علماء کی برہمی

منشیات کے عادی نوجوانوں میں 60فیصد ہیپٹائٹس اور ایڈس کے مریض

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //افیون(ہیروئن) اور براون شوگر کا استعمال اس قدر مہنگا ہے کہ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی اس کی قیمت برداشت نہیں سکتے اور نتیجہ نقب زنی اور دیگر جرائم پر منتج ہوتا ہے۔محالجین کا کہنا ہے کہ اس کا نشہ جلد لگتا ہے اور پھر ایڈس اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ پولیس کنٹرول روم سرینگر میں چل رہے انسداد منشیات مرکز (پی سی آر) کے ڈائریکٹر وزہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر مظفر درابو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ،افیون کی دستیابی زیادہ بڑھ رہی ہے اور بچے زیادہ تر اسی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ڈاکٹر مظفر نے کہا’’ جب کوئی نوجوان افیون کو استعمال کرتا ہے تو اُس کو چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس سے ایسے نوجوان میں بے چینی زیادہ بڑھ جاتی ہے، جسم میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور نوجوان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اُس کے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔ڈاکٹر مظفر نے کہا کہ اس کی لت سب سے تیز ہوتی ہے اور حد سے زیادہ استعمال ایچ آئی وی ایڈس اور ہپٹاٹس جیسی مہلک بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 1سے2گرام افیون کی قیمت اڈھائی ہزار سے 5ہزار ہوتی ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر ایسے نوجوانوںکیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ خرید سکیں اور نتیجہ چوریاں اور جرائم  بڑھنا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آدمی کتنا بھی اُمیر ہو اس پر ہونے والے خرچ کو برداشت نہیں کر سکتا اور پھر وہ چوریاں اور دیگرجرم کرتا ہے ۔انکا کہنا تھا کہ انسداد منشیات مراکز میں  لائے گئے 60فیصد نوجوان ہپٹائٹس بی یا ایڈس کے شکار ہوچکے تھے۔اسکے علاوہ ایسے نوجوانوں میں نیند کی کمی، حد سے زیادہ پسینے آنا اور اعصابی نظام کمزور ہوجاتا ہے جو انکی موت کی وجہ بن جاتے ہیں۔

علماء کا رد عمل

 میر واعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے منشیات کے آسانی سے ملنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور ناکام ہیں  ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں منشیات کو کیوں روک نہیں پا رہی ہیں، باقی چیزوں میں اگروہ کافی مہارت رکھتے ہیں تو پھر اس مسئلہ پر کیوں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ  منشیات کا استعمال موت کو دعوت دینے کا کام ہے یہ نوجوانوں کے مستقبل کو مکمل طور پر تباہ کرے گا۔میر واعظ نے کہا کہ ہم نے ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا ہے کہ ہم علماء کرام کی ایک کمیٹی  بنائیں گے ، مساجد کمیٹیوں، محلہ کمیٹیوں کے ذریعے کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی زمہ داری والدین کی ہے ، والدین کو یہ دیکھنا ہے کہ اُن کے بچے کس طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ایجنسیوں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کام کررہے اس مافیا سے نپٹے ۔دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مہتمم مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی نے کہا کہ منشیات کی جتنی بھی چیزیں ہمارے سماج میں چل رہی ہیں ،وہ ساری وہ ہیں جنہیں اسلام نے حرام قراردیا ہے،بلکہ باقی تمام مہذاہب میں بھی ان پر سخت پابندی ہے ۔مفتی نذیر نے کہا ’’یہ تمام چیزیں انسان کے اخلاق، صحت ، مزاج ، مال اور سوسائٹی کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سماج میں کچھ طبقے ایسے ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں ،ان پر سخت پابندی عائد ہونی چاہئے، اس کے خلاف ایک ٹاسک فورس بنا کر کارروائی عمل میں لانی چاہئے ۔مفتی نذیر احمد نے کہا کالم نویسوں کو اس پر ایک مہم شروع کرنی چاہئے اور اخبارات میں منشیات سے ہونے والے جسمانی ، اخلاقی اور مالی نقصانات کے متعلق بھی بات لوگوں تک پہنچائی جانی چاہئے ۔جو نوجوان اس لت میں مبتلا ہو چکے ہیں اُن کا نام لئے بغیر اُن کی داستان لکھی جائے اور جتنا زیادہ اُن کے حالات سامنے آئیں گے، اُتنا ہی اس چیز سے لوگوں کو نفرت ہو گی ۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نگرانی رکھیں تاکہ اس کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بار بار اُس پر جانکاری پروگرام منعقد کرائے جائیں۔