تازہ ترین

۔ 1931شہد ائے کشمیر13جولائی| تاریخ کشمیر میں قربانیاں ناقابل فراموش : مین سٹریم

12 جولائی 2019 (52 : 11 PM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//مین سٹریم جماعتوں نے13جولائی 1931کے شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور انہیں سنہرے حروف میں لکھاجاتا رہے گا۔۔  پی ڈی ایف چیئرمین حکیم محمدیاسین نے کہا ہے کہ ریاست کے ان جیالے شہدا نے عوامی حقوق کی پامالیوں اور عوام پر جبرو استحصال کے خلاف اپنی آواز بلند کر کے قوم کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کے عزت و ناموس کی بالادستی کیلئے شہداء کی قربانی کو ریاست کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا رہے گا۔عوامی اتحاد پارٹی سربراہ انجینئر رشید نے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یہ بات دہرائی 13جولائی کے شہدا کے خواب کو تب تک پورا نہیں کیا جا سکتا جب تک نہ کہ کشمیر کا مسئلہ انصاف کی بنیادوں پر حل ہو ۔انجینئر رشید نے مین اسٹریم جماعتوں کے دوغلے پن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ــ’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ 13جولائی 1931کے دن جب نہ ہندوستان خود مختار ملک تھا اور نہ ہی پاکستان کا نام کہیں کاغذوں پر تھا ،جموں کشمیر کی حیثیت ایک آزاد خود مختار ریاست کی تھی جس پر انگریزوں کا کوئی براہ راست کنٹرول نہیں تھا تاہم ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد پچھلے 70برسوں سے اہل کشمیر ان دو ممالک کے درمیان نفرتوں کی انتہا کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے لیڈر محمدیوسف تاریگامی شہداء کوخراج عقیدت اداکرتے ہوئے کہا کہ اس دن کو جموں کشمیرکے لوگوں کی طرف سے سماجی انصاف اورجمہوری و انسانی اقدار کی برقراری کیلئے جدوجہد کے طور منانا ہوگا،یہ جموں وکشمیر کیلئے ایک تاریخی دن ہے اور اس کی اہمیت آنے والی نسلوں تک رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے شہداء کے رول اور اُن کی اہمیت کومسخ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اوراس دن کوصرف کشمیر کے تعلق سے ظاہر کرنے کی سعی کی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دن نے پورے سماج کو جمہوری خطوط پر استوار کرنے کی بنیاد ڈالی۔
 
 

کشمیری قوم شہداء کی مرہون منت، مشن ہنوز نامکمل: مزاحمتی خیمہ 

سرینگر//مزاحمتی جماعتوں اور دینی تنظیموں نے1931کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قربانیاں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے 13؍جولائی 1931کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف اور آزادی کیلئے جموں وکشمیر کے عوام کی جدوجہد بہت پرانی ہے جو ہنوز جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ 1931 کے شہداء کی شہادتیں موجودہ جدوجہد کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔13؍جولائی 1931 کو 22لوگوں کو سینٹرل جیل سرینگر کے باہر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ صحرائی نے کہا کہ 13؍جولائی کے شہداء تاریخ اسلام اور تاریخ کشمیر کے ہیرو ہیں جنہوں نے جموں کشمیر کے عوام کو شخصی حکومت کے ظالموں اور جابروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا۔انہوںنے کہاکہ شخصی راج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ساری قوم ان شہداء کی مرہون منت ہے جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اپنا گرم گرم خون بہایا، موجودہ جدوجہد 13؍جولائی 1931کے شہداء کی تاریخ کا تسلسل ہے ۔انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے کہا کہ ریاست پر کئی دہائیوں سے مسلط شخصی آمریت کے خاتمے کے لئے ان شہدا کی قربانیاں ایک سنگ میل کی حثیت رکھتی ہیں ۔انھوںنے کہ کہ کشمیری قوم ان شہدا کی ہمیشہ مرحون منت رہے گی جنکی قربانیوں کے طفیل اس قوم کو ڈوگرہ شاہی کے انسانیت سوز مظالم سے نجات ملی۔ ڈیمو کریٹک پارٹی ترجمان نے کہا ہے کہ سینٹرل جیل سرینگرکے باہر جن باغیرت شہریوں نے 13 جولائی 1931 کو اپنا گرم لہو پیش کیا اُن کا اُدھورا مشن آگے لے جانے کا سفر جاری رکھا جائے گا۔ترجمان نے 1931سے لیکر2019تک ایک عظیم مقصد کیلئے جان دینے والے جملہ شہید وں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل جیل سرینگرکے باہر جن سرفروشوں نے13جولائی1931کو اپنا گرم لہو پیش کیا اُن کا اُدھورا مشن منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے سفر لگاتار جاری ہے۔پیپلز پولٹیکل فرنٹ سرپرست فضل الحق قریشی اور چیئرمین محمد مصدق عادل نے1931کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوںنے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوںنے کہاکہ اب یہ ہماری ملی ذمہ داری ہے کہ شہداء کی دی گئی قربانیوں کو یاد رکھا جائے اور ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے۔   سالویشن مومنٹچیئرمین ظفر اکبر بٹ نے شہداء کو شاندارخراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے لے جانے کا اپنا عہد دہرایا۔ انہوںنے کہاکہ ’  ہم پہ یہ لازم ہے کہ ہم ان کے مشن کی تکمیل میں دل و جان سے جٹ کرآگے بڑھیں اور اپنی مخصوص سیاسی شناخت کے لئے محو جدوجہد رہیں‘۔ عوامی مجلس عمل نے 13 جولائی1931 کے شہداء اور آج تک کے جملہ شہدائے کشمیر کو ان کی عظیم قربانیوں پر شاندار الفاظ مین خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان قربانیوں کو کشمیریوں کی رواں جدوجہد آزادی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیریوں کی تحریک حق خوداردیت 1931 سے آج تک مختلف مراحل سے گزرتی ہوئے آج ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔بیان میں یہ بات زو ر دیکر کہی گئی کہ طے شدہ پروگرام کے تحت آج 13جولائی کو میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں مرکزی جامع مسجد سرینگر سے بعد نماز ظہر مزار شہداء نقشبند صاحبؒ تک ایک پرامن جلوس نکالا جائیگااور شہداء کو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔ انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے 1931کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج ہی کے دن 1931میں اہل کشمیر کے22 افراد ڈوگرہ شاہی کی بربریت کا سامنا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ انہوںنے کہاکہ جس مقصد کیلئے یہ قربانیاں دی گئی لیکن طویل مدت کے باوجود شخصی راج سے نکل کر اہل وادی محکوم و مظلوم ہیں۔ پیروان ولایت کے ترجمان  نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں نڈر مجاہدین قرار دیا۔ترجمان نے کہا کہ ان شہیدوں نے غلامی کے خلاف آواز اٹھا کر تحریک آزادی کی بنیاد ڈالی اور یہ آواز بلند کی کہ قوم مزید غلامی کو قبول نہیں کرسکتا ہے۔ ترجمان نے آج یوم شہدا ء منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا اولین فریضہ ہے کہ وہ ان قربانیوں کی حفاطت کریں اور ان کے مقدس مشن کی آبیاری کیلئے کسی بھی طرح کی سودا بازی نہ کریں ۔جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ میر واعظ کشمیر مولانا ریاض احمد ہمدانی نے اپنے خراج عقیدت کے پیغام میں کہا کہ اِن جانثار محب وطن افراد نے کشمیری مظلوم اور محکوم عوام کو کئی دہائیوں کی شخصی راج کی غلامی سے چھٹکارا دینے کی خاطر اپنا گرم لہو بہا کر جام شہادت نوش کیا۔ انہوںنے کہاکہ 13جولائی 1931 تاریخ کشمیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دن ہمارا قومی دن ہے جس دن تحریک کشمیر کی بنیاد پڑی۔  حقانی میموریل ٹرسٹ کے سر پرست اعلی سید حمیداللہ حقانی نے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان قربانیوں کو تاریخ کشمیر میں تا ابد زریں الفاظ سے یاد کیاجائیگا۔
 
 

عوام شہداء کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں: بار ایسوسی ایشن 

سرینگر//جموں کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے13جولائی 1931کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُمیدظاہر کی ہے کہ کشمیرکے لوگ شہداء کے مشن کوپایہ تکمیل پہنچائیں گے جس کیلئے انہوں نے گزشتہ 70برس میں زبردست جانی اور مالی قربانیاں پیش کی ہیں۔ایک بیان میں بار نے کہا کہ 13جولائی1931کوہی سینٹرل جیل سرینگر پر اہل کشمیر نے ہلہ بول دیاتھا تاکہ عبدالقدیرخان ،جس نے خانقاہ معلی میں پولیس لائینزجموں میں قرآن کریم کی بے حرمتی کیخلاف تقریر کرکے لوگوں کو متحرک کیاتھا،اس پر ضلع مجسٹریٹ سرینگر نے لوگوں کاغصہ ٹھنڈا کرنے کے بجائے پولیس کو گولی چلانے کا حکم دیااور21معصوم لوگ فائرنگ میں شہید ہوگئے اور300سے زیادہ گرفتار کئے گئے ۔ اس کے بعد1932میں سرینگرمیں مسلم کانفرنس کاقیام عمل میں لایاگیااورچودھری غلام عباس اسکے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ سرینگرمیں مسلم کانفرنس کا پہلا اجلاس 15،16اور17اکتوبر1932کو منعقدہوالیکن مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی جس پر شیخ محمد عبداللہ کا غلبہ تھا ، نے28جون 1938کو مسلم کانفرنس کانام تبدیل کرکے نیشنل کانفرنس رکھ دیا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ انڈین نیشنل کانگریس کے قریب ہوگئی اور پنڈت جواہرلال نہرو کوریاست میںمدعو کیا۔اس کے بعد چودھری غلام عباس اوردیگر نے نیشنل کانفرنس کو خیرآباد کہااور1941میں مسلم کانفرنس کااحیانو کیا اور 1943میں سرینگر میں اس کااجلاس منعقد کیا جس کی قائداعظم محمدعلی جناح نے صدارت کی ۔ مسلم کانفرنس نے اس کے بعد1947تک ریاست کی سیاست میں نمایاں رول اداکیاجب برصغیر دو حصوں میں منقسم ہوا۔