تازہ ترین

سوچ کے زخم

افسانہ

13 جولائی 2019 (01 : 10 PM)   
(      )

شبنم بنت رشید
ہمارے سماج میں خدا کے قہر سے نہ ڈرنے والے کچھ بے رحم لوگ موجود ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ خود چوکیداری پر مامور ہو کر ہر طرح کی خبر رکھنے کے علاوہ کسی اچھے سچے انسان کی اچھائی سچائی کو عام لوگوں کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سچائی کے انداز میں دوسروں تک پہنچانے،پھیلانے اور یقین دلانے کا ہنر جانتے ہیں۔ کبھی کبھی سات پردوں میں رہنے والی کسی کی بہو بیٹی کو بھی نہیں بخشتے۔ کسی پر تہمت لگانا، کسی کی زندگی کو جہنم بنانا ، کسی کا گھر جلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔
ان ہی جیسے لوگوں میں سے کسی ایک کو طالب اور حرمت کی خوشیوں سے بھری زندگی دیکھی نہ گئی۔ طالب کے دل پر شک کا تیر چلا کر اسے حرمت کی طرف سے بدگمان کردیا اور بدگمان ہوتے ہی طالب کے دل میں طرح طرح کی باتیں جنم لینے لگیں۔ وہ باتیں جو حرمت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ پھر اس کے دل میں خطرناک ہلچل مچی اور طوفان اٹھنے لگے۔ حرمت کوئی عام نہیں بلکہ خاص لڑکی اس لیے تھی کیونکہ اس کی اماں نے اس پہلے کئی مرے ہوئے بچوں کو جنم دیا تھا۔
بہت سارے نذر و نیاز کے بعد حرمت کے والدین کو ادھیڑ عمر میں حرمت کی صورت میں اولاد نصیب ہوئی تھی۔ اسی لئے اس
کی پرورش اور تربیت بھی خاص انداز سے ہوئی تھی۔ وہ باکردار، نیک ہونے کے علاوہ ہنس مکھ اور زندہ دل تھی۔ بات کرنے کا الگ ہی انداز تھا۔ ہنسنا، مسکرانا اور کھلکھلانا بچپن کی عادت میں شامل تھا، جو آہستہ آہستہ اس کی پہچان بن گئی۔ جیسے جیسےاس کی عمر بڑھتی گئی تو وہ دنیا کی ایک عظیم نعمت یعنی اپنے سگے بھائی کی کمی کو شدت سے محسوس کرنے لگی لیکن اماں نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری زندگی میں ان شاء اللہ ایسا وقت ضرور آئے گا جب تم خوبصورت اور محبت بھرے رشتوں کی دولت سے مالا مال ہو جاؤ گی۔
جوانی میں قدم رکھتے ہی ابّا نے حرمت کا رشتہ جان پہچان والوں میں ہی طے کیا۔ اس کے سسرال میں صرف تین لوگ تھے۔طالب، ساجد اور ان کی امی عائشہ جہاں۔ شادی ہوتے ہی حرمت سسرال میں گھل مل گئی۔ اپنی نیک طبیعت اور اچھی تربیت کی وجہ سے سب کے دل جیت لیے۔ لاڈلی، شوخ اور چنچل طبیعت ہونے کے باوجود سمجھدار، ذمہ دار اور مہربان لڑکی ثابت ہوئی۔ طالب اس کی ہر ادا پر فدا ہونے لگا۔ امی بھی اس پر ناز کرنے لگی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد رب کائنات نے اسے دو جڑواں بچے عطا کرکے ماں کے درجے پر بٹھایا۔ اس طرح یہ خوبصورت اور محبت بھرے رشتے مضبوط ہوتے گئے اور زندگی سکھ چین سے آگے بڑھنے لگی۔ حرمت اور طالب انتہائی خوش تھے۔ ایک دن امی کو بخار ہوگیا۔آہستہ آہستہ بخار نے جب طول پکڑ لیا تو امی کی پیٹھ بستر سے لگ گئی۔ دو شیر خوار بچے ہونے کے باوجود حرمت نے امی کی خوب خدمت اور تیمارداری کرکے ایک بیٹی اور بہو کا فرض ادا کیا، لیکن امی جانبر نہ ہوسکیں۔ انتقال سے کچھ دن پہلے امی نے اُسے ڈھیر ساری دعائیں دیں، پھر محبت بھرے لہجے میں حرمت سے وعدہ لے کر کہا کہ میری بچی میرے بعد میرے اس گھر کو بکھرنے نہ دینا۔ میرے بعد بھی اس گھر کی عزت اور سالمیت کو برقرار رکھنا۔ میرے جگر گوشوں کا خیال رکھنا۔ ساجد کا خیال اپنا بھائی سمجھ کر رکھنا۔ اسے کبھی میری کمی محسوس ہونے نہیں دینا۔ اسے کبھی اکیلے نہ چھوڑنا اور اُس کی غلطیوں کو معاف کر کے اپنی اور اسکی زندگیوں کو خوبصورت بنانا۔ زندگی بہت طویل ہوتی ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیںلیکن اُن سے کبھی نہ گھبرانا۔ ہمیشہ عقلمندی سے کام لینا کیونکہ عورت کی زندگی قدم قدم پر ایک سمجھوتا ہوتی ہے۔ حرمت کا دل کافی اچھا تھا اس لیے وہ اس وعدے سے کبھی غافل نہ ہوئی۔ شاید اسی لئے امی کا مہربان سایہ سر سے اٹھتے ہی ہر طرف چہ مگویاں شروع ہوگئیں۔ باہر کے حالات سے بے خبر حرمت کئی دنوں سے محسوس کرنے لگی کہ طالب اور اس کی زندگی میں جیسے کچھ بدلاؤ آرہا ہے۔ طالب ہر بات پر ہلکا ہلکا غصہ کرنے لگا ہے۔ کبھی بے زاری سے بات کرکے اچانک خاموش ہو کر کہیں کھو جاتا ہے اور بعض اوقات حرمت کو نظر انداز کرکے اس کی بات کو ان سنی کرکے منہ پھیر لیتا ہے۔ طالب کا بدلا ہوا رویہ دیکھ کر حرمت اپنا محاسبہ کرنے لگی۔ وہ سوچنے لگی کہ کہیں اُس سے کوئی غلطی یا اسکی محبت میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی ہے۔ کبھی وہ معصوم اپنے آپ کو یہ تسلی دے کر مطمئن کرنے لگی کہ شاید یہ اُسکا وہم ہے۔ اس نے ہر پہلو پر سوچا اور غور کیا لیکن وہ معصوم کسی نتیجے پر نہ پہنچی۔ یونہی کچھ وقت گزر گیا۔ طالب ہمیشہ کام سے لوٹتے وقت ڈور بل بجانے کے بعد ایک مخصوص انداز میں دروازے پر دستک دیتا تھا، جب تک حرمت خود دروازہ نہ کھولتی تھی تب تک طالب گھر میں داخل نہ ہوتا۔ یہ حرمت سے اظہار محبت کا ایک الگ انداز تھا، جو طالب نے پہلے دن سے اپنایا تھا۔
آج آسمان کو صبح سے ہی سیاہ بادلوں نے ڈھک لیا تھا۔ ماحول میں عجیب خاموشی کے ساتھ ساتھ عجیب اضطراب سا تھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے۔ ساجد بھی گھر پہنچ چکا تھا لیکن آج طالب ڈوربل بجائے اور دستک دیے بغیر ہی گھر میں ایک زخمی شیر کی طرح داخل ہوا۔ داخل ہوتے ہی ایک طوفان اٹھایا جیسے آج اس نے اپنے چہرے سے شرافت کا نقاب اٹھانے کی قسم کھائی تھی۔ ساجد کو گھر میں بیٹھا دیکھ کر آگ بگولا ہوا اور چلاتے ہوئے اس کا گریبان پکڑ کر پوچھنے لگا کہ تم گھر پر کیا کر رہے ہو؟ ساجد نے اپنے بھائی کو بغور دیکھا لیکن کچھ سمجھ نہ پایا۔ تم بتاتے کیوں نہیں ہو کہ تم اس وقت گھر پر کیا کر رہے ہو۔ طالب نے پہلا سوال دوہرایا۔ ساجد اپنے بھائی کے سوال کو فضول سمجھ کر چپ ہی رہا۔ ایک بار پھر طالب کہنے لگا چپ کیوں ہو؟ جواب کیوں نہیں دیتے؟ تم کیا جواب دو گے، جس کے دل میں چور ہوتا ہے وہ کیا جواب دیگا، جواب تو میں خود دوں گا، طالب نے چلاتے ہوئے کہا کہ تم دونوں میری پیٹھ میں چھرا گھونپ کر مجھ کو بیوقوف سمجھتے ہو جبکہ میں سب کچھ جانتا ہوں، سمجھتا ہوں، میں کوئی گونگا بہرا یا اندھا نہیں ہوں۔ تم دونوں میرے پیچھے گھر کے اندر عشق لڑاتے رہتے ہو۔ تم دونوں کی بدکرداری نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، کہیں منہ دکھانے کے لائق نہ رکھا، پورا محلہ تم دونوں پر تھو تھو کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سنایا۔ ساجد نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اپنی بہن سے بڑھ کر مہربان بھابی کی طرف دیکھا، شاید اسے اپنے بھائی کی باتیں سمجھ نہ آرہی تھی لیکن حرمت کو اپنے من میں اٹھ رہے سوالوں کے جواب مل گئے۔
حرمت پر سکتہ طاری ہوا۔ اسے آج زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا۔ موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ الزام دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا ہم سفر ، دکھ سکھ کا ساتھی تھا، جو کل تک اس کا دیوانہ تھا۔ اس نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ طالب اسکی محبت کا یہ صلہ دے گا۔ لیکن حرمت نے مصلحت اور صبر سے کام لیا، آنسو بہانے اور مسئلے کو طویل دینے کے بجائے اس نے خود کو سنبھالا۔ اپنے آنسو روکے اور اپنے دل کے اندر شدت سے اٹھنے والے درد کو اپنے اندر جذب کر کے بڑی بہادری سے طالب سے کہنے لگی۔ خدا تو ہر دل میں رہتا ہے اپنے بندے کے ہر گناہ نیکی اور نیت سے ہمیشہ واقف ہوتا ہے لیکن کیا خدا آج تک کسی کو گناہ گار یا بے گناہ ثابت کرنے خود آیا ہے،جو لوگ بے خوف ہو کر کسی کو بھی الزام دیتے ہیں۔مجھے سماج کے لوگوں سے گلہ ہے نہ ان کی پرواہ کہ وہ کیا بکواس کر رہے ہیں، گلہ تو مجھے صرف آپ سے ہے۔ طالب مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ آپ رشتوں کو اس طرح مذاق بنائیں گے۔ کاش آپ نے یہ بات زبان پر لانے سے پہلے ایک بار سوچا ہوتا، میری حرمت اور عزت کے بارے میں نہیں تو اپنے گھر کے بارے میں، اپنے سگے بھائی کے بارے میں ایک بار سوچا ہوتا۔ تمہیں پتہ ہے کہ شک اور غلط فہمی سے یا لوگوں کی باتوں میں آکر مضبوط سے مضبوط رشتے، یہاں تک کہ خون کے رشتے، بھی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ ہنستے بستے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ ان باتوں سے دلوں کے اندر ایسی دیواریں کھڑی ہوجاتی ہیں، جن کو گرانا پھر انسان کے بس میں نہیں رہتا اور پھر انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ اپنے گھر میں مل جل کر رہنا، رشتوں کو اہمیت، اپنا مقام اور عزت دینا بدکرداری نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ بدکردار لوگ گھروں کو بسایا نہیں کرتے۔ اگر ہم حسد اور غلط فہمی کے بجائے محبت کے خوبصورت اور شبنم جیسے پاکیزہ جذبوں کو اپنے دلوں میں جگہ دیں تو رشتے پروان چڑھے گیں۔ جہاں تک ساجد کا تعلق ہے میں اسے پہلے ہی بھائی کے درجے پر بٹھا چکی ہوں بھائی تو بھائی ہوتا ہے، چاہے اپنا بھائی ہو یا شوہر کا بھائی یا پھر منہ بولا، یہ ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے۔ اگر ہم مقدس رشتوں سے حسد کریں گے یا ان کو شک کی نظر سے دیکھیں گے تو یہ دنیا کتنی تنگ و تاریک ہوجائے گی اور پھر انسان کہاں جائے گا اور کہاں جا کے رہے گا۔ طالب میرا تو دل اب رشتوں سے بھر گیا۔ حرمت کی ایک ایک بات سن کر طالب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت شرمندہ ہوگیا۔ اتنا شرمندہ کہ نظریں جھکا کر حرمت سے معافی مانگتے مانگتے کہنے لگا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ شاید مجھے اپنے آپ پر بھروسہ نہ تھا اس لئے میں لوگوں کی باتوں میں آ گیا۔ خدا کے لئے مجھ کو معاف کر دو۔ میں معافی مانگنے کے قابل نہیں رہا لیکن تم سے معافی کی امید رکھتا ہوں۔ میں تمہیں معاف کر سکوں یا نہ کر سکوں یہ میں وقت پر چھوڑتی ہوں کیوں کہ معاملہ رشتوں کا ہے، معاملہ کردار کا ہے اور معاملہ غلط فہمی کا بھی ہے۔ اس لیے میں اب اس گھر میں نہیں رہ سکتی اور یہ گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ حر مت نے اپنے آنسو صاف کیے تو کھڑی ہوگئی۔ اس کا رخ گھر کی دہلیز کی طرف تھا اور جیسے ہی اس نے گھر کی دہلیز پار کرنے کے لئے اپنے قدم بڑھائے تو وہ اپنے بچوں کے پنگھوڑے سے ٹکرائی تو اسے امی سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا۔ اس کے قدم خود بخود رک گئے ۔اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن قسمت اسے ایسے دوراہے پر کھڑا کر دے گی۔ اس بات کو گزرے ہوئے کئی سال ہو گئے۔ ساجد اسی وقت اپنے بھائی سے الگ ہوا اور اس میں اپنی بھابی سے نظریں ملانے کی ہمت نہ رہی۔ وہ اپنے بھائی کو کبھی معاف نہ کر سکا کیونکہ اس کے دل سے اس بات کی کسک کبھی گئی ہی نہیں جبکہ حرمت نے اپنے شوہر کو معاف کیا کیونکہ وہ ایک عورت تھی۔ عورت کی فطرت میں معاف کرنے کی ہمت اور صلاحیت ہوتی ہےجبکہ طالب ہمیشہ اپنی ہی نظروں میں گرتا گیا اور اسے شرمندگی کے احساس اور اپنے بھائی کو کھو دینے کے غم نے جیتےجی مار ڈالا۔
���
پہلگام اننت ناگ،موبائل نمبر؛9419038028