تازہ ترین

بارش سے 50ہزار روہنگیا متاثر،10ہلاک

16 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ڈھاکہ//بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع کاکس بازار میں شدید مانسونی بارش اور اس کی وجہ سے تودے گرنے سے اب تک 50ہزار روہنگیا متاثر ہوئے ہیں اور جھوپڑی نما 5000 پناہ گاہیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ اس کی وجہ سے اب تک کم از کم 10لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ کاکس بازار ضلع میں دو جولائی سے اب تک کم از کم 58.5سینٹی میٹر(تقریباً دو فٹ)بارش درج کی گئی ہے ۔اس ضلع میں میانمار میں فوج کی کارروائی کے بعد 10لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین مختلف راحت کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور زیادہ تر نے رہنے کے لئے جھوپڑی نما گھر بنا رکھا ہے ۔انٹرنیشنل آرگینائزیشن فار مائگریشن (آئی او ایم)کے ترجمان نے کہا کہ جولائی کے پہلے دو ہفتوں میں پناہ گزین کیمپوں میں شدید بارش سے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے جس میں تقریباً 4،889ترپال اور باسوں سے بنائے گئے گھر تباہ ہوگئے ۔پناہ گزینوں کے زیادہ راحت کیمپ پہاڑی ڈلانوں پر بنے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ میانمار کی سرحد کے پاس بنے کیمپوں میں اپریل سے 200سے زیادہ مرتبہ تودے گرنے کے حادثے ہوئے ہیں اور کم از کم 10 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ اس دوران کل 50ہزار پناہ گزین متاثر ہوئے ہیں۔پچھلے ہفتے شدید بارش کی وجہ سے دو روہنگیا نابالغوں کی مو ت ہوگئی،جبکہ 6000 دیگر پناہ گزین بے گھر (راحت کیمپوں کے بغیر)ہوگئے ۔اقوام متحدہ نے کہا کہ پانچ اسکول بری طرح اور 750سے زیادہ تعلیمی مراکز جزوی طورپر تباہ ہوگئے اور اس سے تقریباً 60ہزار بچوں کی اسکولی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔بے گھر پناہ گزینوں نے کہا کہ وہ بارش سے متاثر ہیں کیونکہ اس سے روزانہ کے استعمال کا سامان راحت کیمپوں تک پہنچانے میں دقت ہورہی ہے ۔ایک روہنگیا پناہ گزین نورین جان نے کہا کہ مٹی کے دلدل سے ہوکر کھانا تقسیم کرنے والے مراکز تک جانا مشکل ہے ۔بارش اورتیز ہوا نے ہماری زندگی اور زیادہ مشکل بنا دی ہے ۔پناہ گزینوں نے پینے کے پانی کی کمی اورصحت سے متعلق ایک بھیانک بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی)کی ترجمان گوما سنوڈن نے کا کہ مانسون سے نمٹنے کے لئے انہیں کیمپوں میں مدد میں اضافہ کرنا پڑا۔شدید بارش کی وجہ سے اب تک 11ہزار 400لوگوں کو اور زیادہ کھانے کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ پچھلے سال پوری جولائی میں صرف 7000لوگوں تک ہی یہ مدد پہنچائی گئی تھی۔یواین آئی