تازہ ترین

باغی اراکین اسمبلی کی عرضی پر فیصلہ بدھ کے روز

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کے بارے میں اسمبلی اسپیکر کو ہدایت دینے سے متعلق عرضی پر منگل کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔   چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔  بنچ بدھ کے روز صبح 10 بجے فیصلہ سنائے گا کہ کیا سپریم کورٹ اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کو متعینہ مدت میں منظور کرنے کا اسپیکر کو ہدایت دے سکتا ہے یا نہیں۔  عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ جن اراکین اسمبلی کے خلاف نااہل ٹھہرائے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ اس کے بعد وہ اسپیکر کو استعفیٰ پر فیصلہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے یا نہیں۔ باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکر کے ذریعے ان کااستعفیٰ منظور نہ کیے جانے کو چیلنج کیا ہے ۔ عرضی گزار باغی ارکان اسمبلی کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بینچ کے سامنے دلیل پیش کی کہ سبھی 10عرضی گزاروں نے گزشتہ 10جولائی کو استعفی دے دیا تھا اور ان میں سے صرف دوکو نااہل قرار دینے کی کارروائی کے لئے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ جن دو اراکان اسمبلی کو نااہل ٹھہرائے جانے کا عمل شروع کیاگیا ہے ،ان میں سے ایک امیش جادھو کا استعفی قبول کرلیاگیا ہے ،جبکہ دیگر کے لئے دوہرا برتاؤ کیوں اپنایا جارہا ہے ۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 190 کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ اگر کوئی رکن استعفی دیتا ہے تو اسے منظور کیا جانا چاہئے ،بھلے ہی اس کے خلاف نااہل ٹھہرائے جانے کا عمل شروع کیوں نہیں کیاگیا ہو؟ انہوں نے کہا،‘‘میں( عرضی گزار)یہ نہیں کہتا کہ ہمارے خلاف نااہل ٹھہرائے جانے کا عمل مسترد کیا جائے ،بلکہ یہ عمل جاری رہے ،لیکن استعفی کو دباکر نہیں بیٹھاجائے ۔