تازہ ترین

مسلم اکثریتی علاقہ ڈونگر ی میں چار منزلہ عمارت منہدم ،3افراد لقمہ اجل

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ممبئی//عروس البلاد ممبئی میں مسلم اکثریتی علاقہ ڈونگر ی میں ایک صدی قدیم چار منزلہ عمارت منہدم ، قیصر بائی منزل کے آج تقریباً پونے بارہ بجے منہدم ہونے کی وجہ سے متعدد افراد کے ملبے میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ سات سے آٹھ مکینوں کو ملبے سے نکال کر قریبی جے جے اسپتال پہنچایا گیا ہے ،جوکہ صرف آدھاکلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور فی الحال دو لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔جبکہ ایک خاتون اور دوسالہ بچہ معجزاتی طورپر ملبے سے زندہ نکال لیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہاکہ مہاڈا کے تحت عمارت کے مکینوں نے ازسر نو تعمیر کی درخواست کی تھی ،لیکن اس کی تعمیر میں کیا دشواری پیش آئی اس کی تحقیقات کی جائے گی۔اس عمارت میں 16\\15 خاندان مقیم تھے ۔منہدم عمارت کی ملکیت کے بارے میں میونسپل کارپوریشن اور مہاڈا کے درمیان تنازع شروع ہوچکا ہے ۔حالانکہ وزیراعلیٰ فڑنویس نے اسے مہاڈا کے زیرانتظام عمارت قراردیا ہے ،جسے ازسرنوتعمیر کیے جانا تھا اور 2012میں ہی اسے خالی کرانے کے لیے نوٹس دیا گیا تھا ،لیکن تعمیراتی کمپنی اور مکینوں کے درمیان تال میل نہ ہونے کے سبب ایسا نہیں ہوسکا ،فڑنویس نے کہا ہے کہ اس ے بارے میں تحقیقات کی جائے گی۔ دریں اثنائممبئی پولیس نے اس تنگ گلیوں والے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے ،فائر بریگیڈ کے عملہ مقامی نوجوانوں اور این جی اوز کے کارکنان کی مددسے راحتی کام میں مصروف ہے ،،این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں ،جن کے ساتھ جاسوس کتے بھی ہیں اور تنگ گلیوں کی وجہ سے راحتی کام میں دشواری پیش آرہی ہے مذکورہ عمارت معروف حضرت عبدالرحمن شاہ بابا کے مزار کے نزدیک واقع ہے ۔ان تنگ گلیوں میں موٹرگاڑیوں اور بائیک کی بے ترتیب پارکنگ کے سبب بھی مسئلہ پیدا ہورہا ہے اور فائربریگیڈ کی گاڑیاں سردار ولبھ بھائی پٹیل روڈ اور خوجہ قبرستان چار نل پر کھڑی کی گئی ہیں. اس جائے حادثہ پر موجود مقامی شہری اور صحافی سعدیہ مرچنٹ نے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صبح ساڑھے گیارہ بجے کے آس پاس یہ حادثہ پیش آیا اور 20-25مکینوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے کا اندیشہ ہے ،اس وقت خواتین اور بچوں ہی گھروں میں تھے جبکہ عمارت کے نیچے واقع دکانوں میں بھی لوگ ہوں گے ،جن کی تلاش مقامی لوگوں اور فائربریگیڈ کے عملے کے ذریعے جاری ہے ،تنگ گلی ہونے کی وجہ سے کرین یا جے بی سی مشین کے عمارت تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ،اس لیے عام طورپر ملبے کی صفائی جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کے ملبے میں 40-50 افراد پھنسے ہوں گے اور پولیس اور بی ایم سی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے مطابق عمارت ڈونگری علاقہ میں منہدم ہوئی اور ابتدائی کارروائی میں 5 افراد کو بچایا گیا ہے ۔ حادثے کے بعدمقامی لوگوں اور این ڈی آر آر ایف ٹیم بچاو [؟] کے کام میں مصروف ہیں۔ عمارت میں تقریبا 15 خاندان رہائش پذیر تھے ، بہت سے فائر ٹینڈریں جگہ پر دستیاب ہیں بلکہ انہیں اہم شاہراہ ایس وی روڈ پر روک دیا گیا ہے اور جے جے اسپتال تک ایک گرین کروریڈوربنایا گیا جوکہ محض نصف کلومیٹر پر واقع ہے ،تاکہ زخمی افراد کو لے جانے میں دشواری پیش نہ آئے اور بے ترتیب موٹر گاڑیوں اور بائیک کو ہٹا نے کی کوشش جاری ہے اور مقامی مکینوں سے کہا جارہا ہے کہ اپنی گاڑیوں کو ہٹا لیں۔ پولیس کمشنر سنجے بروے اور بی ایم سی کمشنر پردیسی سمیت اعلی افسران اور پولیس اہلکار جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔ این ڈی آر ڈی ایف ٹیم نے ریسکیو آپریشن کو جاری رکھا ہے اور مقامی افراد کے ساتھ ملبے کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں،راحتی ٹیمیں زیادہ سے زیادہ جتنی جلدی ممکنہ طور پر زندہ بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔یو این آئی