تازہ ترین

مغل شاہراہ اور کیشوان سڑک حادثات، عدالت عالیہ کا سنجیدہ نوٹس

مفاد عامہ کی عرضی دائر،سرکار کو 3ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت

16 جولائی 2019 (40 : 10 PM)   
(      )

سید امجد شاہ
جموں  //جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے مغل شاہراہ اور کیشوان سڑک حادثات پر 48افراد کی ہلاکت پر دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر حکومت سے تین ہفتوں کے اندر جواب طلب کیاہے ۔ مفاد عامہ کی یہ عرضی پونچھ سے تعلق رکھنے والے وکیل انتخاب احمد قاضی نے دائرکی ہے جس میں انہوں نے 27جون کو مغل شاہراہ پر پیش آئے سڑک حادثے پر حکومت کو اے آر ٹی او پونچھ ، اے آر ٹی او شوپیاں ، ایس ایس پی رورل ٹریفک جموں ، ایس ایچ او سرنکوٹ کے خلاف کارروائی کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیاہے جنہوں نے عرضی دائر کے مطابق اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں لاپرواہی سے کام کیا جس کے نتیجہ میں یہ حادثہ پیش آیا ۔اس پر ڈیویژن بنچ نے ٹرانسپورٹ کمشنر جموں وکشمیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ مغل شاہراہ پر پیش آئے حادثے میں 11طلباء کی ہلاکت پر انکوائری رپورٹ پیش کریں ۔جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر اور جسٹس سندھو شرما پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مغل شاہراہ اور کیشوان سڑک حادثات کا کھلی عدالت میں سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے تین ہفتوں کے اندراندر سوالات کاجواب طلب کیاہے۔ایڈووکیٹ شیخ شکیل کے ہمراہ ایڈووکیٹ راہل رینہ ، ایڈوکیٹ سپریا چوہان اور ایڈوکیٹ ذوالقرنین چوہدری کے عرضی گزارکی طرف سے دلائل سننے کے بعد ڈیویژن بنچ نے ٹرانسپورٹ کمشنر جموں وکشمیر کو ہدایت دی کہ وہ مغل روڈ پر حادثے کاشکار ہونے والے ٹیمپو ٹریولر کے روٹ پرمٹ کی معیاد ،پرمٹ وفٹنس سرٹیفکیٹ اور حادثے کی وجوہات پر مشتمل  انکوائری رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کریں ۔بنچ نے سڑکوں پرجاری موت کے رقص خاص طو رپر مغل شاہراہ اور پرانے ضلع ڈوڈہ میں پیش آرہے مہلک حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔بنچ نے مغل شاہراہ اور کیشوان سڑک حادثات کے تناظر میں راجوری پونچھ اور پرانے ضلع ڈوڈہ میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد ،حادثے کاشکار ہونے والی ائورلوڈگاڑیوں پر کی گئی قانونی کارروائی ،تیزرفتاری سے گاڑی چلانیوالے ڈرائیوروں کے لائسنسوں سے منسوخی اوراین سی آر دہلی کی طرز پر15سال سے زائد عرصہ سے چل رہی کمرشل/مسافر گاڑیوں پر بین سے متعلق سوالات مرتب کئے جن کا حکومت کو جواب دیناہے۔اس کے علاوہ بنچ نے پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ ،کمشنر /سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ،کمشنر/سیکریٹری محکمہ تعمیرات عامہ ،کمشنر/سیکریٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ،ریاستی پولیس کے سربراہ ،ڈپٹی کمشنر پونچھ،راجوری اور شوپیاں،انسپکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک)،ٹرانسپورٹ کمشنر جموں وکشمیر،چیف انجینئر مغل روڈ پروجیکٹ،ایگزیکٹو انجینئر مغل روڈ پروجیکٹ، ایس ایس پی ٹریفک رورل جموں/کشمیر،آر ٹی او جموں، اے آر ٹی اوز پونچھ، راجوری و شوپیاںکے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر جواب طلب کیاہے ۔اس دوران سٹیٹ کونسل کی طرف سے بنچ کو یہ یقین دلایاگیاکہ جوابات مقررہ مدت کے اندر عدالت کے سامنے پیش کئے جائیں گے ۔عرضی گزار کی طرف سے بولتے ہوئے ایڈوکیٹ شیخ شکیل احمد نے کہاکہ مغل شاہراہ چھتہ پانی سے لیکر پیر کی گلی تک انتہائی خراب حالت میں ہے اورسڑک کے اس حصے پر تارکول بھی نہیں بچھایاگیا ۔انہوں نے کہاکہ چیف انجینئر مغل روڈ پروجیکٹ سڑک پر کلورٹ /حفاظتی باندھ ،بیریئروغیرہ تعمیر کرانے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں حادثات ہورہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کی قیمتی جانیں تلف ہوتی ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ مغل شاہراہ پر کسی بھی جگہ کوئی ٹراما ہسپتال /ایکسیڈینٹل ہسپتال موجود نہیں ہے اورحادثات کے متاثرین کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجاتاہے ۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ شاہراہ پر کہیں بھی ایمبولینس خدمات فراہم نہیں ۔شیخ شکیل نے کہاکہ راجوری پونچھ اور پرانے ضلع ڈوڈہ میں سڑک حادثات کی بڑی وجہ ان فٹ گاڑیوں کا چلن ہے اور ٹریفک پولیس کا ان گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ ساز باز ہے لہٰذا ایماندار افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ حادثات پر روک لگ سکے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ٹریفک پولیس کی زیادہ تر ترجیح جموں اور سرینگر شہروں اور جموں ۔سرینگر شاہراہ کے کچھ اہم مقامات پر رہتی ہے اوردورافتادہ اضلاع راجوری پونچھ و پرانے ضلع ڈوڈہ میں بہت کم تعداد میں اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اس لئے عدالت کی طرف سے آئی جی ٹریفک پولیس کو اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کی جانی چاہئیں ۔ڈیویژنل بنچ نے اسی عرضی کے ساتھ بار ایسو سی ایشن ڈوڈہ کی بذریعہ ایڈووکیٹ سید عاصم ہاشمی عرضی کو بھی جوڑ دیا جس میں پرانے ضلع ڈوڈہ میں رونما ہونے والے سڑک حادثات کا معاملہ اجاگر کیاگیاہے ۔