تازہ ترین

مسلم وقف بورڈ۔۔۔ جو ہر وقت بیجا سیاسی مداخلت کا نشانہ بنا

برسوں سے پڑے30کلوسونے اور80کلو چاندی کی نیلامی میں رکاوٹ کیا؟

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شوکت حمید
سرینگر// ریاست میں زیارت گاہوں، خانقاہوں اور آستانوں کی دیکھ ریکھ کیلئے ملی ادارہ 1932ء میں قائم کیا گیا، جو بعد میں جموں و کشمیر مسلم اوقاف ٹرسٹ کے نام سے جانا جاتا رہا۔تاہم مفتی محمد سعید نے اسے سرکاری تحویل میں لیااوراوقاف ٹرسٹ سے نام تبدیل کر کے اسے مسلم وقف بورڈ بنایا۔مسلم وقف بورڈ ، جو چند سال قبل تک ریاست کا سب سے امیر ترین پرائیویٹ ادارہ سمجھا جاتا تھا، اب خسارے میں چل رہا ہے۔اربوں روپے کی جائیدادیں موجود ہیں، کروڑوں روپے کی اراضی ، جس میں میوہ باغات بھی ہیں، وقف بورڈ کی ملکیت ہے، لیکن یہ عوامی اور ملی ادارہ سیاست کی بے جا دخل اندازی کی وجہ سے اپنی بنیادیں کمزور کر گیا ہے۔جس کسی سیاسی پارٹی کی حکومت بنی، سب سے پہلے اسی ملی ادارے کونشانہ بنایا گیا۔غیر قانونی اور محض پارٹی بنیادوں پر تقرریاں عمل میں لا کر اسکی بنادیں کھوکھلی کردی گئیں اور ایسا  جان بوجھ کر اور مال غنیمت سمجھ کر کیا گیا۔کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطابق وادی میںوقف بورڈ کے زیر نگرانی آستانوں،خانقاہوں، بقہ جات اور مساجد کی تعداد 101ہے۔جن میں کچھ معروف زیارت گاہیںآثار شریف حضرت بل ،سلطان العارفین مخدوم صاحب ،دستگیر صاحب خانیار ،خانقاہ معلی فتح کدل ،چرار شریف ،خواجہ نقشبند صاحب ،جناب صاحب صورہ ،عیشمقام ،بابا ریشی ،وٹلب ،جانباز صاحب ،عالی مسجد ،کعبہ مرگ ،کلاش پورہ ،اونتی پورہ ،اہم شریف  بانڈی پورہ شامل ہیں ۔ وقف ذرائع نے بتایا ہے کہ ان زیارت گاہوں، خانقاہوں اور آسانوں سے وقف بورڈ کو نقدی کے علاوہ گذشتہ چند برسوں سے بطور نذارنہ 30کلو گرام سونا اور80کلو گرام چاندی موصول ہوئی ہے،جس کو ابھی تک فروخت نہیں کیا جاسکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس بیرون ریاست ممبئی ،نئی دہلی اور دیگر اہم صرافہ بازاروں میں اس کوفروخت کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس طرح کی کوشش کو دفتری طوالت کا شکار بنایا گیا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان زیورات کو بیرون ریاست منتقل کرنے کیلئے 2لاکھ 25ہزارکا انشورنس بھی کیا گیا تاہم بعد میں وقت پر ان زیورات کو باہر نہیں بھیجا جاسکا، اور یوں انشورنس کی یہ رقم بھی ضائع ہوئی۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامی سطح پر بھی ان زیورات، جوکہ جموں و کشمیر بنک کے لاکروں میں محفوظ ہیں ،کو نا معلوم وجوہات کی بنا پرفروخت نہیں کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ میں اس بات پر چہ میہ گوئیاں ہورہی ہیں کہ برسوں تک ان زیورات کو فروخت کیوں نہیں کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اس نامہ نگار نے جب مسلم وقف بورڈ کے وائس چیئرمین جی آر صوفی سے بات کی تو انہوں نے کہا’’یہ بات صحیح ہے کہ 30کلو گرام سونا اور 80کلو گرام چاندی وقف بورڈ کے پاس موجود ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیورات سے اچھی رقم ملنے کی امید سے انہوں نے اس بات کا  فیصلہ کیا ہے کہ زیورات کو فروخت کرنے کیلئے بورڈ ممبران کی میٹنگ منعقد کی جائے اور اس کے بعد ہی بیرون ریاست کے صرافہ بازاروں میں زیورات کو بھیجا جائیگا۔انہوں نے کہا ’’یہ تجویز بھی آئی ہے کہ مقامی سطح پر ہی اس کی نیلامی ہو اور مختلف ڈیلروں کو بلایا جائے اور نیلامی کا مقابلہ ہو ‘‘۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ’جہاں زائرین کو شکایت ہو ،اسکا ازالہ ہوگا مگر لوگ بھی سامنے آئیں اور تحریری طور وقف بورڈ کو آگاہ کریں ‘‘۔