تازہ ترین

صریرِ خامہ۔۔۔۔ایک مطالعہ

21 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل سالمؔ
مصنف:جناب سلیم سالکؔ
صفحات؛:160 ،قیمت:300 
ناشر:کریٹو اسٹار پبلی کیشن ،نئی دہلی
کالم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کسی ہنگامی موضوع و مسئلے پر کالم ،کسی فن ،آرٹ یا ادب پر کالم یا محض ذات اور شخصیت پر کالم ۔سب کی اپنی اہمیت و معنویت ہے لیکن ادبی کالم زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔ادبی زندگی کی تہ در تہ پرتیں کھولتے ادبی کالم کسی فلم کے پردے پر چلتے مختلف مناظر کی طرح الگ الگ کیفیتیں پیدا کرتے اور گرہیں کھولتے ہیں۔
جناب سلیم سالکؔ کی کتاب’’صریر خامہ‘‘ بھی مختلف ادبی کالموں کا مجموعہ ہے جو زورنامہ ’’کشمیر اعظمی ‘‘کی زینت بن چکے ہیں اور اب کتابی صورت میں منظر عام پر آگئے ۔ان کالموں میں انھوں نے دور جدید کے ادیبوں ،شاعروں،نثر نگاروں،نقادوں اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ اور تخلیقی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی کے دلچسپ گوشوں کو بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ان کالموں کو انہوں نے فکشن شناس،سخن شناس،تنقید و تحقیق شناس  اور صحافت شناس کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہر ادیب ،فنکار اور کالم نگار کا خود کا لہجہ اور اسلوب واندازہ ہوتا ہے جو اس کی انفرادیت کو سامنے لاتا ہے۔’’صریر خامہ‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے  قاری اس کو بخوبی محسوس کرتا اور محظوظ ہوتا ہے۔اس مجموعے کا سب سے پہلا کالم’’وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے‘‘ہے۔جب مصنف کو چلہ کلاں کی سخت سردی میںشام کے وقت ’’کشمیر اعظمی‘‘ کے دفتر سے استاذی جناب جاوید آذر ؔ کا فون آتا ہے،سلام وکلام کے بعد جاوید آذرؔکالم نویس سے پوچھتے ہیں کہ اس ضرب المثل شعر کا خالق کون ہے؟شعر یوں عرض ہے   ؎
گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں 
وہ طفل کیا گرے جوگھنٹوں کے بل چلے
کالم نویس لاعلمی کا اظہار کرتا ہے۔ پھر اس شعر کے خالق کو دریافت کرنے کے بعد جناب سلیم سالکؔ کو بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے نیز اس شعر سے انہیں اپنے ایم۔ فِل کے لئے موضو ع بھی موصول ہوتا ہے۔اسی طرح کالم’’اب دیکھنے کو جن کی آنکھیں ترستییاں ہیں‘‘ عبدالرحمن مخلصؔ سے خاص محبت کی نمائندگی کرتا ہے۔مخلص صاحب نے اردو کی بیشتر نثری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور پچاس برس تک ریاست جموں وکشمیر میںاردو ادب کی آبیاری کرتے رہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مخلص صاحب کو  وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے ۔فکشن کے میدان میں جناب سیلم سالک کی دلچسپی افسانہ کے ساتھ منسلک ہے۔کالم ’’افسانہ لکھ رہا ہوں ،افسانہ ہورہاہوں‘‘میں افسانے کے خدوخال پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔رومانیت ،حقیقت نگاری ،رپوتاژ،انشائیہ اور مزاح نگاری وغیرہ میں فرق کرنے کی طرف دھیان دلایا گیا ہے، جو نئے فکشن نگاروں کے لئے ایک آئینہ ہے۔بقول سلیم سالکؔمعاصر دور میں موضوع،متن کہانی اور افسانے سے انصاف نہیں ہوتا ہے اور حقیقی فکشن لکھنے والوں کی کمی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔بقول سلیم سالکؔ:’’اپنے ااس کالم کا اختتام میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کے اس چشم کشا اقتباس سے کرنا چاہتا ہوں گا۔جس میں وہ ایک افسانہ نگار سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ’’ایک افسانہ نگار کا معمول ہونا چاہیے کہ وہ روز ایک افسانہ کا مطالعہ کرے اور ایک مہنیے کے بعد ایک افسانہ تخلیق کرنے کی کوشش کرے،کیونکہ تیس افسانوں کے مطالعے سے ایک افسانے کی تخلیق میں کتنی پختگی آتی ہے وہ آپ راجند سنگھ  کے افسانوں سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘‘ (ص۔56 )
ترجمہ نگاری کے حوالے اس سے کتاب میں شامل کالم بہ عنوان’’کاش میں ترجمہ کرپاتا‘‘ میں مصنف کویہ احساس ہوتا کہ کاش یہاں بھی عثمانیہ یونیورسٹی کے طر ز پر ایک دارالترجمہ ہوتا جو طلبہ کے لئے کئی طرف سے کار آمد ثابت ہوتا۔جموں وکشمیر کے نامور ادیبوں ،شاعروں اور استادوں کے انتقال پر سلیم سالکؔ نے اپنے کالموں میں انہیں بڑی فنکارنہ مہارت سے خراج عقیدت پیش کیا ہیں۔کالم’’تجھ سا کہاں سے 
لائوں‘‘میں جناب سلیم سالک ریاست کے کہنہ مشق افسانہ نگار مرحوم عمر مجید کے بارے میں لکھتے  ہیںکہ جب بھی عمر مجید سے میری ملاقات ہوتی تھی تو وہ اکثر افسانوں کے ہی حوالے سے بات کرتے  تھے۔وہ اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ نئے لکھنے والے اب مطالعہ و مشاہدہ کے بغیر ہی افسانے لکھتے ہیں۔حکیم منظور ؔ کی شاعر ی پر مصنف لکھتے ہیں کہ جب پہلی بار مجھے ان کا ا یک شعری مجموعہ موصول ہوا تو ورق گردانی کے بعد انکے کے ایک شعر نے مجھے بے حد متاثر کیا۔شعر کچھ اس طرح سے ہے    ؎
کہانیاں جن کے  خون میں ہوں ،وہ بچے کیا میری بات سمجھیں
میں اس پری کو کہا ںسے لائوں کہ جو ابھی کوہ قاف میں ہے
پھر اس کے بعدمصنف نے حکیم منظور کی شاعری کو دلچسپی سے پڑھا ہے۔بقول جناب سلیم سالکؔ ان کی غزلوں میں سچے جذبات کی ترجمانی اور تجربے کا خلوص ملتا ہے۔تغزل کی شیرینی ہے،حق تو یہ ہے کہ شاعر نے لطیف جذبات و احساسات کو تغزل کے آب ورنگ میں بڑی فنکار۱نہ چابک دستی سے پیش کیا ہے۔لہجے کے رچائو نے اس کیفیت کو مزید دو آراستہ کردیا ہے۔تکلف و تصنع کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں ،قلبی واردات کی ترجمانی اعتدال اور سنجیدگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ایک خاص سوز و گذار ،نرمی،طرح داری اور بانکپن نظر آتا ہے۔ایک انداز کی شگفتگی ،دل کشی،رعنائی اور لطیف سی رنگینی کا احساس ہوتا ہے، جو انتہائی پرکشش ہے۔کالم ’’زندہ تھا موت سے ہم آغوش رہاــ‘‘میں اپنے استاد محترم ڈاکٹر فریدپر بتی پر کالم نویس لکھتے ہیں کہ پہلی بار جب میں نے فرید پربتی کوکشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں دیکھا تو مجھے وہ سچ مچ پربت جیسا ہی شخص لگا ۔اس وقت وہ اپنے کمرے میں کسی شاعر سے کلام سنتے تھے اور میں ان کمرے میں داخل ہوگیا۔پھر اکثر کلاس یا کلاس روم کے باہر میں ان سے ادب کے متعلق باتیں کرتا رہتا تھا۔فرید صاحب کو کلاسیکی ادب پر کافی دسترس تھی، نیر کم عمری میں ہی انھوں نے کافی شہرت حاصل کی ۔جناب سلیم سالک لکھتے ہیں :’’فرید صاحب کا زندگی کا نظریہ اور لوگوں سے بہت مختلف تھا۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اختلاف رنگ وبو سے بات بنتی ہے۔شاید اسی لیے ان کی ہمعصر شعراء کے ساتھ زیادہ نہیں بنتی ۔وہ ہر کام میں عجلت آمیز مستعدی سے کام لیتے۔ان کے روابط اردو دنیا سے بہت زیادہ استوار تھے۔وہ ہر سال ایک یادو کتابیں شائع کرتے،  جیسے انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ زندگی وفا نہیں کرے گی۔(ص۔61)
   مذکورہ بالا کالموں کے علاوہ سن لو تم فسانہ،دکن کی شمع سے روشن ہے وادی کشمیر،سرسری تم جہاں سے گزرے، مراماضی مجھے یادوں کے فسانے دے گا،تیرے بدلے جوش مرنے کے لئے تیار ہے،بہر صورت مجھے پہچانتے ہیں،ہم نے ہر حا ل میں جینے کی  قسم کھائی ہے،غیر ریاستی ادیبوں کے کارنامے،ایک روشن دماغ تھا نہ وہا،نگری نگری پھر۱ مسافر اوراردو کے جوان مرگ شعراء وغیرہ، یہ تمام کالم اس کتاب میں شامل ہیں جو مختلف ادبی موضوعات پر مشتمل ہیں۔کالموں کی زبان آسان ہے جس سے قاری اور متن کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔اچھے کالم کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں آخر تک تجسس بر قرار رہے ۔ کتاب کی طباعت کا فی اچھی ہے نیز قیمت بھی مناسب ہے۔ امید قوی ہے کہ یہ کتاب ادبی حلقوں میں مقبول ہوگی اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔تشنگان ادب کی تشنگی کو دور کرے گی،نئے کالم لکھنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
���
رعناواری سرینگر،رابطہ؛9697330636