تازہ ترین

پوگل پرستان میں سومو 600فٹ نیچے لڑھک گئی

میاں بیوی اوربیٹی سمیت 4ہلاک

20 جولائی 2019 (57 : 10 PM)   
(      )

محمد تسکین
بانہال // رام بن کی پہاڑی رابطہ سڑکوں پر موت کا رقص جاری ہے اور پچھلے دس دن کے اندر بانہال کے پوگل پرستان علاقے میں پیش آئے سڑک کے دوسرے بڑے حادثے میں مقامی شروادھار نامی یاترا سے واپس آنے والے چار عقیدت مند ہلاک ہوگئے جبکہ ڈرائیور سمیت دو دیگر افرادزخمی ہوئے ہیں جنہیں نازک حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیاہے ۔ اس دلدوز حادثے کا افسوسناک پہلو یہ کہ اس میںمیاں بیوی اور ان کی 20 سالہ بیٹی پر مشتمل ایک کنبے کا خاتمہ ہوگیاہے ۔واضح رہے کہ 12جولائی کو اسی علاقے میں تین کنبوں پر مشتمل گاڑی میں سوار تمام آٹھ مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر 2 بجے کے قریب تحصیل اکڑال پوگل پرستان کی سینابتی ۔ اکڑال رابطہ سڑک پرسینابتی سے اکڑال کی طرف آنے والی ٹاٹاسومو نمبرزیر نمبرJK14B-3832تیزرفتاری کے باعث بنجونی کے مقام پرڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر 600فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ انہوں نے کہا کہ نیچے مکئی کے کھیتوں میںگاڑی بجلی کے کھمبے سے لڑھک گئی اوراس دوران بیجونی بستی کے ایک رہائشی مکان کو بھی روند کر شدید نقصان سے دوچار کیا ہے تاہم گھر کے مکین معجزاتی طور بچ نکلے۔ انہوں نے کہاکہ اس ٹاٹا سومو میں سوار لوگ سینابتی کے علاقے میں ڈوڈہ کی سرحدوں کے نزدیک شروا دھار مندر کی یاترا سے واپس آرہے تھے اور گاڑی شروع کئے گئے اپنے سفر کے چھ کلومیٹر بعد ہی اس بھیانک حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجہ میں4 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایس ایچ او رامسو جاوید اقبال نے بتایا کہ حادثے کی خبر ملتے ہی تمام 6 زخمیوں کو مقامی لوگوں ، رضاکاروں اور پولیس کی مدد سے پرائمری ہیلتھ سینٹر اکڑال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے 50سالہ سرجیت سنگھ اور انکی اہلیہ کوشلیا دیوی کو مردہ قرار دیا جبکہ4 زخمیوں کو رام بن ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سرجیت سنگھ کی بیٹی 20 سالہ نیلم دیوی اور ایک اور  11سالہ لڑکی انو دیوی دختر اشوک سنگھ ساکنان کوٹ پوگل نے دم توڑدیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ڈرائیور پون سنگھ ولد سرجیت سنگھ اور پریہ دیوی دختر تیرتھ سنگھ کو گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیاہے۔ حادثے کے فورا ًبعد ڈپٹی کمشنر رام بن، ایس ڈی ایم رامسو اورتحصیلدار اکڑال نے علاقے کا دورہ کیا اور بچاؤ کارروائیوں کا جائزہ لیا۔اس حادثے کے بعد تحصیل اکڑال پوگل پرستان کے علاقے میں قائم بیشتر طبی مراکز میںڈاکٹروں اور طبی سہولیات کی شدید قلت اور رابطہ سڑکوں کی خراب حالت پرلوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ پوگل پرستان کے تحصیل ہیڈکوارٹر اکڑال کے مقام جدید سہولیات سے آراستہ ایک ایمرجنسی ہسپتال کا قیام عمل میں لایاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی بدنظمی کا شکار اکڑال ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں اور مشینری کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ہسپتال مریضوں اور سڑک حادثات کا شکار لوگوں کیلئے ابتدائی طبی امداد کے بعد منتقل کرنے کا مرکز بن کر رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ روز پہلے آلنباس کے علاقے میں سڑک کے ایک حادثے میں گاڑی میں سوار تمام آٹھ مسافر لقمہ اجل بنے تھے لیکن اس کے باوجود بھی سڑک حادثات کی روک تھام کیکئے ضلع اور تحصیل حکام نے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ڈرائیور لاپرواہی اور من مرضی کا مظاہرہ کرکے شاہراؤں اور رابطہ سڑکوں پر مسافروں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ۔