تازہ ترین

ہجومی تشدد پر مودی کی حمایت میں 62 شخصیات سامنے آئیں

27 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//ہجومی تشدد اور جے شری رام نعرے کی مخالفت میں چند روز پہلے مختلف شعبوں کی 49 شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا جس کی اب مخالفت کرتے ہوئے فلمی دنیا کے کئی معروف چہروں سمیت 62 دانشوروں نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ملک میںہجومی تشدد اور جے شری رام کیبڑھتے ہوئے مبینہ واقعات پر 49 شخصیات نے مسٹر مودی کو اس سلسلے میں ہفتے کے روز ایک خط لکھ کر ایسے واقعات روکنے کی مانگ کی تھی۔اسی کے جواب میں اب اداکارہ کنگنا رنوت، نغمہ نگار پرسون جوشی، وینا نواز پنڈت وشوموہن بھٹ اور فلم ڈائریکٹر مدھور بھنڈارکر سمیت اہم شخصیات نے خط لکھا ہے۔ ان شخصیات نے 49 لوگوں کے ہجومی تشدد کے خلاف خط لکھنے پر اپنا غصہ ظاہر کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔پہلے کے جوابی خط میں اداکارہ کنگنا رنوت نے کہا، "کچھ لوگ اپنی مقبولیت کا غلط استعمال کر رہے ہیں تاکہ لوگوں تک ایسا پیغام پہنچایا جائے کہ اس حکومت میں سب کچھ غلط ہو رہا ہے۔یہ حقیقت سے برعکس ہے جبکہ ایسا پہلی بارنظر آ رہا ہے کہ چیزیں صحیح سمت میں ہیں۔ہم ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہیں۔ملک کی بہتری کے لئے چیزیں بدل رہی ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگ بے چین ہیں۔ "وہیں فلم ڈائریکٹر مدھور بھنڈاریار نے کہا، "جب لوگوں کو جے شری رام کہنے کے لئے جیل میں ڈالا جاتا ہے یا پھر جب دہلی کے اندر مندر پر حملہ کیا جاتا ہے، تب یہ لوگ (49 لوگ جنہوں نے وزیراعظم مودی کو خط لکھا ہے) خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور ان کے خط کو دیکھ کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ ان میں ایک الگ طرح کی ناراضگی چل رہی ہے۔ "جن 49 شخصیات نے مسٹر مودی کی تنقید کی تھی ان میں بھی زیادہ تر لوگ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ اس خط پر دستخط کرنے والے شخصیات میں انوراگ کشیپ، منی رتنم، شوبھا مدگل، کونکن سین شرما،ارپنا سین، شیام بینیگل، انوپم رائے، بنایی سین، سومترا چٹرجی اور ردھ سین اہم ہیں۔ خط میں شامل ایک نے مسٹر مودی سے پوچھا تھا، "ماب لنچنگ کے واقعات میں شامل ملزمین کے خلاف کیا ٹھوس کارروائی کی گئی ہے۔انہوں نے مسٹر مودی سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کی ضمانت نہیں ہونی چاہئے۔ لوگوں کا قتل کرنے والوں کو بغیر کسی مقدمے کے عمر قید کی سزا ہونی چاہیے۔ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔ خط میں مسٹر مودی سے کہا گیا ہے کہ آج ملک میں مذہب کے نام پر کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ماب لنچنگ کے واقعات پر پارلیمنٹ میں صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں روکنے کے لئے مرکزی حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔یواین آئی۔