تازہ ترین

بچوں کو عزت دو!

ہمدردی اور محبت کے مستحق غریب بچے!

1 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ثمرین جان۔۔۔ آک لینڈ
 یہ آرٹیکل بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے بارے میں ہے جس کا ارتکاب کہیں دانستہ اور کہیں غیر دانستہ طورعلم وآگہی کے علمبردار کررہے ہیں۔تعلیمی اخراجات اور فیس وغیرہ کا تقاضا اسکولوں میں معصوم بچوں سے کر نا ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں سے فیس وغیرہ کا مطالبہ کر نا بےشک اسکول انتظامیہ کا حق ہے لیکن کسی وجہ سے ادائیگی نہ کر نے پر یا تاخیر ہونے پر بچوں کی تذلیل کر نا یا انہیں سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ایسے بچوں کو دوسرے بچوں اور اساتدہ کے سامنے بےعزت کیا جانا ایک مجر مانہ حرکت قرار پاتی ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کے اس بات کے حق میں اپنے معاشرے میں رائے عامہ منظم کیجئے کہ تمام تعلیمی ادارے ایسے جاہلانہ طرزعمل کو ترک کر یں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ برائے مہربانی اپنے بچے کے واجبات( اسکول فیس) بروقت ادا کیا کریں ، بصورت دیگر ان کے معصوم بچوں کو اسکول انتظامیہ سے یہ طعنہ سننا پڑے گا کہ ارے بےوقوف بچے! تم امتحان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ ایک عام مشاہدے کی کہانی سنئے: 
آج امتحان کی ڈیٹ شیٹ اس کے ہاتھ میں تھی۔پرچوں کی تاریخیں دیکھنے کے بعد اس کی نظر اس نوٹس پر پڑی تھی اور وہ ایک گہری سوچ میں پڑ گیا تھا کہ ایک ٹیچر کلاس میں داخل ہوئی ایک بڑا سا پرچہ ان کے ہاتھ میں تھا جس میں سے پڑھ کر کچھ بچوں کے نام پکار رہی تھی۔وہ سر جھکائے دعا کر رہا تھا کہ اس کا نام نہ پکارا جائے لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا، فیس تو اس کی بھی ادا نہیں ہوئی تھی۔ خالد عباس۔۔۔۔اچانک ٹیچر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑا ہوگیا۔آپ کی فیس بھی اب تک ادا نہیں ہوئی ۔کل تک سب بچوں کی فیس ادا ہو جائے ورنہ کل آپ سب کو کلاس سے باہر کھڑا کیا جائے گا۔ٹیچر کے کہے آخری الفاظ نے اسےمزید شرمندہ کر دیا تھا ۔ ویسے تو اس کا شمار کلاس کے بہترین اور ذہین بچوں میں ہوتا تھا لیکن والد کی اچھی نوکری نہ ہونے کی وجہ سے اسے ہمیشہ پوری کلاس کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا تھا۔اسکول والے بھی سب بچوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کے خواہاں تھے جو کہ اپنی جگہ بالکل دُرست تھے۔اس واقعے کے بعد سارا دن اس کادل پڑھائی لکھائی میں نہیں لگا۔ گھر جاتے ہی وہ سیدھا امی کے پاس گیا اور فیس کے متعلق سوال کرنے لگا۔ ماں نے سمجھا بجھا کر کھانا کھلایا اور یہ کہہ کر ٹالا کہ ابا آئیں گے شام میں تو بات کرتی ہوں ۔ شام میں ابا کے آتے ہی وہ بہت مضطرب تھا کہ اماں کب بات کریں گی۔آخر کھانے کی میزپر اماں نےذکر چھیڑ ہی دیا۔ابا نے یہ کہہ کر دلاسہ دیا کہ کچھ دن میں پوری فیس ادا کر دیں گے۔ کچھ دن۔۔وہ اپنے منہ ہی منہ میں کہہ کر رہ گیا۔ رات بھر وہ یہی سوچتا رہا کہ کل کتنی شرمندگی ہونے والی ہے۔ ٹیچر سے کیا کہوں گا اور دوستوں کو کیا عذر پیش کروں گا کہ آج بھی کیوں فیس ادا نہیں ہو سکی۔ کبھی سوچتا کہ کل اسکول ہی نہیں جانا چاہیے لیکن پھر پڑھائی لکھائی کے نقصان کا سوچ کر یہ ارادہ ترک کر دیتا۔ 
یہ صرف ایک غریب خالد نہیں ہے بلکہ نہ جانے کتنے بچے روزانہ کلاسوں میں اس ڈپریشن سے گزرتے ہیں۔اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں یہ احساس کم تری دلایا جاتا ہے کہ علم نہیں بلکہ پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ پیسہ دو گے توتعلیم ملے گی ،ورنہ نہیں۔
 تعلیم وتدریس کی مقصدیت کےموضوع پرسب لوگ متفق ہیں کہ اسکول بنانے کے پیچھے مشن یہ ہوتا ہے کہ وہاں بچوں بچیوں کو علم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کی جائے، انہیں شعور وآگہی سے بہرہ ور کیا جائے،انھیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی جائے اور بچوں کو ایک اچھا،پُروقار اور مستحکم کردار کا شہری بنانے میں ان کی مدد کی جائے لیکن یہ کیا ؟یہاں تو ان ننھے ہونہاروں کو احساس کمتری اور پریشان حالی کا شکار بنایا جارہا ہے۔ تعلیم کے علمبردار انہیں زندگی کے ابتدائی سالوں میں یہ سکھا رہے ہیں کہ پیسہ ہے تو عزت ہے۔ کچھ بچوں سے پیسہ وصولی کے لیے ہتک آمیز سزائیں دی جا تی ہیں۔ بچوں کو صرف اس لئے اپنے ودستوں ہمجولیوں کے سامنے بے عزت کیا جاتا ہے کہ انہیں نفسیاتی تکلیف ہوگی تو ماں باپ کو تکلیف ہوگی اور پھر وہ جلد از جلد فیس ادا کردیں گے۔ کیا اسکول والوں کی یہ اوچھی حرکت بچوں کی تربیت پر بُرے اثرات مرتب نہیں کرتی؟کیا یوںان کی شخصیت کی دھجیاں نہیں اڑائی جاتی ہیں؟کیا انھیں جانے اَن جانے یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ تم ایک کم تر طبقے سے تعلق رکھتے ہو؟وہ بچہ اسی کشمکش میں رہتا ہے کہ امتحان کی تیاری کروں یا والدین کو فیس کے لیےدباؤ ڈالوں ،ورنہ میرے اسکول والے مجھے دوسرے بچوں اور اساتذہ کے سامنے ذلیل کرتے رہیں گے۔
اسکول ایڈمنسٹریشن کا ایک مقرر کردہ فرد کلاس میں آتا ہے اور وہ سفید پوش ماں باپ جو بڑی مشکلوں سے بچے کے لیے کتابیں اور یونیفارم خرید کراُن کی ٹیوشن فیس،ایڈمیشن فیس،لائبریری فیس،کمپیوٹر فیس اور تو اور سالانہ فیس بھی جمع کروا کر اور اسکول کی مقرہ کردہ کاپیاں (جن پر اسکول کی اشتہار بازی ہوئی ہوتی ہے) کا بھاری بھر کم خرچہ کر کے بچوں کو بصد مشکل اسکول بھیجنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور کم آمدنی یا کسی اور وجہ سے ماہانہ فیس وقت پر ادا نہیں کر پاتے ہوں تو اسکول والے ان کے بچوں کے منہ سے نقاب نوچتے جاتے ہیں ۔ باقاعدہ بچے کا نام لے کر انھیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ آپ اپنے والدین سے کہہ کر فیس ادا کر دیں ورنہ آپ کلاس میں بیٹھنے کے حق دار نہیں ہوں گے۔اس سےبھی زیادہ ظلم یہ ہوتا ہے کہ بچے کو ایک دن کیلئے یا کچھ دیر کیلئے اسے کلاس سے بھی بےدخل کر دیا جاتا ہے۔دوسرے بچوں کے سامنے اس کی بے عزتیاںکی جاتی ہیں اور لال رنگ کے قلم سے اس کی ڈائری میں نوٹس لکھ کر گھر بھیجا جاتا ہے۔وہ بچہ جو پہلے ہی کتابوں اور کورس کے وزن سے دبا جارہا ہوتا ہے،وہ اسکول والوں کی اس غیر اخلاقی حرکات سے مزید پریشان ہو جاتا ہےبلکہ یوں کہیں کہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے کہ نہ تو پھر کلاس میں وہ اچھی کارکردگی دکھا پاتا ہے اور نہ ہی اب پراعتماد ہوتا ہے۔پھر بچہ گھر جاتا ہے اور والدین کو اسکول میں پیش آئے تذلیل آمیز  طور طریقوںکے بارے میں بتاتا رہتاہے ،یہ کہانیاں سن کر گھر والے رنجیدہ ہوتے ہیں ، ماں باپ یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ ایک دو دن میں فیس ادا کر دیں گے۔ دوسرے دن وہ اسکول جانے سے پہلے یہ نہیں سوچتا کہ آج میں اسکول میں کیا سیکھوں گا یا کون کون سے دوستوں سے ملاقات ہوگی، بلکہ اسے بس یہ سوچ پریشان کررہی ہوتی ہے کہ اکاؤنٹس والوں کو کیا کہوں گا،دوستوں کو کیا جواب دوں گا کہ کیوں فیس ادا نہیں ہو سکی اور اگر آج بھی کلاس سے نکالا گیا تومیتھس کا پیریڈ آج پھر مس ہو جائے گا۔ وہ سر جھکا کر اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نہ تو اس کے آنکھوں میں چمک ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ سیکھنے کی جستجو۔ بس دماغ میں ایک ہی بات ہمیشہ گردش کررہی ہوتی ہے کہ آج میرے ساتھ کیا بُرا ہونے والا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی چیریٹی سکولز تو ہیں نہیں کہ سب کی فیس معاف کر دیں، نہ ہی گورنمنٹ انہیں فنڈ کرتی ہے کہ یہ اپنا خرچہ نکالیں۔ ٹیچرز کو تنخواہیں دینی ہیں،بجلی کا بل، پانی کا بل،اسکول کی بلڈنگ کا کرایہ،چپراسی، جمعدار،چوکیدار،ماسی کی تنخواہ،اسکول میں ہونے والی مختلف سرگرمیاں اور ان سب کے بعد اسکول کے مالک کا منافع ، یعنی جس سرمایہ سے اس کی روزی روٹی چلتی ہے( جو کہ ہمیشہ نا کافی ہی ہوتا ہے)، کہاں سے آئے گا یہ سارا پیسہ؟ مانا کہ اسکول والوں کی بھی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیںلیکن طریقہ یہ بھی صحیح نہیں جو یہ لوگ فیس اور دیگر واجبات کے وصولیابی میں اپناتے ہیں۔ کیوں نہ کوئی اور  ایساطرزعمل اختیار کیا جائے کہ فیس وصولی کے معاملے میں بچوں کی تنگ طلبی بھی نہ ہو اور والدین تک پیغام بھی پہنچ جائے کہ فیس کی ادائیگی موخر نہ کیا جائے۔اس سلسلے میں ذیل کی سطور میں کچھ طریقے اور تجویزیں والدین اور اسکول والوں کے ساتھ شئیر کرتی ہوں۔
 دور حاضر الیکڑونکس کا دور ہے۔جہاں اسکول کے دوسرے کاموں کوکمپیوٹر سے آسان بنایا گیا ہے ،وہاں یہ فیس وغیرہ کاکام بھی آسانی سے سر انجام دیا جاسکتا ہے۔ ہر مہینے والدین کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجیں جس میں فیس ادا کرنے کی یاد دہانی کی جائے اور یہ بھی کہا جائے کے اگر فیس ادا کردی ہے تو اس میسج کو نظر انداز کر دیں۔ اگر ٹیکسٹ میسچ پر خرچہ نہیں کرنا چاہتے کو وٹس ایپ میسچ کریں یا ای میل بھیجیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو ان تمام سہولتوں سے محروم ہیں تو انہیں گھرکے نمبر پر کال کریں ۔اگر ایسا کرنے سے بھی کوئی رسپانس نہیں مل رہا ہے اور بچہ کو کہنا مجبوری ہوجائے تو اُسے آفس میں بلا کر والدین کو لانے کا کہا جائےلیکن یہ آخری حربہ ہونا چاہیے، جس حد تک ممکن ہو بچے کو ان معاملات سے دور رکھا جائے۔ ایک اور کام جو کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے کچھ بچے معاشی لحاظ سے کافی مستحکم ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے آفس میں ایک بورڑ لگا دیا جائے کہ’’ اگر آپ کسی کی فیس ادا کر نا چاہتے ہیں تو خوش آمدید اور جس بچے کی فیس ادا ہو اس کے والدین کو بتادیں کہ آپ کے بچے کی فلاں مہینے کی فیس ادا ہوگئ ہے بقیہ ادا کردیں۔‘‘
ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں، خدارا ان بچوں کی حفاظت کیجئے ۔ان کے احساسات کی، ان کے جذبات کی،ان کے کردار کی اور ان کے مستقبل کی حفاظت کیجئے۔یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ان کا مستقبل سنوارتی اور بگاڑتی ہیں۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ بچوں کو اگر یہ پتہ نہیں چلے گا کہ ان کے ماں باپ کیسے ان کی فیس ادا کر تے ہیں تو انہیںتعلیم اور ماں باپ کی قدر کیسے ہوگی ؟ اس کےليے آپ پریشان نہ ہوں۔ یہ کام ان کے والدین پہلے ہی گھر پر سر انجام دے رہے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اگر بالفرض اس ضمن میں کوئی کوتاہی ہورہی ہو تو بچوں کی عزت نفس سے کھیلا جائےیا ان کی گھریلو پسماندگی کو منظر عام پر لایا جائے۔حدیث شریف میں آتا ہے:ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ،پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے ،اللہ اس کی ضرورت کو پورا کرے گا۔جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے گا، اللہ تعالیٰ ا س کو قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔‘‘(صحیح بخاری 244)
گورنمنٹ اس سلسلے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے، اگرچہ گورنمنٹ کے کرنے کو اور بھی بہت سے کام ہیں لیکن یہ بھی ایک اہم کام ہے۔ گورنمنٹ کم ازکم یہ کر سکتی ہے کہ نجی اسکولوں کو ایک نمبر الاٹ کر دے جس سے وہ والدین کو فوری میسجز کر سکیں یا ایسا کوئی انتظام ہو کہ کمپیوٹر سے والدین کے فون پر پیغام بھیجا جا سکے۔میں گورنمنٹ  یہ بھی کرسکتی ہے کہ نجی اسکولوں کے ہونہار مگر غریب طلبہ وطالبات کو تعلیمی وظائف دے تاکہ یہ بچے بچیاں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں رکاوٹوں اور دشواریوں سے مبرا رہیں۔ یہ ہے تو بہت چھوٹاسا کام لیکن ہمارے مستقبل کے معماروں کی اس سے حوصلہ افزائی بھی ہوگی اور وہ  بےعزتی سے بچ جائیں گے ۔ اسی طرح غیر سر کاری انجمنوں اور مخیر حضرات کو بھی غریب طلبہ کے لئے کوئی نہ کوئی ا یسا پروگرام شروع کر نا چاہیے کہ اسکولوں کی ادائیگیاں بھی ہوں اور ان کے والدین کے خواب بھی غربت کے  نیچے دب کر رہ جائیں ۔
����