تازہ ترین

نکاح میں تاخیر!

خرابیوں کی جڑ ،برائیوں کا منبع

1 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مرسلہ: ریحانہ علی۔۔۔ نوا کدل سرینگر
 نکاح  انسان کی فطری و طبعی ضرورت کی تکمیل ہے اور یہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت اور افزائش نسل کا حلال و پاکیزہ ذریعہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر مرد و عورت کے دل میں دوسرے جنس کی طرف رغبت و میلان کو پیدا کیا ہے ۔ یہ ایک فطری امر ہے۔ اس طبعی و فطری ضرورت کی تکمیل کے لئے نکاح کو مقرر کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طورپر نکاح فرمایا اور اپنے فرامین کے ذریعہ بھی اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (حدیث)
دین اسلام کی تعلیمات میں اعتدال و توازن سب سے نمایاں خوبی اور خصوصیت ہے۔ اسی سے دین اسلام کی تعلیمات کو دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان کی تعلیمات سے ممتاز بناتی ہیں۔ اسلام میں جس طرح مردوزن کے باہمی اختلاط و امتزاج کی ممانعت ہے، وہیں ایک دوسرے سے بالکل یہ علیحدہ رہنا بھی پسندیدہ نہیں۔ بالفاظ دیگر نہ تو اسلام میں مردوزن کے آزادانہ میل ملاپ کی اجازت ہے اور نہ ہی اس میں راہبانہ تصورات و نظریات پائے جاتے ہیں، جس طرح کہ بعض مذاہب وادیان میں عورت کو ایک گناہ، فتنہ، شیطان کا ہتھیار، برائی کا محور وغیرہ سمجھ کر تعلق زن و شوہر کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی مردوزن کے ازدواجی تعلقات کو حدودوقیود سے آزاد رکھا گیا۔ اسلام افراط و تفریط اور غلووتنقیص کی درمیانی شاہراہ عظام کا نام ہے۔ اس کی تعلیمات میں جہاں پاکیزگی، طہارت اور عفت و حیا کو اہمیت حاصل ہے، وہیں بشری تقاضوں کی تکمیل، نفس و روح کی تسکین اور مقصد ِحیات کی تعمیل و تنفیذ بھی ہے، لہٰذا نکاح سے متعلق اسلام میں واضح اور تفصیلی احکامات موجود ہیں۔ اس کی متعین شرائط مقرر ہیں، حدود و قیود متعین ہیں، اصول و ضوابط مرتب ہیں، تاکہ پاکیزگی کے ساتھ نفس و روح کو تسکین ہو اور حُسن معاشرت قائم ودائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’وہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہارے نفسوں سے جوڑے پیدا کئے، تاکہ تمہیں راحت و سکون میسر ہو‘‘۔ (سورہ الروم)
یہ صرف خواہش نفس کی تکمیل نہیں، بلکہ اس میں ایک اہم مقصد زندگی اور کار حیات پنہاں ہے۔ حکم رُبانی ہے: ’’نکاح کے ذریعہ تم اولاد کو طلب کرو‘‘۔ بایں ہمہ نکاح اخلاق و کردار، عزت و ناموس اور حیا و پاک دامنی کا ذریعہ ہے۔ جو آدمی نکاح کرلیتا ہے، وہ ایک قلعہ میں محصور ہوکر بے حیائی، بداخلاقی، بدکرداری، بے راہ روی، بدنگاہی جیسی مذموم عادات و اطوار سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی حقوق زوجیت پر قادر ہو تو وہ شادی کرلے‘‘۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح سے حاصل ہونے والے دو اہم فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’کیونکہ اس سے نگاہ اور عصمت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے‘‘۔
 افسوس کہ زمانے کے پیمانے بدل گئے، سوچ و فکر کے زاویئے تبدیل ہو گئے، جو چیز بلالحاظ مذہب و ملت معیوب و مذموم تھی، وہی چیز آج باعث فخر سمجھی جا رہی ہے۔ بے راہ روی، بے پردگی اور حیوانیت کو تہذیب و تمدن کی بلندی شمار کیا جا رہا ہے۔ حسن کی نمائش، عریانیت، مردوزن کے آزادانہ میل ملاپ، بے پرودگی اور بے حیائی نے انسانی سماج کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ پاکیزگی اور عفت و حیاء کا تصور نہ رہا، نفسانیت اور خواہش نفس کی تکمیل کے لئے حلال و حرام کی تفریق و تمیز نہ رہی، رقص و سرود کی محفلیں عام ہیں، فلم بینی کے مناظر کھلے ہیں، اولاد ماں باپ کے ساتھ بیٹھ کر نیم برہنہ فلموں کا مشاہدہ کر رہی ہے، بھائی بہن ایک ساتھ آزادانہ میل جول کو دیکھ کر محظوظ ہو رہے ہیں۔ ایک طرف اخلاقی گراوٹ، افکار و خیالات کی تباہی اور حمیت و غیرت کی کمی ہے تو دوسری طرف رسوم و رواج، جھوٹی شان و شوکت، بے جا جہیزی مطالبے، معیاری شادی کی تمنائیں، اسراف اور فضول خرچیاں ہیں جنہوں نے مسلم معاشرہ کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔ انٹرنیٹ، فلمیں، فیس بک اور سوشل میڈیا نے ہر پوشیدہ چیز کو ظاہر کردیا۔ نوجوانوں کے ذہن و دماغ پراگندہ ہو گئے۔ ان حالات میں جلد سے جلد شادی کے بندھن میں باندھ کر اخلاق و کردار کے دائرہ و حدود میں رکھنا سرپرستوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
لڑکا و لڑکی کے معیار انتخاب کے موقع پر شریعت میں دین داری، اخلاق و کردار، تعلیم و تربیت، شرافت ِنفس، بڑے چھوٹوں کا احترام، لڑکے میں قابلیت، صنعت و حرفت، محنت کی عادت اور عادات و اطوار کی دُرستگی کو ملحوظ رکھنے کی ترغیب وتاکید ہے، لیکن زیادہ ترماں باپ کی فکر اعلیٰ خاندان، بڑا گھرانہ، حسن و جمال میں بے مثال، مالداری اور تعلیم یافتگی قابل ترجیح ہیں۔اس کے نتیجے میںبروقت شادیاں ممکن نہیں ہوپا رہی ہیں۔ عمریں بڑھتی جا رہی ہیں، خواہشاتِ نفس کا جنگل پروان چڑھ رہے ہیں، اس کی بناء اچھائی اور برائی کی تمیز پر قابو پانا دشوار ہو رہا ہے اور روز بہ روز حیاء سوز واقعات سننے میں آرہے ہیں۔
نکاح ایک انسان کی فطرت ضرورت اور بشری تقاضہ ہے، اس کو حتی المقدور آسان سے آسان تر بنانے کی فکر ہونی چاہئے، اس کو شان و شوکت کے اظہار کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔ ہمارا آپ کا عام مشاہدہ یہ ہے کہ آج کے دور میں شادی خواہ لڑکے کی ہو یا لڑکی کی، ایک گمبھیر مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ لڑکے والوں کی فرمائش، جوڑے گھوڑے کے مطالبے، اعلیٰ سے اعلیٰ شادی خانہ اور معیاری کھانے کے انتظام کی فرمائش نے لڑکی والوں کی کمر توڑدی ہے۔ اگر لڑکے یا اس کے سرپرستوں کو معیاری شادی کی خواہش و آرزو ہے تو وہ اپنے بل بوتے پر اپنی آرزو کو پوری کرلیں، اس کے لئے لڑکی والوں کو مجبور کرنا کتنی معیوب بات ہے، یہ کہنے کی چنداں حاجت نہیں ۔نمود ونمائش  والی شادیوں کے چلن کی بنا غریبوں اور متوسط طبقات کے لئے شادی ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا۔ شادی کی دعوت میں ضیافتوں میں نت نئے تکلفات و نمائشی لوازمات، جھوٹی شان منوانے کی حماقت ہے۔ اسلام میں مہمان کی ضیافت کر نے کی ترغیب ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں اسراف، فضول خرچی، رزق کی بے حرمتی اور تضیعٔ اوقات کی گنجائش ہو۔ سچ یہ ہے کہ نت نئے لوازمات خود پر عائد کرنے والے اخراجات میں کئی غریب بچیوں کی شادیوں کے انتظامات ہو سکتے ہیں۔
معاشرہ میں پھیلنے والی خرابیوں اور بے راہ روی کے انسداد کے لئے سب سے پہلے نکاح کو آسان سے آسان تر بنانا اور محض جھوٹی شان و شوکت کے لئے لڑکے و لڑکیوں کے نکاح میں تاخیر کرنے کی بجائے جلد سے جلد موزوں و مناسب رشتے میں پہل کرکے ان کو نکاح کے بندھن میں باندھ دینا چاہئے، تاکہ وہ اخلاق و کردار اور عفت و حیاء کی حدود میں بہ آسانی اپنی زندگی کے سفر کو طے کرتے ہوئے دین و دنیا میں کامیاب ہوں۔
 