تازہ ترین

لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں:گورنر

کچھ بھی غیر متوقع نہیں ہوگا:بصیر خان/کابرا

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر//ریاستی گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور اپنا کام کاج جاری رکھیں۔ گورنر نے اُن سے ملاقات کرنے والے وفد جس میں محبوبہ مفتی، شاہ فیصل اور سجاد لون کے علاوہ عمران انصاری شامل تھے، سے ملاقات کی، جنہوں نے وادی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں گورنر کی معاونت طلب کی تھی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے وفد کو بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے پا س یاترا پر حملہ ہونے کی مصدقہ اطلاع تھی جس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو اسی لئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تاکہ یاتریوں اور سیاحوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ گورنر نے وفد کو بتایا کہ کچھ گروپ تشدد آمیز صورتحال چاہتے ہیں لہٰذا یہ ریاست اور سیکورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔
گورنر نے سیاسی لیڈران سے کہا کہ وہ اپنے حمایتیوں سے کہیں کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں جو پھیلا جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود 35اے پر جاری مخمصے کے بارے میں بارہمولہ میں بیان دیا ہے لہٰذا عوام الناس بھی افوا بازی کی صورتحال سے متاثر نہ ہوں۔اس سے قبل محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری شالین کابرا اور صوبائی کمشنر بصیر احمد خان نے افواہوں کویکسر مسترد کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایاہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور نہ ہی اشیاء ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔دیر رات گئے صوبائی  کمشنر کی رہائش گاہ واقع گپکار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے یاتریوں اور سیاحوں کی سلامتی کیلئے کچھ اقدامات کئے گئے ہیں جو دہشت گردوں کی طرف سے سیکورٹی ایجنسیوں کو ملی خفیہ معلومات کے تناظر میں اٹھائے گئے ہیں ۔اس موقعہ پر صوبائی کمشنر نے کہاکہ یہ افواہ بھی پھیلی کہ سکولوں کو بند کردیاگیاہے تاہم ایسا کوئی حکمنامہ جاری نہیںہوا ۔ ان کاکہناتھاکہ دن بھر اور شام کو بے چینی جیسی صورتحال پیدا ہوئی جس کی وجہ سے کوئی پیٹرول پمپ کی طرف جارہاتھاتو کوئی کہیں اور،لیکن حالات پر پوری نظر ہے اور خوف محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔انہوں نے پولیس سربراہ اور فوجی افسران کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صبح کی پریس کانفرنس سیکورٹی معاملات پر تھی جس دوران دہشت گردوں کی طرف سے ملی رپورٹس پر پولیس اور فوج نے بات کی اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاحوں اور یاتریوں کی حفاظت کیلئے احتیاطی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اس کو غلط طریقہ سے پیش کیاگیاجس سے خوف پیدا ہواجو بدقسمتی کی بات ہے ۔بصیر خان کاکہناتھا’’کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری شالین کابرا نے کہاکہ کچھ اطلاعات کی بناپر ایڈوائزری جاری کی گئی جو احتیاطی اقدام ہے۔انہوں نے کہاکہ یاتریوں اور سیاحوں کو خطرہ تھا جس وجہ سے ایڈوائزری جاری کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ سیاح اور یاتری آزادی سے گھوم رہے ہوتے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے ایڈوائزری جاری ہوئی ہے ۔کابرا نے کہاکہ یاترا کو ہمیشہ سے مقامی مدد حاصل رہی ہے اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ تعاون دیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ دن کو ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران بتایاگیاکہ سیکورٹی فورسز کے پاس کیا کیا معلومات ہیں اورحکام نے یاتریوں کے تحفظ کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات کئے ہیں۔ کابرا کے مطابق یہ ہدایات یاتریوں کی بھلائی کیلئے دی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا’’میں سب کو یقین دلاناچاہتاہوں کہ ریاست کے لوگوں کی سیکورٹی اور سلامتی حکومت کی ذمہ داری ہے ، یہ اقدامات اسی تناظر میں لئے جارہے ہیں ،جو ان پٹ دن کی پریس کانفرنس میں بتائے گئے،اشیاء کا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی لوگ خوفزدہ ہوں ‘‘۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کوئی کرفیو نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے ۔