تازہ ترین

افسانچے

4 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(   اسلا م آباد،کشمیر،موبائل نمبر9419734234    )

راجہ یوسف

ہارر فکشن

ڈرررر۔۔۔

  رات اماوس کی ہوتی یا چاند رات کی ۔سر شام ہی ڈر ساری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا۔ مغرب سے پہلے ہی لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے۔ مسجدوں سے بھی اعلان جاری ہوتا تھا کہ اپنے گھروں کی کھڑکیاں دروازے پوری طرح سے مقفل کردو۔ اگر کوئی دروازہ پیٹتا ہے تو دروازہ نہیں کھولنا۔ البتہ اگر کسی دروازے پر دستک ہوتی ہے توجس گھر میں ڈول  ہے وہ لوگ ڈول پیٹیں گے۔ جن کے گھروں میں ٹین کے ڈبے ہیں وہ ڈبے بجا دیں  اور جن کے پاس بجانے والی کوئی چیز نہ ہو وہ برتن بجا لیں یا چھت پر جاکرزور زور سے چلائیں ۔ اب بستی میں ہر شام کسی نہ کسی گلی میں ڈول یا ٹین بجتا تھا تو مسجدوں کے لاوڈاسپیکر کھول دیئے جاتے تھے  اور زور زور سے ہوشیار خبر دار چلانے کا شور برپا ہوجاتا تھا۔ بستی کے لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر، گلے میں ڈول لٹکا کر اور زیادہ تر شور مچاتے گھروں سے باہر نکل کر مسجد کے صحن میں جمع ہوجاتے تھے۔ جہاںکوئی نوآموز مولوی ٹائپ لیڈر تقریر شروع کردیتا تھا ۔ وہ لوگوں کواور زیادہ ڈراتا تھا،  دھمکاتا تھاکہ بستی کے لوگ گناہ گارہیں۔ اس لئے آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور ان کو یہ سزا ئیںبھگتنی پڑ رہی ہیں۔  پھر بڑے خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں مانگی جاتیں۔ لوگ اپنے ناکردہ گناہوں پرخوب روتے اور مسجد کے صحن سے ڈر کی ایک اور قبا اوڑھ کر گھر آجاتے ۔ لیکن پھربھی رات کے کسی پہروہ خوفناک بلا کسی نہ کسی گھر میں کہیں سے بھی گھس جاتی تھی اور گھر کا کوئی چہیتا لاڈلا اٹھا کر لے جاتی تھی۔  لوگ شورمچاتے تھے۔ یہ لیڈر حضرات لوگوں کو اکساتے تھے اور پوری بستی میں ہنگامہ شروع ہوجاتا تھا۔ پھر اورچار پانج جانیں ہنگامے میں تلف ہوجاتی تھیں ۔۔۔
اب اس بستی کا  برسوں سے یہی حال ہے ۔ دن ہو یا رات یہ خوفناک بلا بے خوف بستی میں آجاتی ہے اور کسی ایک لاڈلے کو اٹھاکر لے جاتی ہے۔  لوگ بھی عادی ہوچکے ہیں ۔ اب جب بھی ایسا کوئی سانحہ پیش ا ٓتا ہے ۔ نہ کہیں ڈول بجتے ہیں، نہ ہی مسجدوں سے نعروں کی آوازیں ہی گونجتی ہیں۔ البتہ لیڈروں کے اکسانے پر ہنگامے اب بھی ہوتے ہیں ۔ خون بہتا ہے۔ گلیاں سڑکیں عبادت گاہیں لال ہوجاتی ہیں۔ کئی اور لاڈلوں کے سر کٹتے ہیں۔ دو چار دن واویلا ہوتا ہے ۔پھر لوگ خود ہی  صبر کرلیتے ہیں۔۔۔
  لیکن ان نام نہاد لیڈروں سے اب بھی یہ کوئی نہیں پوچھتا ۔ کہ تم مقتول کے ہمدرد ہویا اس خو فناک بلا کے ساتھی ۔؟
 
 

کَم تَر

 
ایسا بھی نہیں ہے کہ تم نے جو کہا  میں مان بھی جائوں۔ میرابھی فیصلہ اٹل ہے۔ کچھ بھی ہوجائے میں تیری یہ بات نہیں ماننے والی۔ میں نے کل رات سے کچھ بھی نہیں کھایااور بیماری کا بہانا بناکر اپنا بستر بھی الگ کردیا۔ لیکن تم بات ختم نہیں کرتے ہو۔ تم بضد ہو اور میں بھی اپنی بات پر اڑچکی ہوں۔ کاش آج میرا بابا زندہ ہوتا۔  اس کے کاندھے پر سر رکھ کراپنا دکھ بتادیتی۔  ماں زندہ ہوتی تواس کی چھاتی سے لگ کر اتنا روتی کہ جسم کا سارا خون آنسوں بن کر آنکھوں سے بہا دیتی ۔  بھائیوں کے گھر چلی جاتی۔ لیکن کس ایک کے پاس۔ انہو ںنے تو میری شادی اپنے سر سے بوجھ اتارنے کے لئے کرادی ہے۔  میری دو بیٹیاں ہوگئیں تب بھی کسی نے  پوچھا نہیں۔۔۔  ہاں میں ایک فیصلہ تو کرہی سکتی ہوں، گھر سے بھاگ جائوں۔۔۔  لیکن کہاں۔ کہاں رہوں گی  ۔ کہاں جائوں گی میں  ۔۔۔۔  ؟؟؟ 
  کاش ۔۔۔ کاش مرد اور عورت کی  برابری کا  تمہارا  نعرہ سچا ہوتا یا  میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی یا بھر قدرت نے مجھے تیر ا  محتاج نہ بنایاہوتا۔۔۔
   اب چل میں تیرے ساتھ چل رہی ہوں۔کس ہسپتال میںمیری کوکھ  میں پل رہی بیٹی کا قتل کرنا ہے ۔۔۔
 
 

مائیکروفکشن

آنکھ مچولی

 
   میں گھر کی گلی سے مین روڑ پر آگیا۔ اب چوک تک صرف  دوسو قدم ہی چلنا تھا کہ زور دار دھماکہ ہوگیا ۔ سامنے سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آسمان تک گردوغبار چھاگیا تھا۔دھماکہ چوک میں ہی ہوگیا تھا۔ بیس لوگ مارے گئے تھے اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے ۔۔۔
   پارک میں کافی بھیڑ تھی۔ میں دوستوں کا انتظار کررہاتھا کہ طارق ہاشمی کی کال آگئی۔
 ـ’’ جلدی ریسٹورنٹ پہنچ جائو۔ ہم اب پارک میں نہیں ریسٹورنٹ میں مل رہے ہیں۔ جاوید سب کو چائے پلارہا ہے۔‘‘ میں جلدی جلدی پارک سے نکل آیا۔ ابھی ریٹورنٹ میں گھسا ہی تھا کہ تڑ تڑ گولیاں چلنے کی آواز سے ماحول گھونج اٹھا۔ ہم سبھی ریسٹورنٹ کی کرسیوں اور ٹیبلوں کی آڑ لے کر چھپنے لگے۔ پارک میں کئی خواتین اور بچوں کی لاشیں خون میں لت پت ہورہی تھیں۔۔۔
  سجادنے گاڑی روکی اور مجھے اشارے سے بلایا۔ میں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔  ابھی ہم سودوسوگزہی آگے چلے گئے کہ پیچھے بم پھٹا۔ چاروں اور دھول ہی دھول اڑ رہی تھی۔۔۔
   مانو پچھلے بیس برسوں سے زندگی اور موت آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ کبھی زندگی آگے، موت پیچھے  ۔۔۔ کبھی موت آگے اور زندگی پیچھے۔ 
 حسبِ معمول آج میں پھرگھر کی گلی سے مین روڑ کی طرف جارہاتھا ۔۔۔ اور ۔۔۔ موت گلی کے نکڑ پر پوزیشن سنبھالے کھڑی تھی ۔۔۔ ا