تازہ ترین

اُجڑتے پلوں کی کھیتیاں

افسانہ

4 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رتن سنگھ کنولؔ(پہلگامی)
عورت، جس کا میں نام نہیں جانتا، بس اڈے کے ایک پسنجر شیڈ میں بیٹھی تھی۔ وہ دور مغرب کی جانب جنگل میں ڈوب رہے لہولہان، لال سورج کے گولے کو لاشعوری طور جھولتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ شائد اُسکو اِس لہولہان لال سورج کے گولے میں سے اپنی بیتی زندگی کا کوئی ٹکڑا بھی دِکھ رہا تھا۔
بس اڈے میں کوئی گاڑی کھڑی نہیں تھی۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی شام کی ملگجی روشنی میں لوگوں کی ایک بھیڑ گاڑی کے انتظار میں بے چینی کے عالم میں دُھندلی سی اُمید لئے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی۔ شائد یہ وہ لوگ تھے جن کی گھر تک کی مسافت دس کلومیٹر سے کم نہ تھی، نہیں تو یہ بھی اور لوگوں کی طرح پیدل ہی چلے گئے ہوتے۔ جوں جوں وقت بیتتا جارہا تھا عورت اور بھی پریشان ہورہی تھی۔ سوچ میں ڈوبی، بار بار سیل فون پر وقت دیکھ لیتی۔ دوچار قدم چل کر ٹانگوں کی اکڑن دور کر لیتی اور پھر اُسی شیڈ میں آکر بیٹھ جاتی۔ اُکھڑی سوچ کی لڑی کو پھر جوڑ لیتی۔
گھر سے نکلی تھی تواِس بات کا گمان بھی نہیں تھا کہ اس قدر دیر ہوجائے گی۔ روز مرہ ضروریات کی اشیاء کے ساتھ ساتھ اُس نے ایک کیک بھی خریدا تھا۔ آج پوتے کی سالگرہ تھی۔ بیٹے کی نشانی، نہیں ، بیٹوں کی نشانی ہاں وہ ایسا ہی سوچتی تھی۔ دو بیٹے اور اُن کا باپ جل رہی بستی کا ایندھن ہوگئے۔ 
’’چلہ کلان‘‘ کی خون جما دینے والی رات تھی۔ سب لوگ کھڑکیاں دروازے بند کرکے اپنی چھوٹی سی خوبصورت دُنیا میں محو تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ کھولو۔ کچھ مسلح، بے چہرے سے آدمی اندر داخل ہوئے۔ عورت کے خاوند کو، جو گائوں کا ایک معروف اُستاد تھا، ساتھ لیکر چلے گئے۔ مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی گذرا ہوگا کہ دو گولیاں چلنے کی ایسی زور دار آواز آئی کہ وہ اندھیرے کے سمندر کو چیرتی ہوئی بہت دیر تک گونجتی رہی۔پرندے بھی گھونسلوں میں لرز اُٹھے۔ پُکار پُکار کر رہ گئے۔ عورت کے گھر کی دیواریں اُس رات اِس قدر ہلیں کہ گھر، گھر ہی نا رہا۔ گھر کی چھت ہی اُڑ گئی۔ سردی کی ٹھٹھرتی رات ایسی دراز ہوئی کہ دہائیوں تک ختم نہ ہوئی۔ عورت کی سمجھ میں یہ بھی نہ آیا کہ کن لوگوں نے کس جرم کی پاداش میں اسکے خاوند کو خون کے سمندر میں غرق کردیا۔ اس طرح سارا گھر بکھر کر رہ گیا، آمدن کا کوئی ذریعہ بھی نہ تھا۔ خدا خدا کرکے کسی طرح خاوند کی جگہ اُستانی ہوگئی۔ زر پاس ہونے سے پیٹ کی آگ بجھتی رہی اور سانسوں کی ڈوری چلتی رہی۔ رشتے ناطے محبتیں اور نزدیکیاں قائم رہیں لیکن بڑے بیٹے کے کانوں میں رات کے سناٹے میں چلے دو فائر پگھلے سیسے کی مانند چُبھتے رہے۔ بے قرار بیٹا ایک رات سوئی ہوئی تھکی ماندی ماں اور معصوم بھائی کو چھوڑ کر کالی رات کے بھوتوں سرکوبی کیلئے نکل پڑا۔ تن پہ ڈھائی کپڑے اور پائوں میں پھٹے پرانے جوتے ہی پہنے ہوئے تھے۔ دو ٹانگوں سے چلتے ہوئے اُس نے کوئی سرحد بھی پار کی یا نہیں، کوئی نہیں جانتا۔ وہ ایسا کھو گیا کہ کہیں پر نام و نشان بھی نہیں ملا۔ ماں نے اپنے بس کی دھرتی کا چپہ چپہ چھان مارا مگر بے سود۔ کسی نے کہا بارڈر پر مارا گیا۔ کسی نے کہا اُس نے اپنی آگ میں اوروں کی آگ بھی شامل کرلی اور پھر بارود بن کر ایسا پھٹا کہ اوروں کے ساتھ خود بھی ریزہ ریزہ بن کر بکھر گیا۔ ماں کے سینے میں ایک اور زخم اُگ آیا۔ اب اُس نے ایک ہاتھ اپنے زخم پہ اور دوسرا ہاتھ دوسرے بیٹے کے سر پر رکھ دیا۔ اُس کی سانسوں کی ڈوری پہ پہرے بیٹھا دیئے۔ صبح درس و تدریس کیلئے اسکول جاتی تو اُسے ساتھ لے جاتی اور رات کو سینے سے لگا کر سوتی۔جب پڑھ لکھ کر پروان چڑھا تو ماں نے اُسے جھٹ سے شادی کے بندھن میں باندھ دیا۔ سوچا دو آنکھیں، دو ہاتھ اور دو پائوں اور بڑھ جائیں گے۔ سبھی آگے پیچھے دوڑتے پھریں گے اور بُجھنے نا دیں گے اب اس آخری چراغ کو۔
پھر ایک دن ایسا طوفان آیا کہ کسی کی کچھ نہ چلی۔ دو ہتھیار بند جوان بھاگتے ہوئے اندر گھس آئے۔ اُن کے پیچھے اُن کے شکاری بھی آگئے۔ بیٹے کو بھی جنگجوئوں کا ساتھ جان کر اسکی آنکھوں کے سامنے ڈھیر کردیا۔ زندگی پھر اُجڑ گئی۔ بس اِس گھر کی راکھ کو ٹٹولتی ساس اور بہو رہ گئی۔ قدرت بھی اپنی کاری گری کو رُسوا نہیں ہونے دیتی۔ راکھ سے بھی زندگی کی کوئی چنگاری ایسی نکل آتی ہے جو پھر سے گھر کے بجھے ہوئے چراغ کو روشن کردیتی ہے۔ بیٹے کی موت کے ٹھیک آٹھ مہینے بعد بہو نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔ زندگی نے پھر انگڑائی لی۔۔۔
وہ ان ہی خیالوں میں تھی کہ کہیں سے گولی چلنے کی آواز آئی۔ بس اڈے میں موجود لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ سوچ میں ڈوبی عورت بھی بدکی۔سودا سلف کے تھیلے سمیٹتے ہوئے وہ بھی بھیڑ گھس گئی۔ اسی اثناء میں ایک منی بس اڈے میں داخل ہوئی۔ منی بس ابھی رُکی بھی نہیں تھی کہ لوگ بے تابی سے اس طرح دوڑ دوڑ کر گاڑی میں سوار ہونے لگے جیسے کوئی جنگ چھڑنے جارہی ہو اور یہ منی بس ہی انکی زندگی کا آخری سہارا رہ گئی ہو۔ ساری سواریاں گاڑی میں سوار ہوئیں عورت خاموشی سے دیکھتی رہی۔ جب سبھی لوگ سوار ہوگئے تو عورت بھی سامان سنبھالتے ہوئے چڑھ گئی۔
ڈرائیور بھی کسی نادیدہ خطرے کو بھانپ گیا تھا اور اڈے سے جلد نکل جانا چاہتاتھا۔ جب گاڑی مسافروں سے بھر گئی تو اُس نے گاڑی سٹارٹ کردی لیکن ابھی نکلنے بھی نہ پایا تھا کہ ہتھیاروں سے لیس دو تین سپاہی تیز تیز قدموں سے، اپنے بھاری بھرکم بوٹوں سے دھرتی کو روندتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ 
’’گاڑی روکو!‘‘
ایک سپاہی نے زور دے آواز دی۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ گاڑی میں سوار سبھی لوگ سہم گئے۔ وہ سانس روک کر اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے۔ دوسرے سپاہی نے بھی اُسی لہجے میں کہا
’’سبھی سواریاں باہر آجائو! گاڑٰ خالی کرو!!‘‘
لوگ ایک دوسرے کے منہ یکھنے لگے۔ جیسے پوچھے رہے ہوں؛
’’کیوں اُتریں؟ ہم نے کون سی خطا کی ہے؟‘‘
کہیں کہیں ایسا حکم تب دیا جاتا تھا جب کسی شک کی بنیاد پر سواریوں کی جامہ تلاشی لینی ہوتی تھی۔ لیکن اس وقت کئی ایک انیک سوال سراُٹھا رہے تھے۔
’’کیا تم بہرے ہو؟ سُنتے نہیںہو؟‘‘
حولدار آپے سے باہر ہوگیا، جبھی ایک سفید داڑھی والے شخص نے جرأت دکھائی اور پوچھا؛
’’صاحب!ہم گاڑی سے کیوں اُتریں؟ ہمارا کیا قصور ہے؟‘‘
بابا! پوچھو مت۔۔۔ ہمیں گاڑی کی ضرورت ہے۔‘‘
اب کی بار حولدار نے کچھ نرمی سے جواب دیا۔
’’یہ آخری گاڑی ہے۔‘‘ ایک نوجوان نے کہنا شروع کیا۔
’’روزوں کے دن ہیں۔۔۔ وقت پر گھر پہنچنا ہے۔۔۔ ہم پیدل کب پہنچیں گے؟ ۔۔۔ ہمارا گائوں یہاں سے 10کلومیٹر دور ہے۔‘‘
’’یہ تو آپ لوگوں کی طرف سے سراسر ناانصافی ہے۔۔۔ ظلم ہے!۔۔۔ اس ٹھنڈ میں!!۔۔۔ اپنی گاڑی کیوں نہیں لے جاتے؟ سول گاڑی کو۔۔۔‘‘ ایک اور نوجوان تائو میں آگیا۔
سپاہئیوں کا غصہ اب ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ وہ گالیوں پر اُتر آئے۔
’’سالے زیادہ شور کیا تو گولیوں سے بھون ڈالوں گا!۔۔۔ نخرے بند کرو اور چُھپ چاپ گاڑی سے اتر جائو۔۔۔ ہمیں مجبور مت کرو کہ ہم ۔۔۔۔‘‘
سب خاموش ہوگئے۔ اُترنے کیلئے اپنا اپنا سامان سمیٹنے لگے۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی عورت سب کچھ دیکھ رہی تھی۔اُس کے اندر گرم رقیق فولاد کی سی رو بہنے لگی۔ آنکھوں سے شعلے خارج ہونے لگے۔ اب وہ بے خوف ہوگئی تھی۔مردوں کے شانہ بہ شانہ سینہ سپر تھی۔ سپاہیوں کی زیادتی اور بگڑ رہی صورتحال اُس کی برداشت سے باہر ہوگئی۔ اُس نے جبڑوں کو ایسے کس لیا جیسے کسی سخت چیز کو دانتوں تلے دبایا ہو۔
ایک بزرگ جب گاڑی سے اُترنے لگا تو عورت نے پچھلی سیٹ سے آواز دی؛
’’چاچا مت اُترو! بیٹھے رہو۔۔۔ نہیں اُتریں گے ہم!!۔۔ ہم نے کوئی جرم ہےکیا؟ کس جرم کی سزا ہے یہ ؟؟؟۔۔۔ ہم پالتو جانور تو نہیں ہیں، جب چاہیں ہم کو ہانکیں۔۔۔ گولی مارتے ہیں تو ماردیں۔۔۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں!‘‘۔
’’لونڈی تو ہوش میں ہے؟ کیا بکواس کر رہی ہے؟؟۔
غصیل سپاہی بے حیائی پر اُترآیا۔
’’سپاہی! منہ سنبھال کر بات کر۔۔۔ اگر حقیقت میں تو دیش کا سپاہی ہوتا تو اپنے ہی دیش کی بیٹی سے بدتمیزی نہیں کرتا۔۔۔ ان بزرگوں کی بے عزتی نہ کرتا۔۔۔ اور۔۔۔‘‘
اب عورت سپاہئیوں کی کوئی بھی بات نہیں سُن رہی تھی۔ سواریوں کے اند ربھی اب ہمت بڑھ گئی تھی۔ گاڑی میں شور و غل برپا ہوگیا۔ سبھی اپنے اپنے دِل کی بھڑاس نکالنے لگے۔ اندر کا لاوا پھوٹنے لگا۔
بہت اونچی آواز میں بولنے سے عورت کا گلا سوکھ گیا اور وہ چپ ہوگئی۔ لیکن اندر ہی اندر سوچنے لگی۔
’’جن سپاہئیوں کو اُنکی حفاظت اور مدد کرنی چاہئے تھی وہی سپاہی دشمنوں کا سا سلوک روا رکھ رہے ہیں۔ اپنے سُکھ کیلئے پوری گاڑی کی سواریوں کو دکھ دے رہے ہیں۔ انکی آنکھوں میں کائی جم گئی ہے۔ اپنے بزرگ شہریوں کا احترام کرنے کی بجائے انکو سزا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ آزادی ہے؟ انسانی حقوق یہی ہیں؟؟۔۔۔ ایسے نظام سے نجات حاصل کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔۔۔۔ اس ظلم و ستم کو کون برداشت کرسکتا ہے؟؟؟‘‘
سپاہی اور حولدار بس میں پیدا ہوئی صورتحال کو دیکھ کر شوریدہ حال ہوگئے۔ حولدار اپنے سے بڑےآفیسروں کو اس صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے چلا گیا۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلا تھا کہ آگے سے میجر صاحب کو تیز تیز قدموں سے آتے ہوئے دیکھا۔ شائد اُس نے گاڑی کے اندر شور کہیں نزدیک سے ہی سُنا تھا۔ وہ آناً فاناً گاڑی میں داخل ہوگیا۔ اُس نے بہت ہی انکساری سے گاڑی خالی کرنے کی گذارش کی اور وجہ بھی بتا دی۔
اسی اثناء میں بہت سارے سپاہی ایک زخمی سپاہی کو اُٹھا کر گاڑی کی طرف لے آئے تھے۔ زخمی سپاہی کے سر میں گولی لگی تھی۔ گولی اپنی ہی سروس رائفل سے لگی تھی۔ سڑک پڑ کھڑا سپاہی کس ذہنی پریشانی کے گذرتے کچھ کر بیٹھا تھا یا کوئی اور وجہ تھی، ابھی یہ صیغہ راز تھا۔ سپاہی بے ہوش تھا۔ لہو بنڈیج سے بھی باہر رِس رہا تھا۔ سب کی کوشش یہی تھی کہ بغیر تاخیر کے اسے کسی نزدیک کے سول ہسپتال پہنچایا جاسکے۔
عورت پچھلی سیٹ پر اب بھی بیٹھی ہوئی تھی لیکن اب کی بار اُسکی آنکھیں پُرنم تھیں۔ بہت ہی عاجزی کے ساتھ وہ گاڑی میں بیٹھی سواریوں سے کہنے لگے؛
’’اب دیر مت کرو۔۔۔ اُٹھو!۔۔۔ گاڑی خالی کردو۔۔۔۔ کسی کے گھر کا چراغ نہ بُجھ جائے۔۔۔ کوئی ماں اندھی نہ ہوجائے۔۔۔ کسی کا سُہاگ نہ لُٹ جائے۔۔۔ کوئی بہن بھائی کیلئے نہ تڑپے۔۔۔ اُٹھو! ہم پیدل ہی چلیں گے۔۔۔‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی خالی ہوگئی۔ بُزرگ لوگوں نے زخمی سپاہی کو منی بس میں لِٹانے کا جُگاڑ کیا۔ پھر باقی سپاہی بھی گاڑی میں سوار ہوگئے۔ گاڑی تیزی سے آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ نزدیک کے ایک مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ روزہ کھولنے کا وقت ہوچکا تھا۔ عورت نے پوتے کی پہلی سالگرہ کیلئے خریدے کیک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے اور سبھی لوگوں میں بانٹ دیئے۔ 
شائد وہ آنسوں پونچھتے ہوئے بھی گنگنائی تھی۔۔۔’’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو‘‘۔
کسی اور نے یہ سُنایا یا نہیں عورت کو معلوم نہیں۔
���
پہلگام کشمیر،موبائل نمبر؛9858433957