تازہ ترین

سوپور اور شوپیان میں مسلح جھڑپیں | 4 جنگجو، غیر ریاستی مزدور اور فوجی ہلاک،7رہائشی ڈھانچے خاکستر

4 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

غلام محمد +شاہد ٹاک
سوپور+شوپیان// سوپور اور شوپیان میں مسلح تصادم آرائیوں کے دوران4جنگجو ، ایک بہاری مزدور اور ایک فوجی جاں بحق جبکہ دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ شوپیاں میں 40گھنٹے تک جھڑپ جاری رہی جس کے دوران مقام جھڑپ کے نزدیک مظاہرین اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں نصف درجن مظاہرین کو پیلٹ لگے۔ضلع میں انٹر نیٹ سہولیات دوسرے روز بھی بند رہیں جبکہ کاروبار اور ٹریفک کی نقل وحمل پر بھی اثر پڑا۔

سوپور

 شمالی کشمیر کے سوپور وارہ پورہ، ملما پنپورہ میں32آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی سوپور نے علاقے میں جنگجوئوں کی موجود گی کی اطلاع ملنے کے بعد محاصرے کیا اور تلاشی کاروائیاں شروع کیں ۔اس دوران جنگجوئوں نے فورسز پارٹی پر اند دھند فائرنگ کر کے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کے کوشش کی تاہم فورسز نے پہلے ہی تمام راستوں کو سیل کر دیا تھا۔ فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی جس دوران یہاں کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا۔پولیس نے بتایا کہ ابتدای طور پر ایک جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ اسکا ساتھی چھپ گیا۔فورسز نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد علاقے میں تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع  کیاجس دوران طرفین کے درمیان پھر ایک بار گولیوں کاشدید تبادلہ ہوا جو واقفے وقفے سے بعد دوپہر تک جاری رہا ۔گولیوں کے تبادلے میں دوسرا جنگجو بھی جاں بحق ہوا جبکہ ایک فوجی اہلکار شدید زخمی ہوا۔مارے گئے جنگجوئوں میں سے مقامی جنگجو کی شناخت عمر شہباز وانی ولد محمد شہباز ساکن کھار پورہ بانڈی پورہکے بطور ہوئی ہے جبکہ دوسرا جنگجو غیر ملکی بتایا جاتا ہے۔عمر شہباز 2جون 2019کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔ادھر انتظامیہ نے علاقے میں فائرنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی امن وقانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے انٹرنیٹ سروس معطل کی تاہم علاقے میں گرمائی تعطیلات کے نتیجے میں کالج پہلے ہی بند تھے ، علاقے میں ہڑتال سے معمولات زندگی بری طرح متاثر رہی ۔

شوپیان

 وہیل گائوں کے نزدیک پوند شن نامی بستی میں 40گھنٹے تک جاری مصلح تصادم آرائی میں سنیچر کو ایک اور مقامی جنگجو جاں بحق ہوا ۔ اس طرح جھڑپ میں دو جنگجو اور ایک فوجی اہلکار مارے گئے۔سنیچر کی سہ پہر 40گھنٹوں کے بعد محاصرہ اٹھایا گیا۔جمعہ کی شام یہاں زینت الا سلام عرف غازی بابا ساکن میمندر نامی جنگجوجاں بحق ہوا تھا۔ زینت 19فروری 2018 کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔سنیچر کو اسکا ساتھی منظور احمد بٹ ساکن وچی بھی جاں بحق ہوا۔منظور احمد نے 24مارچ 2019 میں ہتھیار اٹھائے تھے۔یہاں جھڑپ کے دوران ریاض احمد مانتو کے گھر میں کام کررہا ایک مزدور24 سالہ محمد معظم ولد محمد اختر منصوری ساکن پولیس سٹیشن چھٹی پورہ ضلع  سپال بہار بھی جاں بحق ہوا جسے بستی میں گولی لگی تھی۔مسلح تصادم آرائی میں محمد یوسف مانتو کامکان وگائو خانہ ، فیاض احمد ایتو کا مکان ، گائو خانہ اور سٹور اورگلزار احمد ایتو کامکان اورگائو خانہ خاکستر ہوئے۔واضح رہے کہ یہاں تصادم آرائی میں ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔پولیس اور مظاہر ین کے مابین جھڑ پوں کا سلسلہ سنیچر دوسرے روز بھی جاری رہا جس کے دوران  قریب 4افراد کو پیلٹ لگے۔ دو دنوں کے دوران نصف درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔
 
 

کیرن میں دراندازی کی کوشش | 7 جنگجوئوں کی ہلاکت کا دعویٰ

کپوارہ//اشرف چراغ //فوج نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ حد متارکہ پر واقع کیرن سیکٹر میں ہفتہ کی شام انہو ں نے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 5سے 7 جنگجوئوں کو جاں بحق کیا جبکہ پولیس نے ابھی تک اس جھڑپ کی تصدیق نہیں کی ۔فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے 36گھنٹوں میں پاکستان نے وادی میں امن خراب کرنے کی غرض سے امر ناتھ یاترا پر حملہ کرنے کی کئی کوششیں کیں۔ کیرن سیکٹر میں اگلی چوکی پر بارڈر ایکشن ٹیم کی جانب سے حملہ کرنے کی کوشش بھی اس میں شامل ہے۔ اس کارروائی میں 5یا 7پاک فوجی یا جنگجو مارے گئے۔ وادی میں 4جنگجو مارے گئے۔بیان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گرد کارروائیوںمیں ملوث ہے۔پولیس نے اس جھڑپ سے متعلقرات دیر گئے تک کوئی تصد یق نہیں کی ۔ پولیس کے مطابق یہ علاقہ کپوارہ سے بہت دور ہے اور وہا ں رابطہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔