تازہ ترین

پارلیمنٹ میں وضاحت کیجائے:عمر

4 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

اشفاق سعید
سرینگر // نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبد اللہ نے مرکزی سرکارسے کہا ہے کہ وہ جاری کی گئی ایڈوائزری کے بارے میں وضاحت کرے۔ سنیچر کو گورنرستیہ پال ملک سے ملاقات کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’گورنر نے یقین دہانی کرائی  ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘‘۔عمر نے کہا کہ وادی میں پچھلے کچھ دنوں سے جو خوف وڈر کا ماحول بنا ہوا تھا اس نے کل کے حکم نامہ کے بعد بہت زیادہ حالات بگاڑ دیئے ، اچانک لوگ پٹرول پمپوں کی طرف دوڑ پڑے، دکانوں کو خالی کر دیا گیا  سونہ مرگ ،گلمرگ اور پہلگام علاقے ، جوکبھی ملی ٹنسی کا شکار نہیں رہے، اُن کو بھی خالی کیا گیا جس کا اثر عام لوگوں پر پڑا ۔انہوں نے کہا’’ ہمیں کہیں سے بھی صیحح جواب سننے کو نہیں مل رہا ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ سچ سننے کیلئے جب ہم افسروں سے بات کرتے ہیں، کہ کیا ہو رہا ہے، تو وہ ہمیں کہتے ہیں، ہمیں نہیں پتہ لیکن کچھ ہو رہا ہے ۔
 
انہوں نے کہا ہمیں سچ بتانے کیلئے آج کل کیا جا رہا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے ریاستی گورنر سے یہی کہا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ریاست میں کیا ہورہا ہے تو انہوں نے جو بیان کل دیا اُس کو پھر سے دہرایا ۔ عمر نے نامہ نگاروں کو بتایا’’گورنر نے ہمیں یقین دلایا کہ دفعہ370یادفعہ35اے کو ہٹانے یا پھر ریاست کی نئی حد بندی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور وہ اس سلسلے میں لوگوں کو مطمئن کرنے کیلئے ایک بیان بھی جاری کریں گے‘‘ ۔عمر نے کہا کہ اْنہوں نے پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ سوموار کو مرکزی سرکار کی طرف سے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بیان کے حق میں پارلیمنٹ کے اندر تحریک پیش کریں‘‘۔عمر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کا دفاع کیا اور مستقبل میں بھی کیا جائے گا ،چاہئے اس کیلئے سیاسی اور قانونی جنگ کیوں نہ لڑنی پڑے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا وکیل بھی 35 اےکو بچانے کیلئے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہا ہے تو ہم اپنی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے، ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صبر سے کام لیں ۔‘‘وزیر اعظم سے نیشنل کانفرنس ممبران کی ملاقات کے حوالے سے عمر نے کہا ’’ وزیر اعظم نے انہیں یقین دلایا کہ 35Aکے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی، وہ یہاں الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں ،اور وہ یہاں پر انتخابات چاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ یہاں ماحول میں کوئی خرابی آئے ،وہ اس بات پر بھی مطمئن تھے کہ یہ سال پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہتر رہا ، میٹنگ کے بعد ہم مطمئن ہو کر باہر آئے اور پھر 24گھنٹوں کے اندر اندر ایسا آڈر جاری ہوا ، ہمیں تو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ہم ایسا حکم نامہ جاری کرنے والے ہیں‘‘ ۔عمر نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں حکومت کا بیان چاہتے ہیں کیونکہ''ریاست کے بارے میں گورنر حرف آخر نہیں ہیں''۔