تازہ ترین

یاسین ملک کی بگڑتی صحت پر گیلانی فکرمند

بھارت قیدیوں کے تئیں عالمی قوانین پر عمل کرے

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے لبریشن فرنٹ کے محبوس چیرمین محمد یٰسین ملک کی تہاڑ جیل میں بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ اُن کی ہمشیرہ کی طرف سے دی گئی پریس بریفنگ ہم سب کیلئے بہت ہی تشویش کا باعث بنی ہے۔ یاسین ملک پہلے ہی بہت سے عارضوں میں مبتلا ہے اور اگر اُس کے علاج و معالجہ کے حوالے سے اسی طرح کی سرد مہری اور عدمِ دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تو اُن کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کریں۔ خاص کر جب قیدی بیمار اور کمزور ہو۔ ہندوستان کے اپنے شہری جب مجرم ہوکر قید کرلیے جاتے ہیں تو وہ اُن کی سلامتی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے بین الاقوامی اداروں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتے ہیں اور انہیں ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن آزادی اور اپنے سلب شدہ حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو یہ بھارت جب گرفتار کرتا ہے تو اس کے ذہن میں انتقامی جذبے کے بغیر کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ ریاست کے باہر جیلوں میں قید کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ بہت ہی متعصبانہ اور ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے، نہ وقت پر علاج کیا جارہا ہے، نہ معقول غذا فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی دوائیاں دی جاتی ہیں جن سے اُن میں سے بیشتر لوگوں کی صحت تشویش ناک حد تک خراب ہوئی ہے، جن میں شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، آسیہ اندرابی، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد وغیرہ شامل ہیں۔