تازہ ترین

ززنہ گاندربل کی فروٹ منڈی | نہ بنیادی ڈھانچہ بن سکا نہ ہی کاروبار شروع ہوسکا

گاندربل//گاندربل کے مضافاتی علاقہ ززنہ میں موجود فروٹ منڈی کو سال 2016 میں تیار کرکے عوام کے نام وقف کردیا گیا تھا لیکن تب سے آج تک تین سال گزرنے کے باوجود نہ ہی تعمیر و تجدید کا کام ہاتھ میں لیا گیا اور نہ ہی بنیادی سہولیات کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی جس وجہ سے میوہ صنعت سے وابستہ بیوپاریوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فروٹ منڈی ززنہ جہاں ضلع بھر کے مختلف علاقوں کے فروٹ بیوپاری اپنے پیداوار کو فروخت کرکے روزی روٹی کمارہئے ہیں۔رواں سال ماہ جون سے منڈی میں کاروبار شروع ہوگیا لیکن ضلع انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث میوہ صنعت سے وابستہ بیوپاریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ززنہ فروٹ منڈی میں گزشتہ سال 60 کروڑ روپیہ کا مختلف اقسام کا میوہ فروخت کیا گیالیکن اس وقت منڈی کے احاطے کو آج تک نہ ہی میگڈم بچھایا گیا ہے اور نہ ہی

کپوارہ میں محکمہ دیہی ترقی کا انتظامی ڈھانچہ ٹھپ | 14بلاک افسران سے خالی

کپوارہ//سرحدی قصبہ ترہگام میں لوگو ں نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کی عدم موجودگی کے خلاف محکمہ دیہی ترقی کے خلاف زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے دفتر کو مقفل کیا ہے ۔جمعہ کو لوگو ں کی ایک بڑی تعداد جن میں سر پنچ اور پنج بھی شامل تھے اپنے گھرو ں سے باہر آئے اور ترہگام چوک میں جمع ہوتے ہوئے بلاک ڈیو لپمنٹ آفس پہنچ گئے اور وہا ں بی ڈی او کی عدم موجودگی کے خلاف احتجاج کیا جبکہ ان کے دفتر کو مقفل کیا ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ ترہگام میں گزشتہ6مہینو ں سے بلاک ڈیو لپمنٹ آفیسر کی کرسی خالی پڑی ہے ۔لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ بلاک ڈیو لپمنٹ کی کر سی خالی ہونے کے بعد بی ڈی او قادر آ باد کو ایڈیشنل چارج دیا گیا لیکن وہ بھی نہیں آتے ہیں جس کی وجہ سے ترقیاتی کام بری طر ح متا ثر ہے ۔سرپنجو ں اور پنچو ں کا کہنا ہے کہ وہ ترقیاتی کامو ں کے معاملہ کے حوالہ سے روز بلاک دفتر ترہگام کا چکر کا ٹتے ہیں لیکن آفیس

معیشت کیلئے جراتمندانہ قدم اٹھانے سے گریز کر رہی ہے حکومت: چدمبرم

نئی دہلی // کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے عام بجٹ میں بنیادی ڈھانچہ کی اصلاحات کی کمی پر آج گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ملک کی معیشت انتہائی کمزور ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت واضح اکثریت کے باوجود معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ‘ جرائمندانہ فیصلے ’نہیں لے رہی ہے ۔ مسٹر چدمبرم نے راجیہ سبھا میں بجٹ پر بدھ سے جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20-25 سالوں میں صرف 11 مرتبہ ہی بجٹ میں بنیادی ڈھانچہ کی اصلاحت کی گئی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اصلا حات سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں ہر تبدیلی کو اصلاحات کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔لائسنس راج اور غیر ملکی کرنسی ایکٹ سے متعلق قانون کو کالعدم قرار دیا جا نااقتصادی اصلاحات کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اس بجٹ میں ایسا کوئی بنیادی ڈھانچہ کی اصلاحات نہی