تازہ ترین

مودی کس کی ضرورت ؟

 وزیراعظم نریندر مودی اپنی 5 سالہ مدت پوری کرنے کی دہلیز پر ہیں لیکن اسی کے ساتھ ملک بھر میں یہ بحث بھی چھڑنے لگی ہے کہ آیا ملک کو آگے اُن کی ضرورت ہے کہ نہیں ۔ بالفاظ دیگر یہ سوال اب سنجیدہ ذہنوں پر حاوی ہے کہ مودی کا انتخاب بہ حیثیت وزیر اعظم دوسری ٹرم کے لئے کیا جائے یا نہیں ؟ میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ یہ تاثر دینے کی کوشش میں رات دن ایک کئے ہوئے ہے کہ مودی کے دوبارہ نہ آنے کی صورت میں ملک میں انارکی پھیل جائے گی ، کسی ایک پارٹی یا ا نتخابی تحاد کو مکمل اکثریت نہ ملنے کی صورت میں ملک کی سیاسی اور معیشی صورت حال تتر بتر ہوگی۔ یہ حلقہ شوشہ آرائی کر رہاہے کہ اگر مودی کے متبادل کے طور ملی جلی حکومت بنی تو یہ کھچڑی سرکار ہو گی ۔ یہ لوگ تاریخ کا حوالے دے کر جنتا پارٹی اور اندرا گاندھی کی یاد دلا کر کہتے ہیں کہ کس طرح اندرا گاندھی کو اُکھاڑ پھینکنے کیلئے جنتا پارٹی کے بینر تلے اپوزی

شہریت بل!

 ہندوستان کے سیکولرم آئین کے بموجب کسی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا تحفظ اور رعایت نہیں دی جاسکتی۔ حدتو یہ ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی معاشی اور سماجی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے لیکن مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی کوئی راحت حکومت سے نہیں مل سکتی ہے۔ مودی حکومت نے دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ’’قانون شہریت ترمیمی بل 2016‘‘ میں بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے تمام ہندوئوں، سکھوں، عیسائیوں اور اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کے پیروکاروںکو ہندوستان کی شہریت دینے کا قانون بنایا ہے۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستانی شہریت مذہب کی بنیاد پر دی جارہی ہے۔ پڑوسی ممالک سے ہندوستان آنے والوں میں بھاری اکثریت ہندوئوں ہی کی ہوسکتی ہے، لہٰذا سنگھ پریوار کے ہندتو کے ایجنڈے کے مطابق ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے

شاہ فیصل دشت ِسیاست میں!

 دنیا  بھر کے کم و بیش تمام ممالک کی تواریخ میں ایسے بے لوث انقلابی رہنماؤںکا ذکر ضرور ملتا ہے کہ جنہوں نے اپنی اپنی قوم کو غلامی اور مشکلات سے نجات دلانے کا عزم لئے اپنی راتوں کی نیند تیاگ دی  اور اپنے ملک وقوم کو نئی جان دی۔ فرانسیسی انقلاب کے اوراق کو پلٹ کے دیکھیں یا جرمنی، اٹلی ، یونان، ہندوستان کی تاریخ کو کھنگالیں ، ایسے سیاسی رہنماوں کی اَنتھک کاوشوں کا سنہرا باب ضرور ملتا ہے جنہوں نے تن من دھن  سے اپنے آپ کو قوم کے نام وقف کیا اور قوم کا کوئی دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کرکے رکھا ۔ایسے قائدین کے کارنامے سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہوتے ہیں ۔ بر صغیر کی تاریخ بھی ایسے اَن گنت نڈر، خطر پسند ، جان باز ،دُور اندیش سیاسی رہنماؤں کی اَنتھک کاوشوں اور گرانقدر خدمات کی گواہ رہی ہے۔ بلا شبہ انہی رہنماوں کی بے لوث خد مات اور قربانیوں سے بر صغیر نے غلامی در غلامی

محض کشمیری بولنے کے جرم میں اکثریت سرکاری عنایات سے محروم ؟

ریاست  کے گورنر ستیہ پال ملک نے 25جنوری کو ایک بل کی منظوری دی کر پہاڑی زبان بولنے والوں کیلئے ریزرویشن کا قانون پاس کردیا۔ اس طرح سے پہاڑیوں کو ایک الگ کلچر ، نسل اور لسانی تشخص کا حامل قرار دے کر ریزرویشن کے دائرے میں لایا ہے۔ اگر چہ یہ قانون 2004 ہی میں پاس ہوا تھا اور اس کے  بعد فروری 2018میں بھی اس حوالے سے پی ڈی پی حکومت نے ریزرویشن کا کام کیا تھا تاہم اس کو ایک بھرپورقانون بنانے کا کام اب ہوا ہے۔ اس بارے میں کہا گیا ہے کہ پہاڑیوں کو ریاست میں چھانٹنے یا وہ کون ہیں اور کہاں ہیں، اس کیلئے الگ سے کام ہوگا ۔پھر بھی ستیہ پال ملک نے اس قانون کو ایک فلاحی قانون قرار دیا۔ بتایایہ گیا ہے کہ پہاڑی مبینہ طور پر ریاست کے دور دراز نارسا علاقوں میں رہتے ہیں اور تاریخی طور سے بیک ورڈ رہے ہیں۔ اس قانون کے تعلق سے پہاڑی جماعتوں کے علاوہ ریاست کی لگ بھگ سبھی اقتدار پرست جماعتوں نے اُچھل

باپو اور گوڈسے

 میں  نتھو رام گوڈسے ہوں، ہندوستان کا وہ دہشت گرد و غدار جس نے بابائے ہند کہلانے والے گاندھی کو گولیاں مارکر ایک ناقابل معافی جرم کیااور ہندوستان کے گلستان میں نفرت کا زہر گھول دیا ،میرے اس کام میں میرا ساتھ دینے والے میرے ہی ہم خیال، ہمسایہ میرے گرو ساورکر اور ہندوتوا کے وہ سارے دلال تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کی مخبری کیا کرتے تھے۔قدم قدم پر انہی کی حوصلہ افزائی نے مجھ میں ایسی سیاہ روح پھونک دی جس نے مجھے ایک نہتے اور اَہنساوادی انسان ۔۔۔باپو۔۔۔ پر گولیاں چلانے کی ترغیب دی ۔ یہ جرم کر تے ہوئے ایک پل کے لئے بھی میرے ہاتھ کانپ نہ اُٹھے۔ میری پرورش بھی ایک حد تک میری شخصیت کی ذمہ دار تھی۔میری پیدائش 1910 میں ہوئی، میں اپنے ماں باپ کا پہلا بیٹا تھا جو زندہ رہا، مجھ سے پہلے میرے تین بھائی بچپن ہی میں مرگئے ۔اس وجہ سے میرے والدین نے میری پرورش لڑکیوں کی طرح کی کیونکہ ان کااَن