تازہ ترین

زبان کی آفتیں

 اللہ  تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریںکہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت  وافادیت کھو

مسلمان جاگ جائیں

 موجودہ  دور انسانی تہذیب کا سنہرا دور کہلاتا ہے کیونکہ انسان سمندر کی گہرائیوں اور چاند کی وسعتوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ نئی نئی ایجادات وجود میں آرہی ہیں۔ ان ایجادات سے لوگوں کا کافی فائدہ ہورہا ہے ۔ ہر خاص و عام ان کے حصول میں لگا ہے۔ خصوصاً آج کل لوگ سوشل میڈیا کے بغیر اپنے آپ کو نامکمل تصور کرتے ہیں اور سوشل میڈیا ہے کہ فوائدا ور نقصانات سمیت دن بہ دن مضبوط ہورہا ہے ۔ تصویر کا ودسر ارُخ یہ ہے کہ اتنی مادی ترقی کے باوجود آج قومیں آپس میں جنگ وجدل میں مصروف ہیں ، ایک ملک دوسرے ملک کو مٹانے کے درپے ہے ، بھائی بھائی سے ناراض ہے، شرم و حیاء نایاب شئے  ہورہی ہے،ایک ہی چھت کے نیچے بسنے کے باوجودآدم زاد ذہن میں نفاق اوردل میں نفرت پالتے ہیں ۔ یہ ہے دنیا کی بدنصیب تصویر اور ٹیکنالوجی کا کمال۔ہمیں چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک دوسرے کے قریب آجاتے،رشتوں اور

سید قطب شہیدؒ

سید قطب شہیدؒ کی دینی،سیاسی،ادبی،صحافتی وتحریکی پہلوئوں کو اُجاگر کرنے کے لئے انتہائی علمی وسعت اور نظر کی اَتھاہ گہرائی درکار ہے۔ایک اعلیٰ پایہ کے قلم کار، مفسر،بے باک صحافی،اخوان المسلمین کے بے خوف قائد ہونے کی حیثیت سے مسلمانانِ عالم کے تئیں سید قطب شہید ؒکی ناقابل فراموش خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی ۔ قارئین کرام واقف جانتے ہیںکہ گذشتہ تین سو برس میں مسلم دنیا پر باطل قوتیںپوری شدت کے ساتھ قابض ہیں۔اس کے باعث مسلم دنیا نے اپنی غیرت اور اعتماداس قدر کھو دیا کہ وہ خود بھی استعماری طاقتوںکی غلامی میںزندگی گزارنے پر آمادہ ہوگئی لیکن اس کے باوجود مسلم دنیا میں وہ قدسی نفوس بھی پیدا ہوتے رہیںجنہوں نے طاغوتی نظام اور استعماری قوتوںکے ناپاک عزائم کو خاک میںملانے کے لئے اپنی حتی المقدورکوششیں جاری رکھیںاور اسلامی تحریکوں کے تحت مسلم دنیا کو بیرونی مداخلت اور قبضوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد