تازہ ترین

ریٹلے پاور پروجیکٹ!

ریٹلے پاور پروجیکٹ کو دریائے چناب پہ کشتواڑ میں دراب شالہ کے مقام پہ بنانے کی تجویز آج سے کئی سال پہلے منظر عام پہ آئی ۔اِس پروجیکٹ کو 2017 ء تک پایہ تکمیل تک پہنچانا قرار پایا تھا،البتہ شومئی قسمت سال  2019ء شروع ہو چکا ہے لیکن ابھی تک حتمی طور پر یہ  فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا کہ اس پروجیکٹ کی تعمیر و تکمیل کے لئے کس ایجنسی کو بروئے کار لایا جائے گا۔ حالیہ دنوں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یہ پروجیکٹ بھی نیشنل ہیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC)کی نذر کیا جائے گا تاکہ ادارہ ریاستی وسائل کے اُس استحصال کا سلسلہ جاری وساری رکھے جس کی یہ کاپوریشن آج تک مرتکب ہوتی رہی ہے۔ NHPCکی استحصالی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ریاستی سرکار نے بین الریاستی ٹینڈر طلب کئے تاکہ مناسب شرائط پر اِس پروجیکٹ پہ کام ہو سکے۔قرعہ فال حیدر آباد کی ایک کمپنی M/s GVK کے نام نکل آیا اور یہ کام بوٹ( BOOT) کی شرط پ

’’رنبیر‘‘

ریاست   جموں و کشمیر کی دنیا کے بابا ئے صحافت ، عظیم رہنما پدم شری ملک راج صرافؔ کی اردو دوستی کو فراموش نہیں کیا جاسکتاہے ۔ انہوں نے ریاست میں صحافت کے میدان میں قدم رکھ کر بانی کے فرائض انجام دئے ہیں ۔ ملک راج صراف ؔنے ۲۴ جون ۱۹۲۴ ء کو جموں سے پہلا اردو اخبار ’’رنبیر ‘‘ جاری کیا۔ اسی اخبار سے ریاست میں ادبی صحافت کا بھی آغاز ہوا۔اس اخبار میں ادبی صحافت کے متعدد نمونے منظر عام پر آئے جن کو کافی سراہا گیا ۔’’رنبیر ‘‘اخبار ریاست میں اردو نثر کی ترقی کے لیے مفید ثابت ہو ا۔اس اخبار میں نئے نئے قلم کاروں کو اپنی تحریر یں پیش کر کے اپنی صلاحیتیں اُبھارنے کا مواقع ملا ۔ملک راج صراف جو ریاست میں اردو زبان کے خواہاں تھے نے ’’رنبیر ‘‘ اخبار کے پہلے ہی شمارہ میں اخبار کے مقاصد واضح بیان کئے ،جس میں انہوں نے اردو

کیا کیا بتاؤں؟

جس  گھر میں ، میں نے فون کال وصول کی، فون رکھنے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے فون پر ایسا کیا سُنا جو میں خوش دکھائی دے رہا ہوں۔ جب میں نے اُن کو بتایا کہ ہمارے گھر میں فون لگا ہے تو وہ حیران ہوگئے اور میں ان کی حیرانگی پر حیران ہوا۔ اُس دن تو وہ بات کو گول کر گئے مگر کچھ دنو ں کے بعد باتوں باتوںکے دوران وہ مجھ سے کہنے لگے کہ فون لگنا کوئی اتنی بڑی خوشی کی بات تو نہیں ۔ یہ ایک عام سی معمولی بات ہے جیسے گھر میں ٹی وی لایا،گلدان رکھ دیا، یا ایک ڈیکوریشن پیس خریدکر لایا۔ یہاں( ممبئی میں) فون ہر گھر، ہر گلی اور ہر دوکاندار کے پاس ہوتا ہے ، یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ میں نے اُن کو بتایا کہ ہماری وادی میں محلے میں مشکل سے ایک آدھ فون ہوا کرتا تھا اور دوکاندار وں میں فون صرف بڑے تھوک بیوپاریوں کے ہاں ہی ہوتا تھا۔ دور و نزدیک کے دیہات میں یہ سہولت بہت کم میسر تھی۔ یہ صرف سن

ادب عکس ادیب عکاس!

 دراصل  ادیب اسی کو کہیں گے جو ادبی لوازمات کا خیال رکھ کر احساسات و خیالات،اس کے ارد گررونما ہو رہے حالات و واقعات کو خوبصورت الفاظ میں خوبصورت پیرایئے اظہار عطا کرے۔ادیب کسی بھی فکر کا حامل ہو لیکن جب اس کے پاس اپنی فکر و نظر کوعوام تک پہنچانے کے لیے انتہائی مؤثر ترین الفاظ اور اظہار کا سلیقہ ہو،اس میںمشاہدہ کی قوت ہو، ادراک و شعور ہو اور اس ادراک و شعور کو اعلیٰ زبان و بیان کی قوتوں مثلاًصنائع بدائع، فصاحت و بلاغت سے آراستہ کرنے کا ہنر ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کے فکر و نظر کی بنیاد پر اسے ادیب ماننے سے منکرہو جائیں۔ اس سے متعلق ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کون سے ادیب کو کامیاب ادیب کہا جائے گا۔اس کو کہ جس کے فن پاروں میں شکستگی کا اظہار ،زندگی سے فرار،یاس ونومیدی ،خودی کی موت وغیرہ جیسے احساسات و خیالات ملتے ہوں یا اس کو کامیاب کہا جائے جس کی نگارشات میں عزم و حوصل

کشمیر میں اردو

 یہ  اس زبان کے تئیں سراسرمتعصبانہ سیاست برتی جارہی ہے اور۱۳۳۰ء میں یہی سیاست ‘ تعصب ‘ بغض اور نفرت ومغائرت فارسی زبان کے تئیں اختیار کی گئی تھی ، جب کہ اُس وقت کی حکومت نے فارسی کو سرکاری زبان قرار دیا‘ جس کے بعد محدودالفکر اور تنگ نظری کے شکار لوگ فارسی زبان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ فارسی میں چونکہ کافی اسلامی لٹریچر کافی منتقل ہوا تھا،اس وجہ سے تنگ نظر لوگوں نے یہ زبان سیکھنے والوں کو تعصب کی بنا پر کا طعنے دئے۔ آج ہو بہو یہی حال اردو کا کیا جارہا ہے کہ اسے مسلمانوں سے منسوب کر کے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ شیریں زبان ہمیشہ کے لئے فنائیت کا شکار ہو کر رہے گی‘ پھر شاید ہی اردو زبان کا سورج اپنی تابناک شعاعوں کے ساتھ کہیں نمودار ہو کر گلستانِ علم و ادب کو ایسی حرارت بخشے کہ داغ دہلویؔ کا یہ مشہور

اُردو کی ناک نہ کاٹیں!

ہم جب بھی سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) پر اردو املا یا زبان کی کوئی غلطی دیکھتے ہیں، تو فوراً مطلع کردیتے ہیں کیونکہ ہم صحت زبان کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ البتہ زبان کی تبدیلی کے حوالے سے ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ یہ تو بدلتی رہتی ہے، اس لیے اس کی غلطیوںکے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے، بس بات سمجھ میں آنی چاہیے، کافی ہے، آگے بڑھئے۔ نہیں صاحب! یہ دُرست ہے کہ زبان بدلتی ہے اور لفظ تبدیل بھی ہوتے ہیں اور اپنے معانی بھی اُتارتے اور پہنتے رہتے ہیں لیکن اس کا عذر کرکے اصلاح اور دُرستی کا دروازہ بند کرنا مناسب نہیں۔ کسی بھی زبان کا یہ حق ہے کہ اسے اچھی طرح جان کر سیکھ کر اس کے ہر ممکن آداب کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ رہی بات تبدیلی کی، تو وہ اپنے آپ غیر محسوس طریقے سے جاری ہے۔ زبان کی غلطیوں پر بضد رہنا زبان کی زوال پذیری کی راہ تو ہوسکتی ہے، ترقی کی منزل نہیں۔زبان دراصل سماج کی ترقی و تن