!!!۔35اے؍کی مجوزہ منسوخی

2019 لوک سبھا الیکشن کے لئے ملک بھر میں انتخابی مہم اپنے جوبن پر ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ کی طرف سے با لخصوص انتخابات سے قبل جب بھارتی آئین کی دفعہ370یا 35Aکو کالعدم کرنے کی ملکی عوام کو یقین دہانیاں اور وعدے کئے جارہے ہوں تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کواس حوالے سے اگر کوئی ردعمل دکھانے کی ضرورت ہے تووہ یہی ہو ناچاہئے کہ بھاجپا اور اس قبیل کی پارٹیوں کوجوآئین کی متذکرہ دفعات کی منسوخی کے زعم ِباطل میں مبتلا ہیں ،کو عملی طور ایسا کردکھانے کا چلینج دیا جانا چاہئے۔  2014ء  میں جب پرائم منسٹر آفس میں بہ حیثیت وزیر مسٹر جتندر سنگھ نے یہی ہرزہ سرائی کی تو میں نے اس وقت بعینہ یہی طرز عمل اپنایا ۔ جب سے لے کر آج تک پانچ سال کا عرصہ گزر گیاہے،دفعہ 370اور 35Aبھارتی آئین میں اپنے مقام پر بہ نفس نفیس جوں کی توں سالم و ثابت ہے اور جتندر سنگھ

کنیہا بمقابلۂ گیری راج

ایک   ایسے دور میں جب ہندوستان میں فرقہ پرستی، تعصب، مسلم اور دلت اقلیت کےساتھ جانوروں جیسا سلوک کر نا معمول کی بات بنی، ان حالات ست تنگ آکر ایک جواں سال دلت اسکالر روہت ویمولا نے  خود کشی کی ۔ اس سے جہاں بھاجپا حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ،وہیں جے این یو، نئی دلی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیاکمار کو میدان میں لا کھڑاکر دیا ۔کنہیا کمار نے4 فروری 2016 کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فرنٹ کے زیر اہتمام روہت ویمولہ کی خودکشی کے خلاف آوزاُٹھائی اور الزام لگایا کہ روہت نے حیدرآباد یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے متعصبانہ رویوںکے خلاف آتم ہتھیا کا اقدام کیا ۔ چونکہ ر وہت کے حق میں کنہیاکمار نے Justice For Rohitتحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے فوراً جے این یو کے پروگرام  کے بارے میں

یادوں کے جھروکے سے 4

ہاں میری کچھ یادیں تندوتلخ بھی ہیں۔ سب لوگ پران کشور صاحب اور سومناتھ سادھو صاحب جیسے نہ تھے۔یادیں بہت ہیں، کچھ میرے ساتھ ہی قبر میں جائیں گی کیونکہ انہیں ظاہر کردیا تو نہ جانے کیا ہو گا!  خیرعمر کے نقارے پر وقت کی ضربیں پڑتی رہیں اور ہم بڑے ہوگئے۔ ایسا ہوا جیسے کسی شاعر نے کہا ہے   ؎ ہم بڑے ہوگئے مسکراہٹ، تبسم، ہنسی، قہقہے سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہوگئے ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہیں بوجھ اوروں کا خود ہی اُٹھاتے رہیں اپنا دُکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں محفلوں میں مگر مسکراتے رہیں کتنے لوگوں سے اب مختلف ہوگئے ہم بڑے ہوگئے اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی جو تھپک کرسلاتے تھے، خود سو گئے ہم بڑے ہوگئے ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئ

غلط سوچو غلط بولو غلط کر نے کا فن سیکھو

ہر  فن مولانو جوت سنگھ سدھو غضب کا آدمی ہے، مودی بھگتوں کو کھری کھری سنائی :ا رے بھائی! پیٹ خالی ہیںیوگا کروایا جار ہا ، جیب خالی ہیں کھاتے کھلوا ئے جارہے ہیں ، کھانے کو کچھ نہیںسوچالے بنوائے جارہے ہیں ،گاؤں میں بجلی نہیں ڈیجیٹل انڈیا بنوایا جارہاہے، سبھی کمپنیاں دویشی ہیں میک اِن انڈیا بنایا جارہاہے ،جو فلک بوس بُت بنایا سردار پٹیل کا وہ چین سے لائے، رافل جہازفرانس سے لائے ،بُلٹ ٹرین جاپان سے لائے، توبھارت واسیوں سے کیا کرواگے ؟ پکوڑے تلواؤگے ؟ یہ سوال ہے ،لیکن ا س شہر خموشاں میں نوجوت سنگھ کاجواب دے گا کون ؟ خیر آگے بڑھتے ہیں ۔  ووٹ مانگنے، خریدنے ، چھین لینے کا زمانہ ہے ۔ تم مجھے ووٹ دو میں تمہیں شاہراہ دوں گا ، یہ آج کا نیا سیاسی منتر ہے۔وہ جو نیتا جی سبھاش چندر بوس نے بھارتی شہریوں سے کہا تھا کہ خون کے بدلے میں آزادی دلائوں گا ،کچھ ایسا ہی ملتا جلتا نعرہ لئے اپ

تازہ ترین