۔ 22اپریل 1870لینن

بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک میں لینن (22اپریل 1870تا 21جنوری 1924)کا نام ،کام اور مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی زندگی کا ہر ایک لمحہ ہر دور کے کمیونسٹوں اور انقلابیوں کے لئے مشتعل راہ رہاہے۔ لینن نے نہ صرف نظریاتی طورپر مارکسی فلسفہ میںاضافہ کیا، پرولتاری طبقہ کی ایک نئی طرز کی آزاد اور انقلابی پارٹی قائم کی بلکہ دُنیا کی پہلی سوشلسٹ ریاست کا وجود عمل میں لاکر ثابت کردیا کہ کمیونزم محض ایک ہوائی تصور نہیں بلکہ حقیقت ہے۔  54 برس کی مختصر سی زندگی میںلینن نے جوکارہائے عظیم کردکھائے، ان کے باعث پرولتاری طبقہ نے صدیوں کی مسافت ایک دم طے کردی۔ خود لینن کے الفاظ میں روس میں پیداشدہ انقلابی صورت حال ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہے۔لینن کی قیادت میں روس کا سوشلسٹ ریاست کے طورپر ظہور ایک قومی مظہر نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل تھا۔ لینن صرف روس کے نہیں بلکہ بین الاقوامی مزد

یادوں کے جھروکے سے (5)

سرینگر  رپورٹر۔۔زمانے کی انقلاب انگیز تبدیلیوں کے باوجود کشمیر پولیس اپنے مظلوم بھائیوں کو غیر قانونی طور پر مارنے، پیٹنے، ان پر جبروظلم کرنے اور انہیں گالیاں دینے سے ذرا بھر نہیں ہچکچاتی اور اپنی اس روایت کو بڑی پابندی سے نبھا رہی ہے جو 1947ء کے بعد کشمیریوں کی تقدیر بن گئی ہے۔ کل بھی مائسمہ چوکی کے کچھ سپاہیوں نے ایک بے گناہ شہری کو پکڑ کر بلاوجہ مارا پیٹا، اس کے کپڑے اُتارےاور اسے لہولہان کردیا۔ اسے گالیاں بھی دی گئیں۔ ایسا کسی وحشی ملک ہی  میں ہوتا ہے ورنہ ملک کے دوسرے حصوں میں اگر پولیس کسی ملزم کو بھی پکڑتی ہے تو قانونی طور پر پولیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اسے پکڑتے ہی مارے پیٹے اور گالیاں دےاور اس دور میں کچھ زیادہ ہی ’’گٹہ کار‘‘( اندھیارہ ) ہے جس دور کی حکومت کے سربراہ کشمیریوں پر مغلوں، پٹھانوں اور سکھوں کے جبرواستبداد کی پچھلی نصف صدی سے دہائ

چوکیدار کے مقابلے میں مجاہد

بارہمولہ  انتخابی حلقے میںکس کو زیادہ ووٹ ملے ۔کس کی جیت ہوگی کس کی ہار ۔ اننت ناگ میں محبوبہ مفتی کی قسمت داو پر ہے کیا وہ جیتنے میں کامیاب ہوں گی ۔ سرینگر بڈگام حلقہ انتخاب میں کیا ہوگا ۔ہندوستان میں کیا بی جے پی پھر طاقتور منڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ عمران خان کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ظاہرکی کے پس پردہ کیا ہے ۔ کشمیرمیں عسکریت پر دباو، بے تحاشہ گرفتاریوں ، این آئی اے کی سرگرمیوں ، شاہراہ پر دو روز شہری ٹرانسپورٹ پر پابندی اوردیگرسخت گیرانہ اقدامات کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں ۔یہ اور ایسے ہی بے شمار دہکتے ہوئے موضوعات ہیں جن کو نظر انداز کرکے کوئی اور بات کرنا ممکن نہیںلیکن بعض اوقات کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو گھمبیر حالات اور تباہ کن واقعات میں بہت کم توجہ کا باعث ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ واقعات معاشرے میں پید

دہشت گرد ہندو ہے تو بھاجپا کا دوست ہے

بی جے پی کے تھیلے سے بلی تو پہلے ہی باہر آچکی تھی، لیکن بھوپال میں جس انداز سے اُس نے میاؤ ں میاؤں کرنا شروع کردیا ہے، اُس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سنگھ پریوار کسی بھی دہشت گرد کو سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ وہ دہشت گرد ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ مالیگا ئوں دھماکے میں ملوث سادھوپرگیہ سنگھ ٹھاکر کو بھوپال میں کانگریس کے ڈگوجے سنگھ کے خلاف کھڑا کرکے بی جے پی نے پارلیمانی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے ایک دن قبل اپنے حمایتیوں کو صاف طور سے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ پارٹی کا ہندو راشٹر کا نعرہ فقط نعرہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے اور اس مشن میں پارٹی دہشت گردوں کے ساتھ ہاتھ ملانے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائے گی۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ نعرہ لگانے والی پارٹی ہر اُس شخص کو گلے لگا رہی ہے جو مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلتا ہے، جو مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے۔  2

بار بار پیشاب آنا

اگر  آپ کو پیشاب کے لئے بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوتی ہو تو گھبرائیے نہیں۔ ہم آپ کو کہیں بھی ہزار بار یا بار بار نہیں بھیجنے والے۔ بس آپ کو یہ بتلانے والے ہیں کہ اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کا تدارک کس طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا نظام اخراج کس طرح کام کرتا ہے؟ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ ہمارا نظام اخراج بھی دوسرے بہت سے اندرونی اعضاء اور نظاموں کی طرح خودمختار یا غیر ارادی اعصابی نظام (آٹونومک نروس سسٹم) کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں پیچیوٹری گلینڈ سے آنے والے اینٹی ڈائیو ریٹک ہارمون کا بھی بنیادی کردار ہے جو رات کے وقت پیشاب بننے کے عمل کو سست کردیتا ہے۔ (اگرچہ مثانے سے مناسب وقت اور جگہ ملنے پر پیشاب کے اخراج کا فیصلہ ہمارے ارادی یا سومیٹک اعصابی نظام کے تابع ہوتا ہے)۔ گردے ہمارے خون کو ہر دفعہ گردش کے دوران فلٹر کرکے اضافی پانی، نمکیات اور اس کے سا

پیشاب کی تکلیفیں

پیشاب میں جلن یہ ایک عام شکایت ہے۔ پیشاب کی جلن بچوں اور عمردراز خواتین اور حضرات میں بھی پائی جاتی ہے۔ پیشاب کی جلن کی وجہ سے کئی مرتبہ کئی افراد کو پیشاب کنٹرول کرنے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ پیشاب میں جلن پیشاب کرنے سے پہلے یا بعد کسی وقت بھی ہوسکتی ہے۔  پیشاب پرقابو نہ رہنا:۔ یہ شکایت عمر کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو انجانے میں پیشاب خارج ہوجاتاہے اور کبھی کبھی قطرے بھی خارج ہوتے ہیں۔ عام طورسے 40؍سال سے زیادہ عمر والی خواتین، مردوں میں یہ شکایت پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے زور سے چھینکنے پر، ہسنے اور رونے پر، اٹھنے اور بیٹھنے پر بھی اس دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔  پیشاب کا باربار آنا:۔ پیشاب کا باربار آنا، مکمل طور سے پیشاب کا نہ ہونا، رُک رُک کر اور قطرے قطرے میں آنا، ان ساری شکایات کو بہت سارے افراد پیشاب کے باربار آنے سے جوڑتے ہیں اور اس چیز سے پریشان افر

تازہ ترین