تازہ ترین

ایران۔ امریکن مخاصمت

ایران   امریکی مخاصمت حالیہ دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ امریکہ کا یہ الزام ہے کہ ایران اُس ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے جو 2015ء میں  ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پایا تھا۔جب یہ معاہدہ طے پایا تو اُس وقت امریکی صدر بارک اوباما تھے اور اِس معاہدے کے حصول کو اُن کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھالیکن امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی اُس معاہدے کے خلاف بولنا شروع کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اپنی صدارتی مہم کے دوراں ہی اُنہوں نے اپنی مخالفت کا عندیہ دیا تھا۔ صدر ٹرمپ اِس معاہدے کو امریکی مفادات کے برعکس سمجھتے ہیں البتہ در اصل اُنہیں اسرائیلی مفادات کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ جب 2015ء میں یہ معاہدہ طے پایا تو اسرائیل نے اُس کی مخالفت کی تھی۔اسرائیل کا یہ ماننا رہا کہ اُس معاہدے میں وہ دم نہیں جو ایران کو ایک ایٹمی طاقت بنان

چوہدری غلام عباس

’’میرے  نزدیک جیل میں جاناکوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ سیاسی اسیروں کو تو یہاں مکمل آرام و اطمنان نصیب ہوتا ہے ۔بشرطیکہ گھروں کے دہندوں کی فکر نہ ہو ۔میں سات بار قید ہوا لیکن گھر کے دہندوںکو ہر بار ناقابل حل ہی چھوڑ آیا۔ایسے حالات میں بے سرمایہ سیاسی کارکنوں کو اپنی قربانی تو معمول ہوتی ہے اصل قربانی اُن کے متعلقین کی ہوتی ۔اور اگر اس ضمن میں کہوں گا کہ آج تک مجھ سے زیاد ہ قربانی میرے بیوی بچوں نے دی ہے تو یقیناًمبالغہ نہ ہوگا۔یہی حال میرے رفقاء کار کا تھا‘‘۔(ایضاً) اُمت مسلمہ کا عموماً اور کشمیر میں خصوصاً جب کبھی بھی اُمت مسلمہ نے اکھٹا ہونے کی کوشش کی تو ذاتی اختلافات بنا پرا غیار ہم پر مسلط ہو گئے، اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مسلم کانفرنس جیسے ہی اپنی پوری طاقت سے اُبھر کر عوام کی ہر دل العزیز جماعت کے طور سامنے آنے لگی تو کشمیر میں میر واعظ یوسف شا

سماج میں اخلاقی تنزل!

گزشتہ  کئی ہفتوں کے دوران جنت ِ کشمیر میں کچھ ایسے شرمناک ،دلدوز اورانسانیت سوز سانحات کی دھوم مچی جو تحقیق طلب ہی سہی مگر ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جنت بے نظیر کشمیر رفتہ رفتہ بد اخلاقیوں کا جہنم زاربنتی جارہی ہے۔ بنابریں ہمیں کبھی ایک شرمناک خبر دل کو دہلا دیتی ہے اور کبھی دوسرا سانحہ معاشرتی منظر نامے پر نمودار ہوکر ہمارے اجتماعی ضمیر پر تازیانے برساتا ہے ۔ قرآن کرم میں قوم ِ لوط کے اخلاقی تنزل اور پستیٔ کردار کی سر گزشت سناتے ہوئے کہا گیاہے کہ جب اس بد طینت قوم کی بغاوتیںاور بدفعلیاں اپنے عروج کو پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو حضرت لوط علیہ السلام کی طرف روانہ فرمایا تاکہ قوم لوط کے گناہوں کی پاداش میںباغیوں پر قیامت نما تباہ کن عذاب نازل کیا جائے۔ یہ فرشتے خوبصورت انسانی پیکر میں حضرت لوط ؑ کے گھر میں جب داخل ہوئے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ فرستادان ِ ہدایت کو دیکھ ک

’’چشمِ بلبل‘‘

 کشمیر   وادی کے ترال علاق میں پیدا ہوئی، سرینگر میں پڑھی اورشادی کے بعد جموں میں مقیم پنجابی کی شاعرہ اور افسانہ نگار بی بی سُر یندر نیرؔ کا پنجابی ناول ’’چشم بلبل‘‘ اسی سال شائع ہوا ہے۔ پنجابی ادیب خالد حسین نے اس کے تعارف میں لکھا ہے کہ’’ یہ کشمیر کی صدیوں پرانی تواریخ سے لے کر موجودہ بدامنی کے ماحول میں بسر کرنے والے لوگوں کے کئی رنگ پیش کرتا ہے‘‘۔ان رنگوں میںشدت پسندی کے علاوہ کشمیری سماج کا پچھڑاپن،خاندانوں کے جھگڑے،عورتوں پر جسمانی تشدد،نشہ بازی، بے وفائی اورجسمانی ہوس شامل ہیں۔ ان باتوں کے ذکر میں کشمیری زبان کے گیتوں کو پنجابی رسم الخط میں پیش کرنے سے ناول کو خاص خوبصوتی ملی ہے۔  اس ناول کا عملی کردارکشمیر کا قدیمی اور عظیم فنی شاہ کار ’’کانی شال‘ ‘ ہے۔ صدیوں تک اس کا نام کشمیر سے ج

ہیرا پھیری سے پر ہیز!

 ماہِ رمضان المبارک رواں دواں ہے، یہ پُر عظمت و بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی ایک مخصوص آفاقی نظم و ضبط میں گزارنے کی تربیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اور اچھی صفات بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ تاجر ، ملازم،مزدور، کاریگر،عالم ، دانش ور ،معلم ،مبلغ ،حکیم ، ڈاکٹر ،انجینئر ، ٹھیکیدار، صحافی و قلم کار غرض ہر شخص روز مرہ زندگی میں خداوند کریم کے قانون اور نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپناکام کا ج چلاتا ہے ۔ قرآن مجید کے سورۂ الرحمن کی ساتویں ،آٹھویں اور نویں آیا ت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنے کاروبارِ زندگی میں صحیح تولنے اور برابر ماپنے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ حلال و حرام ،حق و ناحق میں ایک نمایاں فرق کیا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نظام ِ زندگی چلانے کے لئے باضابطہ طریقے پر ایک ایسا ترازو اور پیمانۂ عدل مقرر ک