کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال-کشمیر کی مساجد میں جو غسل خانے ہوتے ہیں۔یہ غسل خانے استجاء اور غسل کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی انسان مجبور ہوتاہے اور ان غسل خانوں میں پیشاب بھی کرتاہے ۔ چونکہ مساجد کے باہر پیشاب کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا اس لئے مجبور ہو کر ایسا کرناپڑتاہے اور بہت سارے لوگ مسجدوں کے باہر نالیوں میں سب کے سامنے پیشاب کرتے ہیں پھر مسجدوں کے غسل خانوں میں استنجاء کرتے ہیں مگر وہاں کچھ لوگوں کو دوبارہ پیشاب کے قطرے آجاتے ہیں ۔شریعت میں اس ساری صورتحال کا حل کیاہے ؟کیا مساجد میں پیشاب خانوںکاانتظام نہیں ہوناچاہئے ۔ فیاض احمد  تمام مساجد میں پیشاب خانوں کا انتظام انتہائی ضروری  جواب:-تمام مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ جیسے وہ مسجدوں کے لئے حمام ،گرم پانی ،وضوخانے، غسل خانوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح وہ مساجد میں پیشاب خانوں کا بھی انتظام کریں ۔اس

اسلام کا نظریۂ تعلیم

  بچوں  کی صحیح طریقہ پر تعلیم وتربیت ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جس کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : ’’اے ایمان والو!تم اپنے کو اور اپنے گھروالوںکو (دوزخ کی ) اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن (اور سوختہ )آدمی اور پتھر ہیں ۔جس پر تند خو(اور)مضبوط فرشتے (متعین ) ہیں ،جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو (فوراً ) بجالاتے ہیں۔( سورہ تحریم ،آیت نمبر ۶) چنانچہ آیت کریمہ اولاد کی تعلیم اور ان کی تربیت کی اہمیت کو بیان کرتی ہے ،اور اہل ایمان کو اپنے اہل وعیال کی تعلیم وتربیت کرنے اور انہیں اللہ کی اطاعت و فرمان برداری پر اُبھارنے اور اللہ کی نافرمانی وسرکشی سے باز رکھنے اور انھیں اچھی باتوں کی تلقین کرنے اور حسن ادب سے آراستہ کرنے کا حکم دیتی ہے تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ اس بھیانک او

تازہ ترین