غزلیات

وہ جو دن رات یوں بھٹکتا ہے جانے کس کی تلاش کرتا ہے دل بھی اس کا ہے جگنوؤں جیسا شام کے وقت جلتا بُجھتا ہے سامنے بیٹھا ہے مگر پھر بھی لب ہے خاموش، کچھ نہ کہتا ہے ہنس کے رونا، اُداس ہو جانا کیا پتہ کس کو پیار کرتا ہے دل جو لگ جائے غیر کے دل سے پھر سنبھالے کہاں سنبھلتا ہے یاد آ جاتا ہے وہی چہرہ چاند بادل سے جب نکلتا ہے چارہ گر کو خبر کرو کوئی تنہا بسملؔ کا دل تڑپتا ہے    پریم ناتھ بسملؔ مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار رابطہ۔8340505230     نہ گل باقی نہ گلشن میں ثمر کوئی  فقط کانٹوں پہ کرتا ہے بسر کوئی  کبھی پتھر، کبھی افلاک کی زد میں  ثمر افشاں ہوا جب سے شجر کوئی  ستارے کُو بہ کو پھیلے کہ جگنو،شب  مرے در پر گرا لیکن  شرر کوئی  زمین اتن

تازہ ترین