تازہ ترین

غزلیات

غمِ دوراں میں خوشیوں کا خزانہ خواب لگتا ہے  ہمارے شہر میں اب مُسکرانا خواب لگتا ہے  وراثت پر مری قابض ہُوا کچھ اس طرح  غاصب کہ اپنی ہی زمیں پر گھر بنانا خواب لگتا ہے  جہاں پر چہچہاہٹ کو پرندے بھی ترستے ہوں  وہاں پر امن کا پرچم اُٹھانا خواب لگتا ہے  گیا جو دے کے تنہائی کے تحفے مُدتوں پہلے  میری آنکھوں کو اُس کا لوٹ آنا خواب لگتا ہے  اُسے تو کج ادائی کی رَوشِ کچھ اتنی راس آئی  مری راہوں میں اب پلکیں بچھانا خواب لگتا ہے  برسنے لگ گئے ہیں سنگ سب کے پھُول چہروں سے  ہمیں اس شہر میں سر کو بچانا خواب لگتا ہے  جہاں مسموم آندھی تاک میں شب بھر رہے مانوسؔ وہاں اکثر چِراغوں کو جلانا خواب لگتا ہے   پرویز مانوسؔ نٹی پورہ سرینگر  موبائل نمبر؛9622937142