کشکول

’’اوڈیڈی !آپ ہمیں روزانہ تنگ کرتے ہیں اور چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ہم فلم دیکھ کر ابھی سو گئے ہیں۔ہماری نیند اُچٹ جائے گی۔صبح ملیں گے‘‘گڈ نایٔٹ کہہ کر انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔اپنے لاڑلوں کی طرف سے دروازہ بند کرنے کے بعد سکندر صاحب کو کرارا جواب مل گیا۔اُس نے دوسرے کمرے میں سوئی اپنی شریک حیات کے پہلو میں جانے کی خواہش کی تاکہ اُس کے ساتھ یہ روگ بانٹنے کی کوشش کرے لیکن بیوی نے دُھتکار کر کہا۔ ’’تمہیں راتوں کو جاگنے کی لت پڑ گئی ہے، میری نیند خراب مت کرو اور اپنے کمرے میں جا کر سو جا۔‘‘ وہ بے نیل و مرام اپنے کمرے میں چلا آیا۔اگر چہ یہ اُس کے لئےکوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ یہ اس کے لئے روز کا معمول تھا،تا ہم کچھ عرصہ سے اس روکھے اور تیکھے بر تاؤ میں شِدت آگیٔ تھی۔وہ بیگا نگی محسوس کر رہا تھااور اپنی سُدھ بُدھ کھو چکا تھا۔وہ بستر

دردِ وجود

  ویلفیئر ٹرسٹ کی سالانہ ہونے والی آخری تقریب کی تیاریاں بڑے ہی زور و شور سے چل رہی ہیں۔آج کی مجلس بھی ہمیشہ کی طرح شہر کے ایک ہوٹل میں ہی منعقد ہونے جا رہی ہے۔ٹرسٹ کے اہم اراکین اپنی اپنی تحریریں مسودہ کرنے میں لگے ہوے ٔہیں۔ہر سال کی آخری تقریب کی طرح اس سال بھی غیریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والےفلاح انسانیت کےعلمبرداروں کو  اعزازات سے نوازا جاے ٔگا ۔جن میں سے بلا شبہ نصف سے زیادہ ٹرسٹ کے ہی ممبران ہونگے۔تقریب سہ پہرکے آس پاس شروع  ہوئی اور چند ہی لمحوں میں فلاح و بہبودکے الفاظ سےبُنی گئی تحریروں ،معاشرتی منظومات اور خاص طور پر ٹرسٹ کے خزانچی کی طرف سے پیش ہونے والی سے شمار یات سے اپنے عروج پر پہنچی۔ مہمان خصوصی،جو علاقہ کےایم ایل اے بھی ہیں،نے فہرست میں شامل فیاض اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کو  انعامات سے نوازا اور ٹرسٹ کی اعلیٰ کارکردگی

اکیسویں صدی کے اردو ادب کا غیر متوقع نام۔۔۔۔۔ پریم ناتھ بسمل

اردو غزل کا دامن اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت وسیع ہے۔ اس کی وسعت کو جہاں ملک کے مختلف حصوں کے نامور شعراء نے فراخی بخشی ہے وہیں بہار بھی اس معاملہ میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔اردو ادب کی بات کی جائے تو پھر چاہے نثر ہو یا نظم، دونوں میں مختلف ہندو شعرا ء ،افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اردو کی خدمت کی ہے اور اسے عروج بخشا ہے۔ اردو ادب میں اگر ہندو شعرا ء اور ادباء کی بات کی جائے تو برج نارائن چکبست، رتن ناتھ سرشار، منشی پریم چندر ،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ اور حکم چند وغیرہ جیسے اُساتذہ فن کی ایک طویل سرفہرست ہے ،جنہوں نے اردو ادب کے لئے اپنی زندگی وقف کرکے اسکے دامن کو بے پناہ وسعتیں عطا کیں۔ دور حاضر میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو اردو کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔اردو جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے ،ملک و ملت کی زبان ہے،

سزا

محبت کا دعویٰ کرنے والے کے دل میں اگر ہمدردی ،خلوص ،نرمی اور ایثار کے بجائے غصہ ،خودغرضی، جھوٹ اور حرص ہو تو ہم اسے محبت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ آسرا اپنے ماں باپ کا سہارا تھی ،لاڈلی اور اکلوتی۔خوش رہنا اور خوشیاں بانٹنے کے علاوہ اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کرنا اور اپنی بات منوانے کا طریقہ جانتی تھی۔  کچھ عرصہ قبل  ایک فیس بک فرینڈ ذیشان کے ساتھ دوستی ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کو اپنا دل دے بیٹھے ۔پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی آسرا اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنے لگی ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد ذیشان اپنی امی کے ساتھ رشتہ لے کر اس کے گھر آئے ۔ذیشان شکل صورت میں اچھا ہونے کے علاوہ پڑھا لکھا بھی تھا ۔باتوں سے مہذب اور ذہین لگ رہا تھا لیکن دونوں خاندان ایک دوسرے کے لیے انجان اور اجنبی تھے ،اس لئے ابو نے کئی باتیں ،کئی مسئلے اور کئی اعتراضات اٹھائے ۔ابو نے خدشہ ظاہر کیا کہ انجا

’’سکوت ‘‘

’’ سکوت ‘‘ وادی کشمیر کے ابھرتے  ہوئے کہانی کار ایف آزاد ؔ دلنوی صاحب کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جو حال ہی میں چھپ کر آیا ہے۔ ایف آزادؔ کے نام کیساتھ دلنوی کے لاحقہ سے ہی عیاں ہے کہ آزاد صاحب ریاست کے مصروف قصبہ دلنہ کے رہنے والے ہیں۔ دلنہ کی سر زمین اس حوالے سے نہایت ہی ذرخیز مانی جاتی ہے کہ یہاں کے کئی ادیب اُ فق درب پر اپنی چھاپ ڈالکر ملکی سطح پر نام کمانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی قلمکاروں کی ایک کہکشاں آسمان علم وادب یہ ضیاپاشیاں کرنے میں مصروف ہے یہاں کے کہنہ مشق اور بزرگ شعراء وادباء کے ساتھ ساتھ نوجوان قلمکار بھی نہایت ہی سنجید گی کے ساتھ دن رات محنت کر کے علم و ادب کی ترقی و ترویج کے لئے تگ ودو میں مصروف ہیں ان ہی قلمکارو ں میں ایک تابندہ ستارہ ایف آزاد ؔ دلنوی ہے ایف آزاد ؔ دلنوی بچپن سے ہی افسانہ نگاری میںطبع آزمائی کر رہے ہیں

دیوتا

اپنی تمام لگن،ہمت اور بہادری کے ساتھ پہاڑ کی ایک ایک چوٹی سر کرتا ہوا  وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا۔اُسکے ہاتھوں میں سات رنگوں کا ایک جھنڈا تھا۔یہ جھنڈا اسے پہاڑ کی سب  سے اونچی چوٹی پر گاڑنا تھا۔راستہ طویل اور مشکل ہونے کے باوجود  ارادہ پختہ اور مضبوط تھا۔۔۔۔آہستہ سے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا۔ اب اُسکے سامنے آخری پڑائو تھا ۔ آخری چوٹی تھی۔۔۔اس چوٹی پر جھنڈا گاڑنے کے بعدہی ہر طرف سے لوگ آکر اُس کی عظمتوں کو سلام کریں گے اور وہ کہلائے گا ملنگ دیوتا۔۔۔اُسکی سانسوں میں کائنات کی سانس ہوگی۔ اپنے آنسووُں سے لوگوں کے خشک خالی پیالے بھر لے گا۔اپنی جھولی میںچھپائے قرمزی پھولوں سے ننگی عصمتوں کو سنبھالے گا۔اپنے نوانی پرتو سے تاریک جھونپڑیوں میں روشن آفتاب اُگائے گا اور بھٹکی ہوئی آدم کی اولاد کو ایک نئی سکون بخش سوچ سے متعارف کرائے گا اور اسکی ایک دیرینہ خواہش پوری

حئی علی الفلاح

میجر نیاز علی باتھ روم سے نہا کر تازہ دم ہو کر نکلا توکمرے میں پھیلی خوشبو سے اس کے مُنہ میں پانی بھر گیا،کیوں کہ ٹیبل پر بھنے تلے گوشت سے بھری پلیٹیںاور اس کی من پسند ولائیتی شراب کی بوتل اس کے منتظر تھے۔وہ من ہی من میں طے کر چکا تھا دو تین پیگ حلق سے اتار کر کچھ دیر آرام کرے گا ،کیوںکہ رات بھر ریل گاڑی کے سفر کے سبب اسے شدید تھکاوت محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔  ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ جونہی نائو نوش کی غرض سے صوفے پر بیٹھ کر بوتل کا ڈھکن کھولنے لگا تو نزدیکی مسجد شریف سے بھی موذن نے اللہ اکبر کی منادی کردی، جسے سنتے ہی وہ رک گیا۔ اس کے ذہن نے نہ جانے کون سی کروٹ لی کہ چہرے پر اچانک فکرو پریشانی کے آثارنمایاں ہونے لگے۔حالاںکہ نماز روزہ تو دور کی بات رنگین مزاج میجر کو مسجد کا دروازہ تک معلوم نہیں تھا۔اس کے مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا کافی تھا کہ اس نے ایک مسلمان گھرانے میں ج

پَھٹی قمیض

اے لڑکے ادھر آ!کہاں جا رہا ہے اور یہ جیب میں کیا ہے ؟’’راستے میں کھڑے  نشے کی حالت میں جھولتے ہوئے اُس لڑکے نے شاہد کو روکتے ہوئے کہا‘‘   ’’اسکول جا رہا ہوں اور میں کیوں بولوںمیری جیب میںپانچ روپئے ہیں جو مجھے میری امی نے دئے ہے‘‘شاہد نے معصوم سے لہجے میںاُس نوجوان لڑکے سے مخاطب ہو کر کہا۔ اُس نوجوان نے شاہد کی قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور زبر دستی اس معصوم کے پانچ روپئے اس سے چھین لئے۔شاہد نے دانتوں سے اس کے ہاتھ کو جیسے ہی کاٹا تو ہاتھ کو چھڑانے کے ساتھ ساتھ اس کی قمیض کی جیب بھی پھاڑ دی۔ اتنے بڑے ہو کے چھوٹے بچوں سے پیسے چھینتے ہو ۔میں تمہاری شکایت امی سے کروں گا’’شاہد نے اسے مخاطب ہو کر کہا اور روتے ہوئے اسکول چلا گیا۔ اسکول میں جب اُستانی نے شاہد کی قمیض کی جیب پھٹی ہوئی دیکھی تو آگ بگولہ ہو گ

واپسی

" بیٹا عادل میں تم کو بار بار کہہ رہی ہوں کہ سامعہ ایک اچھی اور دیندار لڑکی ہے تم اپنے والد کو بتادو  ــــ اور ویسے بھی آج کل دیندار لڑکیاں بہت کم ہی ملتی ہیں ـــ۔ یہ رشتہ خود گھر آیا ہے تو غنیمت جانو بیٹا ابو کو بتا دو کہ وہ وسیم انکل سے ہاں کہہ دے"ـــ "اوکے ممّاــــ میں بھی راضی ہوں، واقعی سامعہ ایک اچھی لڑکی ہے اور ان شاء اللہ ضرور وہ گھر کو جنت کی طرح بنائے گی ــــ " دو خاندان کے درمیان اتفاق رائے اور دیگر تمام بے جا رسومات سے مبرّا ہوکر شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیاــ عادل اور سامعہ کی نئی خوشگوار زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہواــــ، پُرسکون و محبت بھری اذدواجی زندگی سے لبریز۔ عادل اور سامعہ کے گھر چند سال بعد ایک معصوم بیٹی نے جنم لیاــــ۔ ہر طرف خوشی کی لہر چھا گئی اور ـــ مٹھائیوں سے رشتہ داروں، دوستوں اور احباب کا منہ میٹھا کیا گیا۔ ــــ

میری گاڑی

دیکھو ……! مجھ سے روٹھا نہ کرو۔میری جان نکلنے لگتی ہے۔میں تمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں گا ۔بس چند دن اور صبر کرلو۔میں کوئی بہت بڑا آفیسر نہیں ہوں کہ جس کی تنخواہ لاکھ روپے کے قریب ہو۔بُزرگوں کا کہنا ہے کہ چادر دیکھ کے پائوں پھیلاو مگر اس سب کے باوجود اگلے ماہ ہمارے گھر  کے آنگن میں گاڑی ہوگی‘‘  رونق جہاں اپنے رفیق حیات رفتار احمد سے تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصہ سے ایک چھوٹی گاڑی خریدنے کی فرمائش کرتے کرتے اب دل ہی دل میں کُڑھنے اور روٹھنے لگی تھی۔شادی سے پہلے ا ُ ن دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہوگیا تھا اور اُسی طوفانی جذبے کا یہ نتیجہ تھا کہ رفتار احمد اپنی بیوی کو خوش رکھنے اور اُ س کی  ہر خواہش پوری کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔شادی ہوئے ابھی دس مہینے اور کچھ دن ہوئے تھے ۔رونق جہاں کا پائوں اب بھاری ہونے لگے تھے ۔وہ اپنے گھر کے باہر لان میں کر

پُکار

مکان کی چھت میں بیسیوں کبوتر ڈھیرا ڈالے بیٹھے رہتے اور اکثر اوقات غٹر غوں غٹر غوں کرتے رہتے ۔جگہ جگہ دیواروں پر کبوتروں کی ربیٹ چپکی تھی، جس سے یہ رنگ برنگی لگ ہی تھیں۔فضلوؔ جب ان کو آواز دیتاتو سارے کے سارے کبوتر ایک ساتھ نیچے آجاتے اور دانہ چگتے ہوئے اس کے اردگرد گھومتے پھرتے رہتے ۔یہ کبوتر دانہ چگنے کی بھاگ دوڑ میںایک دوسرے پر جھپٹ بھی پڑتے تھے اورفضلو ؔٹھاٹھیں مار کر ہنستا رہتا ۔مانو یہ کبوتر اس کے لئے تفریح کا ذریعہ بن گئے تھے ۔وہ بیوی سے کہتا۔  ’’ان کبوتروں کو دیکھ کر میں دن بھر کی تھکان بھول جاتا ہوں۔یہ کبوتر ہیں ہی پیارے۔رنگ برنگے۔ان کودانہ کھلاکر مجھے سکون ملتا ہے۔‘‘  دونوںمیاں بیوی پہروں بیٹھ کر کبوتروں کی حرکتیں دیکھتے رہتے اور سارے دکھ درد بھول جاتے۔ فضلوؔ کو مرے اب پانچ برس ہوگئے تھے ۔اس کے جاتے ہی کبوتر بھی رفو چکر ہوگئے اور

غارت گر

زاہدصاحب کوتحصیلداربنے بمشکل ایک دوسال ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے شِوپوراسے اپنی رہائش فتح پور تبدیل کرلی تھی ۔فتح پورمیں اُن کی عالیشان کوٹھی پہلے ہی تعمیرہوچکی تھی۔فتح پوربیرونِ شہرایک چھوٹاساگائوں تھا۔تحصیل دارصاحب کی بس یہاں بسنے کی دیرتھی کہ شہرکی تنگ وتاریک گلیوں اورگھٹن سے تنگ آچکے بہت سارے لوگوں نے آہستہ آہستہ آکر یہاں بسنا شروع کردیاتھا۔گائوں کے بجائے اب آہستہ آہستہ یہاں ایک شہری بستی کے خدوخال نمایاں ہونے لگے تھے لیکن اس سب کے باوجود ابھی دیہات کاماحول بھی باقی تھا۔یہاں اگرایک طرف لہلہاتے کھیتوں کے طویل سلسلے تھے تودوسری طرف مال مویشیوں کے جھنڈوں کے جھنڈبنجراور خالی زمینوں میں چرتے پھرتے مٹرگشتیاں کرتے نظرآتے تھے۔ ایسی ہی زمینوں میں سے ایک بنجرزمین کاخاصابڑا قطعہ تحصیلدارصاحب کی کوٹھی کے عین سامنے تھا،جسے مختلف لوگوں نے خریدرکھاتھا۔اور اس کی پلاٹ بندیاں اورحدبندیاں عمل می

تازہ غزل

نوجوان شاعر ہاتھوں میں ایک کاغذ لئے خوشی خوشی اپنے استاد کے گھر جارہا تھا۔ اس کاغذ پر ایک غزل تھی جو اس نے رات بھر جی توڑ محنت کرکے لکھی تھی۔ اس کا اندازہ تھا کہ یہ غزل  استاد کو بہت پسند آئے گی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ یہ اس کی اب تک کی سب سے بہترین غزل ہے۔ وہ گھر پہنچا تو استاد برآمدے میں آرام کرسی پر بیٹھے مل گئے۔ سلام کے بعد وہ غزل والا کاغذ اصلاح کے لئے استاد کو دے دیا۔ استاد نے کافی دیر غزل کو دیکھا، پھر کاغذ سے نظر اٹھاکر شاگرد کو دیکھتے ہوئے کہا، "غزل تو ٹھیک ٹھاک ہے لیکن ایسی نہیں کہ محفوظ رکھا جائے۔ کچھ شعروں کے خیال پرانے اور روایتی ہیں۔ کچھ شعر جدیدیت کے ساتھ پھوہڑ پن لئے ہوئے ہیں۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ غزل میں اوزان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ تم اسی بحر میں کل ایک اور غزل لکھ کر مجھے دکھانا۔ اب تم جاؤ مجھے  ایک بہت بڑے مشاعرے میں جانا ہے جس کا لائیو ٹیل

افسانچے

سودا اس جھونپڑ پٹی میں رہنے والے مفلوک الحال  باشندوں کا کام لوگوں کے پھینکے ہوئے کوڑے کرکٹ  سے وہ ٹھوس چیزیں جمع کرنا تھا، جن کو بیچ کر کچھ رقم وصول کرکے پیٹ کی آگ بھجانے کا انتظام کیا جاسکتاتھا۔ مگر بستی کی  بیحد خوبصورت لڑکی مندوری کو اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اس کے ماں باپ ہندو مسلم فساد میں مارے گئے تھے۔   پیٹ کی آگ بھجانے کے لئے اس نے ایک دن گجندرو کی ہنسی کا مثبت جواب دیا اور وہ اسے اپنا دل دے بیٹھی پھر ۔۔۔ وہ اسی کے ساتھ رہنے لگی۔۔۔مگر صرف۔۔ایک ماہ بعد وہ گجندرو کو چھوڑ کر ایک ادھیڑ عمر  بدصورت اور شرابی مرد دامندرو کے ساتھ رہنے لگی۔۔۔۔۔۔ایک روز وہ مٹک مٹک کر بستی سے باہر کہیں جارہی تھی کہ اس کے سابق عاشق گجندرو نے اس کا رستہ روکا اور کہا۔۔۔‌تم مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟ مندوری کے سفید دانت اس کے

افسانچے

سانپ اس کی یہ عادت تھی کہ وہ پیٹھ پیچھے سب کی غیبت کرتا تھا۔۔دوستوں کی،پڑوسیوں کی، رشتہ داروں کی سب کی۔ جب وہ مرگیا تو قبر میں سانپ نمودار ہوئیں۔۔سات سات سروں والے بڑے بڑے سانپ تھے۔اسے دیکھتے ہی سب سے بڑا سانپ اس پہ حملہ کرنے کے لئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔ آدمی ڈر گیا۔۔پھر یہ ہوا کہ کاٹنے کا زخم گہرا تھا۔۔وہ تڑپ تڑپ کے مرگیا۔۔۔ دراصل اس نے سانپ کو پہلے ہی پکڑ لیا تھا اور سرعت کے ساتھ سانپ کو دانتوں سے کاٹ لیا۔۔۔سانپ دو ہی منٹ میں مرگیا۔۔۔ کیونہ اس انسان کا زہر کافی خطرناک تھا۔۔۔     کڑوی بات ان کی چوتھی بیٹی ہوئی تو شوہر اور ساس کو سانپ سونگھ گیا۔شوہر نے رات کے دوران ہی بچی کو اٹھایا اور اسپتال سے دور ایک کوڈے دان میں ڈال دیا اور دبے پائوں وہاں سے لوٹ آیا۔کچھ دیر بعد بچی نے رونا شروع کیا۔ایک دوکان کی سیڑھی پہ سوئے ایک بے گھر بھکاری نے آوازسنی اور آوا

ہوس!

کیا یہ آج بھی وہ دنیا نہیں ہے جہاں بھولی صورتوں کوردی کے ڈھیروں میں نہیں پھینکا جاتا ہے ۔ کہیں کہیں تو دریاؤں کے کناروں یا جنگلوں اور ویرانوں میں اوراب توحال یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سپرد خاک کرنے کے بجائے کھلے میں ہی پھینک دیا جاتا ہے ۔یہ جو آج کل کے لوگ الفت کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیںنا !یہ نشے اور ہوس کے پچاری ہیں اوراُس کے سوا کچھ نہیں ۔۔آپ نے نہیں دیکھا ہے کہ آج بھی کوئی دن ایسا نہیں گذرتا ہے جب یہ خبر نہیں آتی کہ فلاح جگہ کسی لاوارث بچے یا بچی کی لاش ملی۔ اور تو اور ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے بھی تو اس مرض کو پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے بھی ہزاروں معصوموں کا قتل عام کیااور ان مجرموں کا ساتھ دینے میں ہمیشہ برابر کوشاں رہے۔اب تومجھے یہ کہنے میں بھی کوئی ہرج نہیں کہ کئی لوگ اس کو فیشن سمجھ کر اپنا رہے ہے اور دوسرے لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشا دیکھ رہے ہیں؟۔۔ دیک

تَجلّی

میں یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہو کر گھر آئی تو ماں نے مجھے زور سے گلے لگایا، جیسے ہم ماں بیٹی کو دنیا جہاں کی ساری خوشیاں ایک ساتھ مل گئی ہوں۔امی سمجھدار اور مضبوط ارادوں کی حامل خاتون تھی لیکن ہمارے خاندان میں عورتوں کی کوئی وقعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی خاندان کی دوسری عورتوں کی طرح چپ چاپ اپنے ہی گھر میں مردوں کے ظلم سہتے سہتے ایک مورت بن چکی تھی۔ خاندان کی کسی عورت میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ اپنے حق میں کچھ بول سکے امی ہمیشہ گم صم سوچتی تھی کہ کب اور کیسے ہمارے خاندان کے حالات بدل جائیں۔ برسوں سے بابا کے ساتھ رہ رہی تھی لیکن دکھوں اور تکلیفوں کے سوا کچھ نہ پایا۔ کبھی کوئی خوشی  بابا نے اس کے دامن میں نہ ڈالی لیکن وہ چپ چاپ وفاداری اور نیازمندی کے ساتھ سب کچھ برداشت کرتی رہی۔ خاندان کے سارے مردوں کی سوچ عورتوں کے معاملے میں یکساں تھی ۔وہ پچھڑی ہوئی سوچ جسے پسماندگی اور ج

جنگل راج

’’وہاں اندھیر نگری چوپٹ راج تھا۔ لومڑیاں شیروں کا شکار کر رہی تھیں۔ حال یہ تھا کہ شیرکٹتے جارہے تھے، مارے جا رہے تھے ۔ لیکن  وہ بے دست و پا لگ رہے تھے ۔ جنگل کے سارے چرند پرند انگشت بدنداں تھے۔لیکن کوئی بات نہیں کررہا تھا۔‘‘   ’’لیکن کوئی بات کیوں نہیں کر رہا تھا۔‘‘ ’’کیوںکہ سب کو اپنی جان کی پڑی تھی۔ کوئی بھی دوسروں کے لئے اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔‘‘ ’’ خطرہ ۔۔۔ اور وہ بھی حقیر لومڑیوں سے ۔ جن کا سرہم ایک ہی وار میں دھڑ سے الگ کر سکتے ہیں۔ـــ‘‘  ’’جنگل کے سارے جانور ایک دوسرے کااعتماد کھوچکے تھے ۔ اور سبھی جاتیاں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ  رہی تھیں۔‘‘ ’’ لیکن ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ کس طرح

سُرخ بادل

کئی روز بعد ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ،توپوں اور گولیوں کی دھنا دھن اب بند چکی تھیں،فضا میں اُڑ رہے جنگی طیاروں کی چنگھاڑبھی کسی حد تک خاموش ہو چکی تھی ۔ سارے شہر میں اگر چہ ہر طرف قبرستان کی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور شہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ خوش گلو پرندے بھی خوف سے سہمے ہوئے تھے لیکن شہر کے اسپتالوں میں ہُو کا عالم تھا، جہاں ہر طرف شور شرابہ اور چیخ و پکار سنائی دے رہی تھیں۔زخموں سے چور سینکڑوں مرد و زن اور معصوم بچے درد سے کرا رہے تھے ،کئی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ رہے تھے ۔ڈاکٹر ریتا، جواس خوفناک صورتحال سے سخت پریشان اور مغموم تھی ،دن بھر مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروٖف رہنے کے بعد تھکی ہاری شام ڈھلتے اسپتال سے گھر کی طرف نکلی۔اس کا انگ انگ جیسے درد میں ڈوبا ہوا تھا اوروہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ گاڑی بھی ٹھیک سے نہیں چلا پا رہی تھی۔ہر طرف بارود کی بو اور ویرانی پھیلی ہوئی تھی اور

سوال

رات کو ڈیوٹی سے لوٹتے ہوئے ڈاکٹر حسیب ڈرائیو کر رہا تھا کہ اچانک سے کسی نے کشمیری میں آواز دی۔ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ بھلا اس اجنبی ملک میں کون اسے جانتاہے- یہاں تو سب عربی ہی بولتے ہیں، ایسے میں اپنی مادری زبان میں دی گئی صدا  کو وہ کیسے نظر انداز کر سکتا تھا۔ اس نے گاڑی روک لی۔ باہر فلڈ لائٹس کی روشنی میں ایک سفید پوش شخص گاڑی کی جانب آ رہا تھا کہ ڈاکٹر حسیب نے اسے دور سے ہی پہچانا۔ یہ حسین کا کا تھا ، اُس کا ایک دور دراز کا رشتہ دار۔ ڈاکٹر حسیب نے اسے گلے لگایا اور حال چال پوچھا -پتہ چلا کہ حسین کا کا یہاں عمرہ کے لئے آیا ہوا ہے۔ پردیس میں کوئی ہم وطن مل جائے اور خاص طور سے وہ جو جان پہچان والا ہو، انسان کیا کچھ محسوس کرتا ہے وہ ڈاکٹر حسیب کے بسوں پر پھیلی ہلکی پھلکی مسکراہٹ سے خوب جھلکتا تھا۔ ڈاکٹر حسیب نے حسین کا کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آج رات ان کے فلیٹ

تازہ ترین