تازہ ترین

شکور بھنگی

قرعہ اندازی میں شکور بھنگی کے نام کی پرچی نکلتے ہی نتیجے کے انتظار میں دل تھام کے بیٹھے مل کے مزدوروں میں ہل چل مچ گئی اور وہ مایوسی کے عالم میں اس کی نکتہ چینی میں جٹ گئے ۔    ’’واہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔ جسے کلمہ یاد نہیں وہ حج پر جائے گا‘‘ ۔ سلام الدین نے اپنی لمبی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔ ’’آج تو مجھے اپنے مالک پر بھی شک ہورہا ہے ،ورنہ ہر سال اسی بھنگی چرسی کا نام کیوں نکل آتا ہے‘‘ ۔ انصار احمد ،جو مل کی مسجد میں امامت کے فرائیض بھی انجام دیتا تھا،نے جھجھلاکر کہا۔۔۔۔۔۔ ۔  غرض جتنے مُنہ اتنی باتیں ۔  ’’آپ لوگ خاموش ہوجائیں،قرعہ اندازی میں شکور کا نام نکل آیا ہے،ہم اسی کو حج پر بھیجیں گے‘‘ ۔ مل کے مالک احسان احمد نے ذرا سخت لہجے میں کہا

سفید کبوتر

وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام  سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس طبیعت لوگوں نے دھندلے ماحول کی انفکشن سے احتیاط برتنے کے لئے منہ پر ماسک لگارکھے تھے۔نصف النہار کی شدید گرمی سے بس میں سوارسبھی مسافرپسینے سے شرابور ہورہے تھے۔ انہیں اپنا آپ دہکتے تندور میں تڑپتے ہوئے کبوتر کی طرح محسوس ہورہا تھا۔اْس نے کھڑکی سے باہرکھڑے ایک پولیس والے سے دھیمی آواز میں پوچھا:   ’’بھائی صاحب!یہ جام کب ختم ہوگا؟‘‘  پولیس والا نزدیک آکر اْس کے حْلیے کو گھورتے ہوئے بڑی ناگواری سے پوچھ بیٹھا:    ’’کیا کہہ رہا ہ

عید

جوں جوںکتے بھونکتے جا رہے تھے  یوں یوں اس کے غصے کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا۔غصہ جو کبھی کبھی جھنجلاہٹ میں بدل جاتا تھا ۔ دانت کھٹ کھٹ بجنے سے ایک دو با ر اپنی زبان بھی کاٹ لی تھی۔ اگر چہ اس کی آواز میں کوئی درد کوئی سوز نہ تھا پھر بھی وہ مسجد کا مؤذن تھا۔  جوں توں کرکے اذان تو دیتا تھا لیکن کتوں سے بہت پریشان تھا۔ وہ  اذان  شروع کرتا تھا ،کتے بھونکنا شروع کرتے تھے۔  اذان ختم، کتوں کا بھوکنا  بند۔ ۔۔ اس نئی کالونی میں آئے ہوئے اسے چھ سال ہوچکے تھے۔ یہاں آتے ہی مسجد فنڈ میں ایک لاکھ روپیہ کیا دیا ، ساری کالونی میں اس کا چرچا ہوگیا ۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے تک کبھی کبھار صبح وشام اذان دیتا تھا اور رٹائرہونے کے بعدمسجد کے سارے معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور پانچوں وقت اذان بھی دینے لگا۔ یوں تو وہ ساری کالونی میںاب عزت دار آدمی بن چکا تھا لیکن نہ جانے اسے