تازہ ترین

سوچ کے زخم

ہمارے سماج میں خدا کے قہر سے نہ ڈرنے والے کچھ بے رحم لوگ موجود ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ خود چوکیداری پر مامور ہو کر ہر طرح کی خبر رکھنے کے علاوہ کسی اچھے سچے انسان کی اچھائی سچائی کو عام لوگوں کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سچائی کے انداز میں دوسروں تک پہنچانے،پھیلانے اور یقین دلانے کا ہنر جانتے ہیں۔ کبھی کبھی سات پردوں میں رہنے والی کسی کی بہو بیٹی کو بھی نہیں بخشتے۔ کسی پر تہمت لگانا، کسی کی زندگی کو جہنم بنانا ، کسی کا گھر جلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ ان ہی جیسے لوگوں میں سے کسی ایک کو طالب اور حرمت کی خوشیوں سے بھری زندگی دیکھی نہ گئی۔ طالب کے دل پر شک کا تیر چلا کر اسے حرمت کی طرف سے بدگمان کردیا اور بدگمان ہوتے ہی طالب کے دل میں طرح طرح کی باتیں جنم لینے لگیں۔ وہ باتیں جو حرمت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ پھر اس کے دل میں خطرناک ہلچل م

اجنبی لڑکی

صبح سویرے جوں ہی بازار کُھلتا تھا وہ نوجوان خوبصورت لڑکی چوک میں نمودار ہوجاتی تھی۔ اُس کے کُھردرے سنہرے بال، اُسکی ہرنی جیسی چال اور نازک بدن پر وہ پھٹے پرانے کپڑے آج بھی میرے اِدراک کے دریچے پر دستک دے رہے ہیں! وہ غریب حسینہ آج بھی میرے محسوسات کی دُنیا پر حکمرانی کررہی ہے۔ اُس کی غزالی آنکھوں میں مانسبل کی جھیل سُکڑ سمٹ رہی تھی۔ اُس کے پاس ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اُس کے ہر ادا نرالی تھی۔ پتھریلی زمین اُس کے ننگے پیروں کو چومتی تھی۔ اُس بھرے بازار میں صرف میں ایک تھا جسکی سوچ کو سِیاہی چوس کی طرح اس جوان لڑکی نے چوس لیا تھا۔  میں اس لڑکی کے بارے میں اتنا فکر مند کیوں ہوں؟ میرا اُس سے کیا رشتہ ہے؟ ایسے ہی اور بھی کچھ سوالات میری سوچ کی تختی پر اکثر ابھرتے تھے۔ تیز دھوپ جب اُس کا گورا بدن جھلس جاتا اور اُس کے پھیلے ہوئے نرم خوبصورت ہاتھ تھر تھرانے

لمحوں کی ڈور

جھیل ڈل کا بغور جائزہ لینے کے بعد یاور ؔ نے مانجھی کو اشارہ کر کے بلایا اور کہا۔ ’’ہمیں جھیل کی سیر کروائوگے۔‘‘ وہ جلدی کرتے ہوئے بو لا۔’’آئیے صاحب بیٹھئے۔میں ساری جھیل گھما لے آوںگااور محنتانہ بھی مناسب ہی لوں گا۔‘‘ اتنے میںبھیڑ لگ گئی ہر ایک مانجھی انھیں اپنی طر ف رجھانے کی کوشش کرتا رہا۔یاورؔ اور شبنمؔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاںاترتے کشتی میں بیٹھ گئے ۔ ’’صاحب مجھے یقین تھا کہ آپ میری ہی کشتی میں بیٹھیں گے، آپ نے مجھے بلایا تھا۔‘‘ ’’مجھے تمہا ری کشتی پسند آئی ۔تم نے خوب سجایا ہے اس کو ۔‘‘ ’’ صاحب!لگتا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔‘‘ اس پر یاور ؔ نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کی چپی دیکھ کر مانجھی کچھ توقف کے بعد پھر بولا۔ ’

خط بنام خالق ِ کائنات

سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں -وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جن سے آپ کی تعریفیں کروں- خط شروع کرتے ہوئے جہاں اپنے اوپر ہنسی آرہی ہے کہ کہاں میں جو اس کائنات میں ایک ریت کے ذرے کی مانند بھی نہیں  اور کہاں آپ جس کی بالادستی پورے عالم پر قائم ہے مگر شرم ساری کے اس عالم میں خط لکھنے کی جرأت کر رہا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ بڑے معاف کرنے والوں میں سے ہیں- گزشتہ مہینوں سے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں- جب اس دنیا میں اپنے وجود کو دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو روتا ہوں- میرے خالق آپ نے تو انسان کو ایک بہترین ساخت سے پیدا کیا تھا- آپ نے ہر انسان کو اس کائنات میں برابر کا درجہ دیا تھا -آپ نے اس کو ذہن دیا تھا کہ وہ آپ کی اس حسین کائنات کا نظارہ کرے اور آپ کی حمد بجا لائے- آپ نے انسان کو انسان کا ہمدرد بنایا تھا مگر اے زمين و آسمان کے حاکم  یہ سب دنیا میں کیا