تازہ ترین

کبریٰ سے کامران تک!

 ہفتہ عشرہ قبل پریس کالونی سری نگر میں اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ ہو ا۔ یہ مظاہرہ مظفر آباد کی اُن بیٹیوں نے کیا جو کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بیاہی گئی ہیں مگر ان کی خرماں نصیبی کہ یہاں یہ بیٹیاں طرح طرح کے خانگی، نفسیاتی اور سماجی مسائل سے دوچار ہیں اور چاہتی ہیں کہ میکہ لوٹ کر اپنے دکھ درد کا بوجھ ہلکا کریں ۔ ان کا ٹھوس شکوہ ہے کہ نہ انہیں ریاست میں مستقل باشندگی کا حق دیا جاتا ہے اورنہ وطن واپسی کا راستہ دیا جاتاہے۔ اس پیچیدہ مخمصے سے دوچار یہ کم نصیب خواتین نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق دو حکومتوں کی عدم شنوائی کے بیچ اٹک کر ذہنی تعذیب میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ سری نگر میں اپنے بچوں سمیت ان کا مظاہرہ کر نا کوئی سیاسی چیستاں نہیں بلکہ محض ایک انسانی مسئلے کی طرف اربا ِبِ اقتدار کی توجہ مبذول کرانے کی چیخ وپکار ہے تاکہ ان کی بپتا سنی جائے ۔ یاد رہے کہ عمر عبداللہ کے دور ِحکومت می