سماجی خدمات رفاہی امور

 یہ  اسلام کا مابہ الامتیاز ہے کہ اس نے نہ صرف فرد کو بلکہ ریاست کو بھی عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے اور حکمرانوں کو مسئول بنایا ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں۔اسلام ابتدا ہی سے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشا رہا ہے ۔اس کی کاوشیں انفرادی ، اجتماعی اور ریاستی و حکومتی سطح تک پھلی ہوئی ہیں۔اسلام میں رفاہِ عامہ اور معاشرتی فلاح و بہبود کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا یہ مذہب خود قدیم ہے یعنی یہاں رفاہی عامہ کا تصور ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور مسلمان مادی منفعتوں سے بالا تر ہوکر ہر دور میں سماجی ومعاشرتی بہبود انسانی کی خاطر مسلسل مصروف عمل رہے ہیں۔ مسلمانوں کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ۔ اس تصور نے ان کی عملی زندگی ہر معاملے مین متحر ک بنا دی تھی ۔ رفاہی کاموں

بے ہودگیوں کے خلاف زیر و ٹالرنس!

ماہ قبل ایک بہن نے ہمیں اپنے گھر چائے کی پیالی پر مدعو کیا۔ یہ محترمہ اپنی بچی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف  تھی۔ باتوں باتوںمیں اُس نے اپنی بچی سے شادی کا سامان مع جیولری ، پارچہ جات اور کاسمیٹک سامان ہمیں دکھانے کے لئے لائے ۔ زیورات اورپارچہ جات دکھانے کے بعد جب کاسمیٹک اشیاء کی نمائش کی گئی جس کے ساتھ مجھے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ، یہ سامانِ آرائش ملٹی نیشنل کمپنیوں اور فارن ایجنسیوں سے خریدا گیا تھا ۔ میں نے دل پہ پتھر رکھ کر یہ پوچھنے کی جرأت کی کہ اس ایک دن کی مصنوعی خوبصورتی کے لئے کتنا خرچہ آیا ہوگا؟ موصوفہ نے اپنی امارت کی دھاک مجھ پر بٹھا تے کہا ’’یہی کوئی ایک لاکھ کے قریب‘‘۔ حسبنا اللہ! پائوں تلے زمین کھسک گئی اور حرف ِ شکایت زبان پر آہی گیا: بیٹا جی ! آپ کے میک اَپ کے خرچے سے ایک غریب لڑکی کی شادی خانہ آبادی ہوجاتی ، اتنی بڑی رقم آپ نے فض

عیدی ۔۔۔ بچوں کی چاندی بڑوں کی شان

 عید  کا موقع دنیا بھر میں مسلمانوں کےلیے خوشی اور مسرت کا پیغام لاتا ہی ہےمگر بچوں میں اس اسلامی تہوار کیا کہنا،اور کیوں نہ ہو ایسا کہ عید تو پہلے بچوں کی ہے، بڑے بھی بچوں کی خوشی میں خوش ہوجاتے ہیں۔ عید میں جہاں بچے نئے جوڑے، نئے جوتے اورموج مستی کرتے ہیں وہاں انہیں عیدی بھی تو دی جاتی ہے۔  مسلم معاشرہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، شمال میں ہو کہ جنوب میں، ہر معاشرے میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہےمگر پوری دنیا کے مسلم معاشروں میں یہ قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو عیدی ضرور دیتے ہیں۔سعودی عرب یا خلیجی ممالک ہوں، پاکستان اور انڈیا ہو یا پھر مصر وشام یا پھر مشرق بعید کے ممالک، ہر ایک میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار نہ صرف مختلف ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں مگر جوچیز زمانے کے ساتھ نہیں بدلی وہ عیدی ہے، ہاں البتہ جدی

صیام کا انعام!

قارئین  کرام ! صیام کریم کا آخری عشرہ بھی اب قریب الاختتام ہورہاہے۔ اس ماہ ِ غفران میں برکات اور رحمتوں کی روح پرور بارشیں نقطہ ٔ عروج پر آ رہی ہیں۔ خوش بخت اور خوش خصال ہیں وہ روزہ دارجس نے رمضان المبارک کا استقبال وَجد وشوق اور جذب وجنوں کے ساتھ کیا ، پھر دن کے صیام اور رات کے قیام سے بدنی عبادات کا حق اداکیا، قرب خداوندی اور خوشنودی ٔرب کالامثال ا نعام پایا، جس نے احتساب ِ نفس اور پاکی ٔ ذات میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، روزہ داری سے حا صل کردہ خلوص و محبت اور نرمی وملائمت کی سوغات آنے والے ماہ وسال میں لٹانے کا مصمم عزم کیا ، جو اشک ِندامت کی بوچھاڑیں کر کے اپنے غلطیوں اور گناہوں کا دامن دُھل کر اپنی لغزشوں کی بخشش کروانے میں کا میاب رہا ، جس نے اپنا د کشکولِ طلب صرف اور صرف اللہ کے حضور ہمہ وقت پھیلاکر اسے اجابت ِدعا سے بھر وا دیا، کام دھندے میں دیانت واَمانت برت کر آذوقہ کمایا

میں کس کے ہاتھ پراپنا لہو تلاش کروں؟

ہر   روز میں بازاروں میں گھسیٹاجاتاہوں۔ ہر شام شامِ غریباں ہوتی ہے۔ ہر صبح نئی صف ِماتم بچھتی  ہے۔ زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔ ایک دنیا میری لاش پر افسوس منانے آتی ہے۔ کچھ  لوگ تصویر بنا کرچلے جاتے اورکچھ لوگ چشمے پہن کر افسوس کر کے چلتے بنتے ہیں۔ کچھ روز میرا نام ہر سَمت گونج اٹھتا ہے اور پھر ایک دم سب ہی بھول جاتے ہیں۔ کیا میں اس قوم کی بچہ نہیں؟ کیا میں اس مٹی سے جُڑا ہوا نہیں؟ کیا ہے میری شناخت؟ کیا تمہیں میرے لہو کی بو نہیں آتی؟ کیا میری چیخیں ایوانوں کے ستون نہیں ہلاتیں؟ کیا تم کو میرے ادھورے خواب نہیں ستاتے؟  ہر روپ میں مَرا ہوں میں۔ کبھی لڑکی بن کر تو کبھی لڑکے کےروپ میں۔ہر گلی سے اٹھایا گیا ہوں میں۔ ہر نالی سے ملی ہے میری لاش۔ اس سَر زمین میں کوئی ایسا کونہ نہیں ہے جس میں چھپ جاؤں میں، جہاں بچ جاؤں میں۔  یوں لگتا ہے کہ سارا جہاں مل ک

یتیموں کی کفالت

لفظ  ’’یتیم‘‘ کتنا عجیب وغریب ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی دل میں احساس محبت جنم لیتا ہے۔ یتیم بچے یا بچی کے لیے ہمارے دل میں محبت اور پیار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے کوئی یتیم نہ ہو۔ اس کا باپ اور ماں سلامت رہیں ۔ یتیم کون ہے؟ یتیم ہر ایسے بچے کو کہتے ہیں جس کا والد اس کے بالغ ہونے سے پہلے وفات پا جائے۔ اسی طرح جس بچے اور بچی کے والد او ر والدہ دونوں اس کے بالغ ہونے سے پہلے وفات پا جائیں انہیں بھی یتیم الابوین کہا جاتا ہے۔ یقینا یہ محبتوں کے زیادہ مستحق ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کی والدہ بچپن میں وفات پا جائے تو اسے بھی یتیم کہا جائے گا کہ اس کی والدہ وفات پا چکی ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے معاشرے کے دبے کچلے اور پسے ہوئے اور محروم لوگوں کو ہمیشہ اوپر اٹھایا ہے۔ ان کے مورال کو بلند کیا ہے۔ ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اولاد سے محبت فطری چی

سیرتِ صحابیات ؓ

روایات   میں آیا ہے کہ عرب کی سب سے امیر اور باوقار خاتون آرام فرما ہوتی ہیں ، خواب میں ایک روح پرور نظارہ دیکھتی ہیں کہ آسمان سے آفتاب ان کے گھر کے آنگن میں اُتر آیا ہے، اس کے نور سے گھر روشن ہے روشنی اور نور اتنا زیادہ ہو تا ہے کہ مکہ مکرمہ کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوتا جو اس نور کی روشنی سے روشن نہ ہوا ہو ۔ اس خوبصورت خواب سے جب وہ بیدار ہوتی ہیں تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو تی ہیں کہ بہت اچھا اور عجیب و غریب خواب ہے ۔انہوں نے اپنے طور پر اِس خواب کی تعبیر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کوئی بھی نتیجہ نہ نکال سکیں، پھر انہیں اپنے چچا زاد بھائی نو فل بن ورقہ کا خیال آیا جو اس دور کا مشہور مسیحی عالم تھا ۔ اپنے خواب کی تعبیر کے سلسلے میں آپ اپنے اِس چچا زاد عالم فاضل شخص کے پاس گئیں اور اپنا خواب سنایا ۔ ورقہ بن نوفل نے توجہ سے خواب سنا تو اس کا چہرہ خوشی سے روشن ہو گیا ۔ وہ بول

اصلاح معاشرہ!

 آج کل سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ تلاطم خیز خبریں آتی رہتی ہیں کہ وادی کشمیر میں کہیں کہیں معصوم بچے اور بچیاں منشیات کی لت میں بہک گئی ہیں۔ اخباری اطلاع ہے کہ ستر ہزار لڑکے اور ساڑھے چار ہزار لڑکیاں اس کربناکی میں مبتلاہے۔ ایک سنسنی خیز انکشاف بھی یوں ہوا ہے کہ ہر روز تین سے چار لاکھ روپے کی منشیات کی اشیاء شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر تک پہنچائی جاتی ہیں اور اسے سکولوں، کالجوں ،ہسپتالوں ، پارکوں اور پولیس اسٹیشنوں کے ارد گرد فروخت کیا جارہا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ یہ زہر خریدنے والے بھی ہم ہیں اور بیچنے والے بھی ہم ہی۔ واقعی ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ کے مصداق صورت حال بنی ہوئی ہے ۔۔ آج سے دس بیس سال قبل معاشرے میں گھرانوں کی اکثریت بہت دیندار اور بااخلاق تھی جب کہ آج ہمارے معصوم وکم سن بچے بچیاں میں  قعر مزلت میں دھنس

رمضان کے مابعد!

 ماہ  صیام کے رعنائیوں میں افطار ،سحری ،تراویح شامل ہیں ۔اس ماہ میں کلمہ خواں خشوع اور خضوع کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ،مساجد کی رونقیں بڑ ھ جاتی ہیں، اذان سنتے ہی لوگ اپناکام دھندا چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑتے ہیں ، پرہیزگار ی اور نیکیوں اک سماں بندھ جاتا ہے ، اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔اس ماہ میں جو لوگ بوجوہ روزے نہیں رکھتے، وہ بھی معاشرے میں اپنے آپ کو بہتر انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا ،فحش کلامی نہ کرنا ،دھوکا نہ دینا، جھوٹ نہ بولنا ،خیرات وصدقات کرنا ، یہ سب اخلاقی امور اس ماہ میں عروج پر ہوتے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ کی برکت ہی ہے برکت ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی بساط کے مطابق زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی کرتے ہیں،رمضان کے شب و روز کی ایک الگ ہی خو

ماں تجھے سلام!

گرمیوں کی ایک دوپہر بچہ اسکول سے گھر لوٹا۔ ماں بچے کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا! جلدی سے کپڑے بدل لو، میں کھانا لاتی ہوں، میرے بیٹے کو بھوک لگی ہوگی۔ بیٹا جلدی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے ہر روز کی طرح سبزی یا دال کی جگہ آج اس کی پسندیدہ ڈش تھی۔ بیٹے نے پوچھا امی! آج یہ سب کچھ کیسے؟ ماں نے کہا، بیٹا! یہ سب کچھ میں نے تمہارے لیے بنایا ہے۔ بچے نے کہا: آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھالیں ۔ بچے کی پسند کا کھانا چونکہ کم تھا اس لیے ماں نے کہا :’’بیٹا میں نے تو کھانا کھا لیا ہے، اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں رہی ، تم اکیلے ہی کھانا کھاؤ ، تمہیں بھوک لگی ہوگی‘‘۔ یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔ بیٹا روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کرگیا۔ بیٹا برتن اٹھا کر جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو

آزادیٔ نسواں ایک فریب

 زمانہ جاہلیت میں عورت ذات پوری دنیا میں بالعموم اور عرب معاشرہ میں بالخصوص کس آزمائش سے گزر رہی تھی؟ ہند میں عورتوں کی کیا حالت تھی؟ عیسائیت میں عورت کے حقوق کی کیا کتر بیونت  ہوئی تھی ؟ یہودیت میں عورت کا کیا بُراحال تھا؟ اس کی تفصیل تاریخ کتابوں میں موجود ہے۔ اس سب کا منصفانہ جائزہ لیجئے تو نظر یہ آئے گا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا میں عورت کو بے وقعتی و ناقدری ، زبوں حالی وکسمپرسی ، ذلت ورسوائی کی پستیوں سے اٹھاکر عزت و تکریم کا وہ مقام دیا جس کی مثال نہ کسی اور مذہب میں اور نہ ہی کسی قانون اور نہ کسی مفکورے میں مل سکتی ہے۔اس موضوع پر دفتر در دفتر  کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے کی چند موٹی موٹی مثالیں پیش خد مت جو یہ بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو آزادی اس سے صنف ِ نازک نے کیسے کیسے فائدہ اٹھایا۔ اسلام کے زیر سایہ اورحیا و پردے کی  زیب وزینت وا

معمولی حادثے کے غیر معمولی نتائج

 ڈاکٹر  خالد الشافعی مصری ہیں اور مصر کے نیشل اکنامکس سٹڈی سنٹر میں منیجر ہیں ۔ ان کی یہ تحریر عربی زبان میں ہے جس کا ارود ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ ا لشافعی کے ایک حادثاتی تجربے سے ہم بھی کچھ سبق لیں۔لکھتے ہیں : اسی گزرے اٹھارہ مارچ کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل تھا کہ میرا توازن بگڑا، گرا اور پاؤں ٹوٹ گیا۔ ہسپتال گیا، ایکسرے کرایا، ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ پاؤں میں ٹخنے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑنے والی ہڈی (پانچویں میٹیٹسل بیس) ٹوٹ گئی ہے۔پاؤں پر پلستر ٹانگ اور گھٹنے کو ملا کر چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر نے نوید سنائی کہ پلستر ڈیڑھ سے دو مہینے تک چڑھا رہے گا۔ میں بڑا حیران۔ یہ ڈاکٹر کہتا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا کنکر میرے پیر کے نیچے آیا تھا۔ نہ کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہے اور نہ ہی میں کسی اونچائی سے گرا ہوں۔ اس دن شام کو گھر واپس پہنچنے پر مجھ پر بہت ساری حقیقتیں کھلنا شر

شادی خانہ آبادی میں تاخیر

شادی بیاہ دو دلوں اور دو نفوس کے بیچ وہ پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور کہیں رشتے ایک ساتھ جنم لیتے ہیں۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر ہے اور بلاوجہ تاخیر سے کی جائے تو کہیں برائیوں کو جنم ملتا ہے۔ شادی کی وساطت سے سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماجی ضرورت نیز مرد و عورت کی تکمیل َذات کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی پوری سعی بھی کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت (مومن) غلام کا بھی، اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بے نیاز بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔&lsq

موبائیل اور ہم لوگ

جب  موبائل نہیں تھا تو زندگی کتنی سکون تھی ‘ ہر چھوٹا بڑا سکون کی نیند سوتا تھا ‘ موبائل کی فراوانی سے انسانی زندگی میںبھونچال آچکا ہے‘ بیوی شوہر سے بیزار اور شوہر بیوی سے کنارہ کش ‘ اولا د ماں باپ سے باغی اور ماں باپ بچوں سے لاپرواہ‘ ہر شخص حالات‘ موسم اور وقت کو بھول کر موبائل کوہاتھوں میں اٹھائے اور سینے سے لگائے یوں پھرتا ہے جیسے زندگی کا سب سے اہم اثاثہ یہی ہو ۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو موبائل کانوں سے لگائے کسی سے جھگڑتی جارہی تھی ‘ چند لمحوں کے بعد وہی خاتون موبائل پر بات کرتے ہوئے ایک قیمتی گاڑی کو ڈرائیوکرتی دکھائی ‘ کچھ ہی دور جا کر اس نے جب مخالف سمت ٹرن لیا تو دوسری جانب سے بھی ایک ایسا ہی شخص سامنے آگیا ،بس پھر کیا تھا ایک دھماکہ ہوا اور دونوں خون میں لت پت تڑپتے دکھائی دئے ۔ایک مرتبہ میں نہ

ماہِ صیام

 رمضان  المبارک کا عظیم الشان مہینہ گزر رہا ہے، جس میں رب کریم کی رحمت و مغفرت کا دریا بہتا ہے۔یہ مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود رحمتیں سموئے ہوئے ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ برکتیں نازل ہو تی ہیں، مسلمانوں کے لئے یہ ماہِ مقدس نیکیوں کی موسلا دھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے،جس میں قرآن کریم کا نزول ہواہے اور قرآن میں اس کانام آیا ہے ۔ رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے‘‘۔( بخاری شریف)۔حدیث شریف میں ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ اس ا

پچھڑے طبقہ جات

 کسی بھی ملک یاریاست کی خوش حالی میں عوام ہی حکومت کے اصل موسس ہوتے ہیں اورحکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق و فرائض ادا کرنے کو اولین ترجیح دے۔ ہمارے ملکی اور ریاستی آئین دونوں ہی اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ حکومت عوام کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی فلاح و بہبود اور ان کی خوشحالی کی اصل ذمہ دار ہے لیکن گزشتہ سات دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ریاست جموں کشمیر کے تقریباً ہر ضلع کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں عوام زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہیں اور عوام کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہماری ریاست کے تقریباً ہر ضلع کے دور دراز اور پہاڑی علاقے جہاں پہ تقریباً 60 سے ستر فیصد آبادی گجر بکروال اور پہاڑی طبقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ آج اکیسویں صدی میں بھی تعلیم جس کو ہر مسئلے اور مشکل کے حل کی سرٹیفیکٹ کا درجہ حاصل ہے ، یہ آبا

اور طلاق کو طلاق ملی!

صاحب   یہ نسخہ شادی شدہ ہی لوگوں کے لیے کیا یہ تو پولیو ڈراپ جیسا ہے جسے ہر مرد وزن بچے کو پینا پلانا چاہیے تاکہ رشتے لُولے لنگڑے نہ ہونے پائیں۔شیخ راغب نے اپنی بیوی نجیہ کو طلاق دے دی، طلاق کے بعد انہوں نے بیوی سے کہا : تم اپنے گھر چلی جاؤ۔ بیوی بولی : میں ہرگز گھر نہیں جاؤں گی، اب اس گھر سے میری لاش ہی نکلے گی۔ شیخ راغب بولے: میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں، اب مجھے تمہاری حاجت نہیں، چلی جاؤ میرے گھر سے بیوی بولی : میں نہیں جاؤں گی، آپ مجھے گھر سے نہیں نکال سکتے جب تک میں عدت پوری نہ کر لوں، تب تک میرا خرچ بھی آپ کے ذمے ہے۔ شیخ راغب بولے : یہ تو ڈھٹائی ہے، جسارت ہے، بے شرمی ہے۔ بیوی بولی : آپ اللہ سے زیادہ ادب سکھانے والے تو نہیں ہے، کیا آپ نے اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: اے نبی! ( اپنی امت سے کہیں کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی ع

آغوشِ مادر…درسگاہِ فطرت

 بچے  کی زندگی کے ابتدائی دو سال اس کی صحت اور تندرستی کے بنیادی ایام ہیں۔ ان ایام میں اگر اسے مناسب طریقہ سے دودھ پلایا جائے‘ اسے ورزش کرائی جائے‘ اسے غسل‘ نیند‘ سیر ‘ دھوپ وغیرہ تمام حوائج ضروریہ سے مناسب حصہ دیا جائے تو ایسا بچہ زندگی کی آئندہ کٹھن منزلوں کو بخیر و خوبی طے کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ پیدائش کے چھ گھنٹہ بعد سے بچہ کو ماں کا دودھ پلایا جائے۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ دس منٹ کی مدت دودھ پلانے کیلئے کافی ہے اور ایک بار میں صرف ایک ہی چھاتی سے دودھ پلایا جائے۔ دوسرے موقع پر دوسری چھاتی سے‘ اسی طرح سے تبدیل کر کے دودھ پلانا مفید رہتا ہے۔ جب بچہ دودھ پی رہا ہو تو اسے جگائے رکھنا ضروری ہے۔ جن عورتوں کو دودھ زیادہ آتا ہے لیکن بچہ دودھ نہیں پیتا تو دودھ بستہ ہو کر چھاتیوں میں گٹھلیاں بن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ چھاتیوں میں بچے کیلئے ک

یہ کیساآیاز مانہ؟

 پچھلے   دنوں ایک پروقار رسم منگنی کی تقریب میں ایک نوجوان دوست سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو نوجوان نے کہا کہ ہمیں بغیر جہیز اور سادگی سے نکاح کرنا ہےاور ہم اس بات پر اپنے نوجوان دوستوں کو بھی آمادہ کریں گے کہ وہ بھی سادگی سے اور بغیر کسی خرافات وبدعات کے نکاح کریں۔طبیعت بڑی خوش ہوتی ہے جب ملت کے حساس نوجوان طبقہ کی جانب سے ایسے نیک عزائم کا اظہار ہوتا ہے اور اس طرح کے عزائم واقعی میں قابلِ تعریف ہیں ۔ یقیناً بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح کے خرافات کا خاتمہ ہو نا چاہیے ۔ آج کے مادہ پرست اور فیشن زدہ ماحول میں پرورش پارہے ملت کے نوجوان طبقہ کی طرف سے یہ خوش خبریاں روز کہیں کہیں سے آرہی ہے جو ہمیں زندگی جینے کی امید دلاتے ہیں ۔  جہیز واقعی ایک لعنت ہے اور سماجی ناسور بھی۔ اس کی وجہ سے قوم کی لکھوکھا بیٹیاں بالوں میں چاندی لئے رشتوں کی منتظر بیٹھی ہے۔ معاشرے میں کسی

میرے ابو!

 نصیب  والی ہے وہ بیٹی جس کے سر پر والدین کا سایہ تادیر قائم رہے اور خوش قسمت ہے وہ نواسہ ، نواسی جن کا بچپن نانا، نانی کی گود میں گزرے۔ وہ بے لوث محبت جس کا کوئی بدل نہیں، وہ انمول شئے جس کا کوئی بدل نہیں۔ میرے مرحوم ابو کی زندگی اور اُن سے جڑی زریں یادیں ایک کارواں کی صورت میں ہمیشہ میرے ہم سفر ہیں ۔ یہ پاکیزہ یادیں میرے ساتھ میرے تمام اہل خانہ کے لئے اساس ِحیات ہیں ۔بہر حال اللہ کی مرضی کے سامنے ہماری خواہشیں ہیچ ہیں۔ ہمارے والد ماجد۔۔۔ منظور الفتح وانی صاحب آف پٹن کشمیر۔۔۔ کو اس دارفانی سے وداع لئے ہوئے چھ سال گزر گئے مگر یہ وقفہ بالکل ہی مختصر محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے کہ جیسے گزشتہ کل کی ہی تو بات ہو کیونکہ ان کی سب یادیں ہمارے سامنے ترو تازہ ہیں اوران کی پر چھائیاں ہمارے آگے پیچھے، دائیں بائیں محسوس ہوتی ہیں ۔  اُن کے دنیا چھوڑنے کا رنج و غم ، اس درد سے ملا

تازہ ترین